Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کے سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا سے دفاعی معاہدے، اسلحے کی مشترکہ تیاری اور 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف

پاکستان کے سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا سے دفاعی معاہدے، اسلحے کی مشترکہ تیاری اور 1.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف

پاکستان نے ستمبر 2025 سے عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ اپنے دفاعی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے متعدد معاہدے کیے ہیں، جن کا مقصد صرف اسلحہ خریدنا یا فروخت کرنا نہیں بلکہ جدید دفاعی ٹیکنالوجی حاصل کرنا، مشترکہ طور پر ہتھیار تیار کرنا اور ملکی دفاعی صنعت میں غیر ملکی سرمایہ کاری لانا بھی ہے ان معاہدوں میں سعودی عرب کے ساتھ اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ، سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، کویت کے ساتھ دفاعی معاہدہ اور پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان بدر دفاعی تعاون کا معاہدہ شامل ہیں
پاکستان کے لیے ان معاہدوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ خطے میں دفاعی اخراجات اور جدید ہتھیاروں کی خریداری میں اضافہ ہو رہا ہے ان معاہدوں کے تحت مشترکہ دفاعی پیداوار اور دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری کی گنجائش رکھی گئی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان مستقبل میں دوسرے ممالک سے تیار شدہ ہتھیار خریدنے کے بجائے ان کی تیاری میں شراکت دار بننے اور اپنی صنعت میں جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے کی کوشش کر رہا ہے
پاکستان کی اس حکمت عملی کے پیچھے 4 اہم مقاصد ہیں۔ پہلا مقصد بھارت کے مقابلے میں اپنی دفاعی صلاحیت کو جدید بنانا ہے مضمون کے مطابق بھارت کا دفاعی بجٹ 80 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکا ہے اور وہ جدید جنگی نظام تیزی سے اپنی فوج میں شامل کر رہا ہے پاکستان مشترکہ پیداوار کے ذریعے تحقیق اور ترقی کے بھاری اخراجات کا بوجھ اکیلے اٹھائے بغیر اپنی دفاعی صنعت کو بہتر بنانا چاہتا ہے اس حکمت عملی میں پرزوں اور دفاعی نظام کے مختلف حصوں کی پاکستان میں تیاری بھی شامل ہے، جس سے بیرون ملک سے سامان منگوانے پر انحصار کم ہو سکتا ہے
دوسرا مقصد دفاعی سامان کے لیے مختلف ممالک پر مشتمل سپلائی نظام قائم کرنا ہے پاکستان طویل عرصے سے چین سے بڑی مقدار میں دفاعی سازوسامان حاصل کرتا رہا ہے مضمون میں اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے ہتھیاروں کی درآمد میں چین کا حصہ تقریباً 80 فیصد ہے چین پاکستان کا اہم دفاعی شراکت دار ہے، لیکن ایک ہی ملک پر زیادہ انحصار کی صورت میں سیاسی اختلافات، برآمدی پابندیوں یا سپلائی میں رکاوٹوں سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں
اسی لیے پاکستان سعودی عرب اور قطر کے مالی وسائل کو ترکیہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور اپنی صنعتی صلاحیت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے اس انتظام کے ذریعے پاکستان دفاعی پیداوار کے لیے متبادل ذرائع حاصل کر سکتا ہے اور امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اپنی پالیسی کے لیے مزید گنجائش پیدا کر سکتا ہے تاہم اس حکمت عملی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاہدوں کے نتیجے میں پاکستان کو حقیقتاً کتنی ٹیکنالوجی اور مقامی پیداوار کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے
