Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل میں عرب جماعتوں کا نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اتحاد، انتخابات میں فیصلہ کن کردار کا امکان

اسرائیل میں عرب جماعتوں کا نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے لیے اتحاد، انتخابات میں فیصلہ کن کردار کا امکان

اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل عرب اکثریتی سیاسی جماعتوں نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کے مشترکہ مقصد کے تحت تعاون پر آمادگی ظاہر کر دی ہے اگر انتخابات میں مقابلہ سخت رہا تو عرب جماعتیں حکومت سازی میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ ان کی نشستیں نیتن یاہو کے مخالف اتحاد کو پارلیمان میں اکثریت حاصل کرنے میں مدد دے سکتی ہیں
اسرائیل کی عرب آبادی ملک کی مجموعی آبادی کا تقریباً 21 فیصد ہے انہیں اسرائیلی فلسطینی شہری بھی کہا جاتا ہے ان میں ایسے فلسطینی خاندانوں کی نسلیں شامل ہیں جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد نئی ریاست کی حدود میں رہ گئے تھے عرب شہری طویل عرصے سے امتیازی سلوک کی شکایات کرتے آئے ہیں، جبکہ اسرائیلی سیاست میں دائیں بازو کی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے عرب اقلیت میں اپنے مستقبل اور معاشرتی مقام کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھایا ہے
انتخابات میں عرب ووٹروں کی نمائندگی 2 سیاسی اتحادوں کے ذریعے ہو رہی ہے ان میں پہلی جماعت رعم ہے، جسے متحدہ عرب فہرست بھی کہا جاتا ہے اس جماعت کی قیادت منصور عباس کر رہے ہیں اور اس کا تعلق نسبتاً معتدل اسلامی سیاسی رجحان سے ہے منصور عباس نے 2021 میں نیتن یاہو کے مخالفین کے ساتھ مل کر حکومت سازی میں حصہ لیا تھا اس فیصلے کے نتیجے میں رعم اسرائیل کی حکومت میں شامل ہونے والی پہلی عرب جماعت بنی تھی، تاہم یہ اتحادی حکومت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکی
دوسرا اتحاد جوائنٹ لسٹ ہے، جس کی قیادت یوسف جبارین کر رہے ہیں اس اتحاد میں 3 جماعتیں شامل ہیں، جن کے سیاسی نظریات میں بائیں بازو، کمیونزم اور فلسطینی قوم پرستی کے رجحانات پائے جاتے ہیں دونوں عرب سیاسی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے مخالفین کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہوں گی
عرب جماعتوں کی خاص توجہ نیتن یاہو کے اہم سیاسی حریف گادی آئزن کوٹ کے اتحاد کے ساتھ ممکنہ تعاون پر ہے انتخابات سے پہلے ہونے والے جائزوں میں آئزن کوٹ کا اتحاد اور نیتن یاہو کا سیاسی کیمپ ایک دوسرے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں ایسی صورت حال میں عرب جماعتوں کی حاصل کردہ نشستیں حکومت سازی کا رخ متعین کر سکتی ہیں
اسرائیل کی پارلیمان میں 120 نشستیں ہیں اور حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے اگر کسی بڑے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملی تو عرب جماعتوں کی نشستیں نیتن یاہو کے مخالفین کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہیں تاہم اس کا انحصار انتخابی نتائج، جماعتوں کے درمیان سیاسی سمجھوتوں اور عرب قیادت کی طے کردہ شرائط پر ہوگا۔ عرب جماعتوں کا حکومت میں شامل ہونا بھی ابھی یقینی نہیں ہے
اس انتخابی مقابلے کی اہمیت صرف حکومت کی تبدیلی تک محدود نہیں اسرائیل کے عرب شہریوں کے لیے امتیازی سلوک، مساوی حقوق، معاشرتی تحفظ اور سیاسی نمائندگی اہم مسائل ہیں عرب جماعتیں نیتن یاہو کی حکومت کو دائیں بازو کی ایسی سیاست کی علامت سمجھتی ہیں جو ان کے بقول عرب اقلیت کے مفادات اور حقوق کو نقصان پہنچاتی ہے اسی لیے ان کی انتخابی حکمت عملی کا ایک اہم مقصد اسرائیلی سیاست کو زیادہ سخت گیر دائیں بازو کے رجحان سے دور لے جانا ہے
دوسری جانب عرب جماعتوں کے لیے یہ بھی ایک سیاسی آزمائش ہے کہ آیا وہ اپنے ووٹروں کے مطالبات کو عملی اقدامات میں تبدیل کر سکتی ہیں یا نہیں۔ 2021 میں رعم کی اتحادی حکومت میں شمولیت نے ثابت کیا تھا کہ عرب جماعتیں حکومت سازی میں حصہ لے سکتی ہیں، لیکن اس تجربے کے مختصر دورانیے نے ان کے لیے سیاسی تعاون کی حدود بھی واضح کی تھیں
27 اکتوبر کے انتخابات میں عرب جماعتیں خود حکومت کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں نہ بھی ہوں، تب بھی وہ ایسی نشستیں حاصل کر سکتی ہیں جو کسی بڑے اتحاد کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں اگر مقابلہ آخری وقت تک برابر رہا تو ان کا کردار مزید اہم ہو جائے گا تاہم نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کا مشترکہ ہدف انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں، کیونکہ اصل فیصلہ ووٹوں کی گنتی اور پارلیمان میں اکثریت بنانے کی صلاحیت کرے گی

قومی خبریں سے مزید