بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان لاہور کی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے خواہش مند، مودی حکومت سے اجازت ملنے پر شک
بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے لاہور میں ہونے والی عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے، تاہم انہیں شک ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم بھارتی حکومت انہیں پاکستان آنے کی اجازت دے گی ان کا کہنا ہے کہ دونوں جانب کے پنجابیوں کی جڑیں، زبان اور ثقافت مشترک ہیں اور انہیں ایک دوسرے سے رابطے اور میل جول کے مواقع ملنے چاہییں
بھگونت مان نے بھارتی پنجاب کی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں فرانس اور جاپان جیسے ممالک کے دوروں کی بھی اجازت نہیں ملتی، تو پاکستان آنے کی اجازت کیسے ملے گی؟ ان کا یہ بیان نئی دہلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اور بھارتی پنجاب کی ریاستی قیادت کے درمیان اختیارات اور سیاسی اختلافات کے تناظر میں سامنے آیا ہے
بھگونت مان نے بتایا کہ وہ خود بھی لاہور میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ سرحد کے دونوں جانب رہنے والے پنجابیوں کی جڑیں ایک ہیں اور ان کے مسائل بھی بہت حد تک مشترک ہیں انہوں نے پاکستانی پنجابی شاعر تجمل کلیم کے اشعار بھی پڑھے اور بتایا کہ انہوں نے پاکستانی شاعر بابا نجمی سے گفتگو کی تھی، جن کی جانب سے انہیں کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملی
یہ کانفرنس 27 سے 29 نومبر تک لاہور میں منعقد ہونا طے ہے۔ اس میں بھارتی پنجاب کے متعدد شعرا کی شرکت بھی متوقع ہے بھگونت مان نے ثقافتی روابط کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب کے لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ میل جول بڑھانے کا موقع ملنا چاہیے
بھارتی پنجاب اسمبلی کے اسپیکر کلتار سنگھ سندھواں نے بھگونت مان کی بات پر دلچسپ ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت مل جائے تو وہ اسمبلی کے دیگر ارکان کو بھی اپنے ساتھ لے جائیں اسمبلی میں موجود بعض دیگر ارکان نے بھی اس تجویز کی حمایت کی، جس سے ظاہر ہوا کہ سرحد کے دونوں جانب ثقافتی رابطوں کے موضوع کو سیاسی اختلافات سے الگ دیکھنے کی خواہش موجود ہے
بھگونت مان نے سکھ مذہب کے مقدس مقام گردوارہ دربار صاحب کرتارپور تک رسائی کے لیے قائم کرتارپور راہداری دوبارہ کھولنے کا مطالبہ بھی کیا یہ راہداری پاکستان میں واقع گردوارہ دربار صاحب کو بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کے لیے قابل رسائی بنانے کی غرض سے قائم کی گئی تھی اس منصوبے کا افتتاح 2019 میں ہوا تھا اور اسے دونوں ملکوں کے درمیان مذہبی و ثقافتی روابط کی ایک اہم مثال سمجھا جاتا ہے
پاکستان اور بھارت کے تعلقات گزشتہ سال ہونے والی 4 روزہ فوجی جھڑپوں کے بعد سے شدید کشیدگی کا شکار ہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سفارتی رابطے محدود رہے ہیں، جس کے باعث عوامی سطح پر میل جول اور ثقافتی تبادلوں کے امکانات بھی متاثر ہوئے ہیں
پنجاب تاریخی طور پر ایک مشترکہ ثقافتی خطہ رہا ہے، لیکن 1947 کی تقسیم کے نتیجے میں یہ بھارتی پنجاب اور پاکستانی پنجاب میں تقسیم ہوگیا سرحد کے دونوں جانب پنجابی زبان، شاعری، موسیقی، کھانوں اور روایات میں گہری مماثلت پائی جاتی ہے اسی مشترکہ ورثے کی وجہ سے ادبی کانفرنسیں، مشاعرے اور مذہبی مقامات کے دورے دونوں معاشروں کے درمیان رابطے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں
تاہم بھگونت مان کی ممکنہ شرکت کا انحصار بھارتی حکومت کی اجازت پر ہوگا ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ انہیں کانفرنس میں شرکت کے لیے باضابطہ سفری اجازت مل چکی ہے یا نہیں اس لیے فی الحال ان کی لاہور آمد کو طے شدہ دورہ قرار نہیں دیا جاسکتا
ان کی اس خواہش کو دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ثقافتی رابطوں کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے تاہم ایسی کوششوں کی کامیابی کا انحصار صرف سیاسی بیانات پر نہیں بلکہ سفری اجازت، سرحدی انتظامات اور دونوں حکومتوں کے عملی فیصلوں پر بھی ہوگا