تیسرا مقصد دفاعی برآمدات میں اضافہ اور ملکی معیشت کے لیے زرمبادلہ حاصل کرنا ہے مضمون میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی سرکاری دفاعی برآمدات 2024 میں تقریباً 28 کروڑ ڈالر تھیں۔ان معاہدوں کے ذریعے یہ برآمدات 2027 تک 65 کروڑ سے 70 کروڑ ڈالر تک پہنچانے اور 2030 تک ایک ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ اہداف ہیں، حاصل شدہ نتائج نہیں
خلیجی ممالک پاکستان کے لیے دفاعی سامان کی برآمدات کی ایک اہم منڈی بن سکتے ہیں ان ممالک کی دلچسپی بھی اس بات میں ہے کہ وہ مغربی ممالک سے اسلحہ خریدنے پر اپنا انحصار کم کریں اور نسبتاً کم قیمت پر قابل اعتماد دفاعی نظام حاصل کریں اگر مشترکہ منصوبوں کے ذریعے ایسے نظام تیار کیے گئے جو ان ممالک کی ضروریات پوری کرتے ہوں تو پاکستان کو نئی منڈیاں مل سکتی ہیں افریقہ اور وسطی ایشیا کے بعض ممالک بھی نسبتاً کم قیمت دفاعی سامان کے ممکنہ خریدار ہو سکتے ہیں
چوتھا مقصد پاکستان کی دفاعی صنعت میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری لانا ہے مضمون کے مطابق اگلے 5 برسوں میں دفاعی پیداوار کے منصوبوں، کارخانوں، آزمائشی مراکز اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی تیاری کے لیے 1.2 ارب سے 1.5 ارب ڈالر کی ممکنہ سرمایہ کاری کے ابتدائی وعدے سامنے آئے ہیں اس رقم کو مکمل طور پر حاصل شدہ سرمایہ کاری نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس کا انحصار منصوبوں پر عملی پیش رفت اور سرمایہ فراہم کرنے والے شراکت داروں کے فیصلوں پر ہوگا
اگر یہ سرمایہ کاری عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف دفاعی اداروں تک محدود نہیں رہیں گے الیکٹرانکس، دھات سازی، سافٹ ویئر اور دیگر متعلقہ صنعتوں کو بھی کام مل سکتا ہے جدید کارخانوں اور دفاعی نظاموں کی تیاری کے لیے انجینئرز، تکنیکی ماہرین اور تربیت یافتہ کارکنوں کی ضرورت ہوگی، جس سے اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں
تاہم ان معاہدوں کے سامنے اہم سوالات بھی موجود ہیں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی کی حقیقی منتقلی ہوگی یا وہ صرف دوسرے ممالک کے ہتھیاروں کے کچھ حصے تیار کرنے تک محدود رہے گا دفاعی پیداوار میں مشترکہ شراکت داری اور مکمل ٹیکنالوجی کی منتقلی دو مختلف چیزیں ہیں اگر اہم ڈیزائن، سافٹ ویئر، انجن اور جدید نظاموں کی تیاری کا اختیار دوسرے ملکوں کے پاس ہی رہا تو پاکستان کا انحصار مکمل طور پر ختم نہیں ہوگا
دوسرا خطرہ یہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے دفاعی تنازعات میں پاکستان کی شمولیت بڑھ سکتی ہے سعودی عرب اور دوسرے شراکت داروں کے ساتھ دفاعی تعلقات پاکستان کے لیے مالی اور صنعتی مواقع پیدا کر سکتے ہیں، لیکن مختلف ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھنے کی صورت میں پاکستان پر سیاسی یا فوجی ذمہ داریاں بھی عائد ہو سکتی ہیں۔ اس لیے دفاعی تعاون کو پاکستان کے قومی مفادات، قانونی تقاضوں اور واضح پالیسی حدود کے مطابق آگے بڑھانا ضروری ہوگا
مجموعی طور پر ان معاہدوں کا بنیادی تصور پاکستان کو صرف اسلحہ خریدنے والے ملک سے دفاعی ٹیکنالوجی تیار کرنے، مشترکہ پیداوار کرنے اور برآمدات بڑھانے والے شراکت دار میں تبدیل کرنا ہے اگر سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی پیداوار کے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو پاکستان کی دفاعی صنعت اور معیشت دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے لیکن اصل کامیابی کا اندازہ معاہدوں کی تعداد سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ پاکستان کتنی ٹیکنالوجی خود تیار کرنے کے قابل بنتا ہے، کتنی نئی برآمدات حاصل کرتا ہے اور بیرونی ممالک پر اپنے انحصار کو کس حد تک کم کر پاتا ہے

قومی خبریں سے مزید