سربیا میں طلبہ کی انتخابی مہم، ووچیچ کے 14 سالہ اقتدار کو چیلنج
سربیا میں تقریباً دو سال قبل ریلوے اسٹیشن پر چھت کا کنکریٹ کا سائبان گرنے سے 16 افراد کی ہلاکت کے بعد شروع ہونے والی طلبہ کی بدعنوانی مخالف تحریک اب انتخابی میدان میں اتر گئی ہے،طلبہ کی حمایت یافتہ تحریک نے 250 امیدواروں پر مشتمل فہرست پیش کی ہے، جن میں بیشتر کو انتخابی سیاست کا پہلے کوئی تجربہ نہیں، اور اس کا مقصد سربیا کی ترقی پسند جماعت کے 14 سالہ اقتدار کو ختم کرنا ہے
سربیا میں آج، 25 اکتوبر کو، قبل از وقت پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں،یہ انتخابات صدر الیگزینڈر ووچیچ کی طویل سیاسی بالادستی کے لیے اب تک کا بڑا امتحان سمجھے جا رہے ہیں،طلبہ کی تحریک نومبر 2024 میں شمالی شہر نووی ساد کے ریلوے اسٹیشن پر حادثے کے بعد شروع ہوئی تھی،مظاہرین نے حادثے کو تعمیراتی منصوبوں میں مبینہ بدعنوانی اور بے ضابطگیوں سے جوڑا اور ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ کیا،اس کے بعد احتجاج ملک بھر میں پھیل گیا
طلبہ نے روایتی سیاسی جماعتوں سے الگ رہتے ہوئے اساتذہ، جامعات کے پروفیسروں، ڈاکٹروں، فنکاروں، کسانوں اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو امیدوار نامزد کیا ہے،ان کی انتخابی مہم کا مرکزی نعرہ بدعنوانی کا خاتمہ، قانون کی حکمرانی اور سرکاری اداروں کی اصلاح ہے،تحریک نے کسی ایک مرکزی رہنما کے بجائے اجتماعی قیادت کا طریقہ اختیار کیا ہے،اس فہرست کی قیادت ماہرِ امراضِ قلب اور نووی ساد یونیورسٹی کے پروفیسر ایلیا سردانووچ کر رہے ہیں
ووچیچ نے ستمبر میں صدارت سے استعفیٰ دے کر وزارتِ عظمیٰ کے لیے انتخابی مہم شروع کی،وہ 2012 سے اقتدار میں رہنے والی سربیا کی ترقی پسند جماعت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،ان کے حامی سڑکوں، ریلوے، اسپتالوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کو حکومت کی کامیابی قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالفین بدعنوانی، ذرائع ابلاغ پر حکومتی اثر و رسوخ اور جمہوری اداروں کی کمزوری کے الزامات لگاتے ہیں،حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے
انتخابی جائزوں میں نتائج کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے،جمعرات کو شائع ہونے والے ایک آئیپسوس سروے میں حکمران جماعت کو 47 فیصد اور طلبہ کی فہرست کو 40 فیصد حمایت حاصل تھی، تاہم دوسرے جائزوں میں طلبہ کی تحریک کو برتری حاصل دکھائی گئی ہے،اس لیے مقابلے کا نتیجہ غیر یقینی ہے،انتخابات کے بعد نتائج پر تنازعئ اور سیاسی کشیدگی بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے
سربیا کی سیاست میں اس انتخاب کی اہمیت داخلی معاملات سے آگے بھی ہے،ووچیچ نے یورپی یونین میں شمولیت کی خواہش برقرار رکھتے ہوئے روس اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات بھی قائم رکھے ہیں،طلبہ کی تحریک نے اپنی مہم میں بنیادی طور پر بدعنوانی اور ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دی ہے، جبکہ خارجہ پالیسی کے بارے میں اس کا مؤقف نسبتاً کم واضح ہے





