ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کردیا، پیر کو آخری موقع دینے کا حکم
اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حازر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے ایک اور موقع دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے بیانات دینے سے انکار جاری رکھا تو عدالت ان کا مؤقف سنے بغیر بھی فیصلہ سنا سکتی ہے ہفتے کو اڈیالہ جیل میں ہونے والی سماعت کے دوران دونوں ملزمان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرانے سے انکار کیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں آئندہ سماعت پر جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کارروائی پیر 26 اکتوبر تک ملتوی کردی
انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت ملزمان کا بیان ریکارڈ کرنا عدالت اور ملزمان کے درمیان قانونی کارروائی ہے، اس لیے وہ خود اپنے مؤقف کا جواب دیں۔ سماعت کے دوران ہادی علی چٹھہ نے درخواست کی کہ سرکاری وکیل ان کی جانب سے دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرادیں، تاہم جج نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا اس موقع پر ایمان مزاری نے بھی کہا کہ وہ دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ نہیں کرائیں گی
عدالت نے خبردار کیا کہ اگر دونوں ملزمان نے اگلی سماعت پر بھی جواب جمع نہ کرایا تو عدالتی حکم میں یہ بات درج کردی جائے گی کہ انہیں موقع فراہم کیے جانے کے باوجود انہوں نے اپنا مؤقف پیش نہیں کیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ملزمان کے جواب نہ دینے کی صورت میں بھی مقدمے کا فیصلہ سنانے کی کارروائی آگے بڑھ سکتی ہے
ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو 2024 کے ایک مقدمے کا سامنا ہے، جس کا تعلق مبینہ طور پر ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کی سکیورٹی کے لیے مقررہ راستے میں رکاوٹ ڈالنے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے الزامات سے ہے استغاثہ کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے کرکٹ ٹیم کی نقل و حرکت کے لیے قائم کیے گئے حفاظتی انتظامات میں رکاوٹیں ہٹائیں دونوں ملزمان پر 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم الزامات کا ثابت ہونا عدالتی کارروائی اور شواہد کے جائزے سے مشروط ہے
مقدمے کی گزشتہ سماعت پر استغاثہ کے تمام گواہوں پر جرح مکمل کرائی گئی تھی دفاعی وکلا کی جانب سے گواہوں پر جرح نہ کیے جانے کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا اس مقصد کے لیے عاطف محمود کو مقرر کیا گیا، جنہوں نے تیمور جنجوعہ کی جگہ ذمہ داری سنبھالی تیمور جنجوعہ کو ان کے سابقہ طرز عمل کے باعث مقدمے سے ہٹا دیا گیا تھا
دوسری جانب دفاعی وکلا نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے استدعا کی ہے کہ حتمی فیصلہ سنانے سے پہلے ہائی کورٹ کا فیصلہ آنے دیا جائے درخواست میں کہا گیا ہے کہ مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے سے متعلق درخواست پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، اس لیے اس پیش رفت کو ٹرائل کورٹ کے عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے اور ہائی کورٹ کے فیصلے تک حتمی فیصلہ مؤخر رکھا جائے
دفاع کی جانب سے سرکاری وکیل کی تقرری کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے وکلا کا مؤقف ہے کہ جب مقدمے کی منتقلی اور سرکاری وکیل کی تقرری سے متعلق قانونی درخواستیں ہائی کورٹ میں زیر غور ہیں تو ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ سنانے سے پہلے ان معاملات کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے
اس مقدمے میں اب اہم مرحلہ ملزمان کے بیانات اور دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے قانونی اعتراضات کا ہے پیر 26 اکتوبر کی سماعت میں عدالت یہ دیکھے گی کہ دونوں ملزمان دفعہ 342 کے تحت اپنا مؤقف پیش کرتے ہیں یا نہیں، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مقدمے کی منتقلی سے متعلق درخواست کا فیصلہ بھی آئندہ کارروائی پر اثر انداز ہوسکتا ہے





