Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان سمیت 7 ممالک کا ایران پر نئے امریکی اسرائیلی حملے کی مخالفت، خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ

پاکستان سمیت 7 ممالک کا ایران پر نئے امریکی اسرائیلی حملے کی مخالفت، خطے میں جنگ پھیلنے کا خدشہ

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایک نئے فوجی حملے کے امکانات بڑھنے پر پاکستان سمیت مشرق وسطیٰ کے اہم مسلم ممالک اور یورپی طاقتوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کسی نئی جنگ سے گریز کرنے پر زور دیا ہے ان ممالک کا مؤقف ہے کہ خطے میں مزید فوجی کارروائی سے نہ صرف انسانی جانوں کا نقصان بڑھے گا بلکہ تیل کی قیمتوں، عالمی تجارت اور معاشی استحکام پر بھی سنگین اثرات مرتب ہوں گے
ترکیہ کے شہر استنبول میں پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، برطانیہ، جرمنی اور فرانس کے وزرائے خارجہ نے عالمی تنازعات، خصوصاً ایران اور یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔ اٹلی نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی یہ ملاقات ’’آر 4 پلس ای 3‘‘ کے نام سے ہونے والے سفارتی رابطوں کے تحت منعقد ہوئی
ترکیہ کے وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں کوئی بھی ملک ایران میں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتا فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں پہلے ہی بلند توانائی قیمتوں کے باعث عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، اس لیے نئی جنگ کے اثرات کئی خطوں تک پھیل سکتے ہیں
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملے کے امکانات کے بارے میں تشویش اس وقت بڑھی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور فوجی کارروائی کا امکان ظاہر کیا ان کے بیان میں ’’ایپک فیوری‘‘ نام استعمال کیا گیا، جو امریکہ نے فروری 2026 میں ایران کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کے لیے استعمال کیا تھا امریکی ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق نئی کارروائی امریکی وسط مدتی انتخابات، جو 3 نومبر کو ہونے ہیں، کے بعد شروع کیے جانے کا امکان زیر بحث ہے، تاہم اس سے پہلے حملے کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا
امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوجی دستے اور جنگی سازوسامان بھیج رہا ہے اطلاعات کے مطابق امریکی اور اسرائیلی افواج نے ممکنہ حملے کی تیاریوں کی مشقیں بھی کی ہیں اسرائیل کی قیادت ایران کے خلاف مزید کارروائی کی حامی دکھائی دیتی ہے، لیکن یہ ابھی واضح نہیں کہ کوئی نیا حملہ کب اور کس نوعیت کا ہوگا
ایران اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی کی جڑیں کئی برس پرانی ہیں اکتوبر 2024 میں اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، اس کے بعد جون 2025 اور فروری 2026 میں بھی ایران کے خلاف بڑے فوجی آپریشن ہوئے ان کارروائیوں سے ایران کی فوجی صلاحیت اور قیادت کو نقصان پہنچا، لیکن ایران نے اپنی دفاعی صلاحیت دوبارہ منظم کی اور جوابی کارروائیاں بھی کیں ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو اس مرتبہ بھی جواب دیا جائے گا اور کارروائیوں کا دائرہ پہلے سے زیادہ وسیع ہو سکتا ہے
نئی جنگ کا خطرہ صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گا خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈے اور تنصیبات موجود ہیں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ان تنصیبات کی میزبانی کرنے والے ممالک بھی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں اس کے علاوہ آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر اہم سمندری راستوں میں کشیدگی سے تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے ان راستوں کے ذریعے دنیا کی توانائی کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے
تیل کی ترسیل میں رکاوٹ آنے سے قیمتیں بڑھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے پاکستان جیسے ممالک، جو اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدات سے پورا کرتے ہیں، ایسی صورت حال میں مزید معاشی دباؤ کا سامنا کر سکتے ہیں اسی طرح یورپی اور ایشیائی معیشتیں بھی توانائی کی مہنگائی اور تجارتی رکاوٹوں سے متاثر ہو سکتی ہیں
مسلم ممالک اور یورپی طاقتوں کی سفارتی کوششوں کا مقصد یہی ہے کہ ایران کے خلاف کسی نئی جنگ کو روکا جائے اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پہلے ہی جنگوں، نقل مکانی، تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے اور معاشی مشکلات سے گزر رہے ہیں ایک اور بڑی جنگ ان ممالک کی تعمیر نو اور معاشی بحالی کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے
اس صورت حال میں پاکستان کا کردار بھی اہم ہے سعودی عرب، ایران اور دیگر علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے کی وجہ سے پاکستان سفارتی رابطوں اور کشیدگی میں کمی کی کوششوں میں حصہ لے سکتا ہے تاہم کسی بھی نئی جنگ کے دوران پاکستان کو توانائی کی قیمتوں، علاقائی سلامتی اور اپنی خارجہ پالیسی کے درمیان توازن برقرار رکھنا ہوگا
بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا واشنگٹن اور تل ابیب اپنے فوجی منصوبوں پر نظرثانی کریں گے یا خطے کو ایک اور تصادم کی طرف لے جائیں گے ماضی کے حملوں کے باوجود ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کی صلاحیت برقرار رہنے اور خلیجی ممالک میں امریکی تنصیبات کی موجودگی کے باعث کسی نئی جنگ کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہے سفارتی حلقوں کی تشویش یہی ہے کہ مزید فوجی کارروائی مسئلے کو حل کرنے کے بجائے تنازع کو وسیع کر سکتی ہے

قومی خبریں سے مزید