Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

حیدرآبادی دم بریانی کی طرح تلک ورما کی بیٹنگ، دباؤ میں اسکے تحمل صبر ضبط نے ایک بار پھر بھارت کو فتح دلا دی

حیدرآبادی دم بریانی کی طرح تلک ورما کی بیٹنگ، دباؤ میں اسکے تحمل صبر ضبط نے ایک بار پھر بھارت کو فتح دلا دی

کرائسٹ چرچ: بھارت کے نوجوان بلے باز تلک ورما نے نیوزی لینڈ کے خلاف کرائسٹ چرچ میں دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ناقابلِ شکست نصف سنچری بنا کر ثابت کیا کہ کرکٹ میں کامیابی کے لیے صرف جارحانہ آغاز ہی نہیں، بلکہ درست وقت پر رفتار بڑھانے کا ہنر بھی ضروری ہے،ان کی 26 گیندوں پر 51 رنز کی اننگز کی بدولت بھارت نے 181 رنز کا ہدف ایک گیند قبل چھ وکٹوں کے نقصان پر حاصل کر لیا اور پانچ میچوں کی سیریز میں 2-0 کی برتری حاصل کر لی
بھارت کی اننگز ایک مشکل مرحلے سے گزر رہی تھی،نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے چار وکٹیں حاصل کرکے بھارتی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا تھا،ایک موقع پر بھارت کے پانچ کھلاڑی صرف 70 رنز پر آؤٹ ہو چکے تھے، جبکہ بعد میں اسکور 112 رنز پر چھ وکٹوں تک پہنچ گیا،آخری تین اوورز میں بھارت کو 46 رنز درکار تھے اور میچ میزبان ٹیم کے حق میں جاتا دکھائی دے رہا تھا
تلک ورما نے ابتدا میں جلد بازی سے گریز کیا،وہ 13 گیندوں پر 17 رنز بنا کر کھیل رہے تھے، لیکن پھر انہوں نے اپنے شاٹس کا دائرہ وسیع کیا اور نیوزی لینڈ کے فاسٹ بولروں پر حملہ کر دیا،نتیش کمار ریڈی نے بھی بھرپور ساتھ دیا،دونوں نے ساتویں وکٹ کے لیے صرف 30 گیندوں پر ناقابلِ شکست 69 رنز کی شراکت قائم کرکے میچ بھارت کے حق میں کر دیا،ریڈی نے 13 گیندوں پر 26 رنز بنائے
تلک نے میچ کے بعد بتایا کہ وہ مقابلے کو آخری مراحل تک لے جانا چاہتے تھے اور انہیں اپنے اوپر اعتماد تھا کہ وہ اختتام پر مطلوبہ رنز بنا سکتے ہیں،ان کے مطابق کوچ گوتم گمبھیر اور بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے میچ سے پہلے انہیں یقین دلایا تھا کہ اگر وہ آخر تک کریز پر موجود رہے تو بھارت کو فتح دلا سکتے ہیں،تلک نے کہا کہ اسپنروں کے خلاف تیز رنز بنانے کے بجائے انہوں نے خالی جگہوں میں شاٹس کھیلنے اور تیزی سے دوڑ کر رنز لینے پر توجہ دی، جبکہ فاسٹ بولروں کے خلاف بڑے شاٹس کے لیے مناسب وقت کا انتظار کیا
دباؤ میں میچ ختم کرنے کی یہ صلاحیت تلک کے لیے نئی نہیں،گزشتہ سال ایشیا کپ کے فائنل میں پاکستان کے خلاف بھی انہوں نے ناقابلِ شکست 69 رنز بنا کر بھارت کو فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا،انگلینڈ کے خلاف جنوری 2025 میں چنئی کے میدان پر 72 رنز کی اننگز کھیل کر انہوں نے مشکل ہدف کے تعاقب میں ٹیم کو سنبھالا تھا،رواں سال ایشیائی کھیلوں کے فائنل میں بھی انہوں نے 22 گیندوں پر 51 رنز بنائے،ان مختلف مقابلوں میں مشترک بات یہ رہی کہ انہوں نے حالات کو سمجھنے کے بعد اپنی رفتار بڑھائی اور آخری مرحلے میں میچ کا نقشہ بدل دیا
تلک کی حالیہ کارکردگی نے بھارت کی ٹیم میں ان کے بیٹنگ نمبر پر بھی بحث چھیڑ دی ہے،وہ تیسرے نمبر پر بھی کھیل چکے ہیں، لیکن پانچویں اور چھٹے نمبر پر ان کی صلاحیت زیادہ نمایاں ہو رہی ہے، جہاں وہ اننگز کی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد آخری اوورز میں تیز رفتاری سے رنز بنا سکتے ہیں،2026 میں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے آخری پانچ اوورز میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 231.52 رہا ہے، جو اختتامی مرحلے میں ان کی جارحانہ صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے
حیدرآباد کی دم بریانی کی مثال اسی لیے موزوں ہے کہ اس کا ذائقہ جلد بازی کے بجائے مناسب وقت، مسلسل آنچ اور صبر سے نکھرتا ہے،تلک ورما کی بیٹنگ میں بھی یہی اصول دکھائی دیتا ہے،وہ ہر گیند پر بڑا شاٹ کھیلنے کے بجائے موقع کا انتظار کرتے ہیں اور جب حملے کا وقت آتا ہے تو چند اوورز میں میچ کا رخ بدل دیتے ہیں،کرائسٹ چرچ میں ان کی اننگز نے بھارت کو فتح دلانے کے ساتھ یہ بھی واضح کیا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں تحمل اور درست وقت پر جارحیت، دونوں کامیابی کے اہم ہتھیار ہیں

قومی خبریں سے مزید