Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مسی ساگا کے میئر کے انتخاب میں بونی کرومبی کو برتری، کیرولین پیرش پیچھے رہ گئیں، الوِن ٹیڈجو کی حمایت میں بھی نمایاں اضافہ

مسی ساگا کے میئر کے انتخاب میں بونی کرومبی کو برتری، کیرولین پیرش پیچھے رہ گئیں، الوِن ٹیڈجو کی حمایت میں بھی نمایاں اضافہ

کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں میئر کے انتخاب سے چند روز قبل جاری ہونے والے تازہ انتخابی جائزے میں سابق میئر بونی کرومبی نے موجودہ میئر کیرولین پیرش پر برتری حاصل کرلی ہے، جبکہ سٹی کونسلر الوِن ٹیڈجو کی حمایت میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں سامنے آنے والے ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کی قیادت کے لیے مقابلہ اب 3 اہم امیدواروں کے درمیان ہے اور کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں
لائژن اسٹریٹیجیز کے 22 اکتوبر کو جاری ہونے والے سروے کے مطابق، ان ووٹروں میں جنہوں نے اپنا فیصلہ کرلیا ہے یا کسی امیدوار کی طرف جھکاؤ رکھتے ہیں، بونی کرومبی کو 35 فیصد حمایت حاصل ہوئی الوِن ٹیڈجو 31 فیصد کے ساتھ دوسرے اور موجودہ میئر کیرولین پیرش 28 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہیں سٹی کونسلر ڈپیکا ڈیمرلا کو 4 فیصد حمایت ملی، جبکہ 2 فیصد افراد نے دوسرے امیدواروں کا انتخاب کیا
اس سروے میں سب سے نمایاں تبدیلی الوِن ٹیڈجو کی حمایت میں سامنے آئی ہے اگست میں ان کی حمایت صرف 12 فیصد تھی، جو اکتوبر کے تازہ جائزے میں بڑھ کر 31 فیصد ہوگئی اس طرح چند ماہ کے دوران ان کی حمایت میں 19 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا دوسری جانب بونی کرومبی نے بھی اپنی حمایت میں اضافہ کیا، جبکہ کیرولین پیرش کی حمایت میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی
یہ سروے 19 اور 20 اکتوبر کو مسی ساگا کے 1,000 شہریوں سے ٹیلی فون کے ذریعے کیا گیا مجموعی نمونے کے لیے غلطی کی شرح تقریباً 3.1 فیصد پوائنٹس بتائی گئی ہے، تاہم فیصلہ کرچکے ووٹروں کے اعداد و شمار میں یہ شرح مختلف ہوسکتی ہے اس لیے امیدواروں کے درمیان چند فیصد پوائنٹس کے فرق کو حتمی انتخابی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے
اس سے پہلے اکتوبر کے آغاز میں ہونے والے جائزے میں بونی کرومبی کو 30 فیصد، کیرولین پیرش کو 29 فیصد اور الوِن ٹیڈجو کو 26 فیصد حمایت حاصل تھی تازہ سروے میں کرومبی اور ٹیڈجو دونوں کی حمایت میں 5 فیصد پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جبکہ پیرش کی حمایت ایک پوائنٹ کم ہوئی ڈپیکا ڈیمرلا کی حمایت بھی پہلے کے 11 فیصد سے کم ہوکر 4 فیصد رہ گئی
انتخابی مقابلے میں تبدیلی کی ایک اہم وجہ شہریوں میں مسی ساگا کی مجموعی سمت کے بارے میں پائی جانے والی بے اطمینانی بھی ہوسکتی ہے تازہ سروے میں 46 فیصد شہریوں نے کہا کہ شہر غلط سمت میں جا رہا ہے، جبکہ 30 فیصد کے خیال میں شہر درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے باقی 24 فیصد نے اس بارے میں غیر یقینی کا اظہار کیا اگرچہ گزشتہ سروے کے مقابلے میں ان اعداد و شمار میں کچھ بہتری آئی، تاہم شہر کی سمت سے ناخوش افراد کی تعداد اب بھی زیادہ ہے
شہریوں کے لیے مہنگائی اور روزمرہ اخراجات سب سے اہم انتخابی مسائل میں شامل ہیں اس کے علاوہ پراپرٹی ٹیکس، رہائش، جرائم، عوامی تحفظ، ٹریفک اور ٹرانزٹ کی سہولتیں بھی انتخابی مہم کا اہم حصہ ہیں ووٹر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ میئر کے امیدوار ان مسائل سے نمٹنے کے لیے کیا منصوبے پیش کرتے ہیں اور شہر کے اخراجات کو کس طرح قابو میں رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں
بونی کرومبی اس سے پہلے مسی ساگا کی میئر رہ چکی ہیں اور دوبارہ اس عہدے پر منتخب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں ان کی انتخابی مہم میں بلدیاتی اخراجات کا جائزہ لینے، پراپرٹی ٹیکس میں اضافے کو مہنگائی کی شرح کے برابر یا اس سے کم رکھنے، ٹرانزٹ بہتر بنانے اور کم آمدنی والے بزرگ شہریوں کے لیے ریلیف جیسے وعدے شامل ہیں وہ موجودہ انتظامیہ کی ترجیحات پر بھی تنقید کر رہی ہیں
موجودہ میئر کیرولین پیرش اپنی گزشتہ 2 سالہ کارکردگی کی بنیاد پر دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کر رہی ہیں ان کی انتظامیہ کے دور میں پراپرٹی ٹیکس میں اضافے اور شہر کے بڑے ترقیاتی منصوبوں پر بحث ہوتی رہی ہے ان کے ناقدین اخراجات اور شہری ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہیں، جبکہ انتخابی مقابلے میں ان کی حمایت برقرار رہنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اب بھی ووٹروں کا ایک اہم حصہ ان کے حق میں ہے
الوِن ٹیڈجو نے اپنی انتخابی مہم میں تبدیلی، شہری اخراجات پر نظرثانی اور پراپرٹی ٹیکس سے متعلق تجاویز کو اہمیت دی ہے ان کی حمایت میں تیزی سے اضافہ اس انتخاب کی اہم تبدیلیوں میں شامل ہے تاہم ان کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ وہ انتخابی جائزوں میں ظاہر ہونے والی حمایت کو عملی ووٹوں میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں
انتخابی جائزوں میں بونی کرومبی کو برتری حاصل ہونے کے باوجود مقابلہ کھلا ہے مختلف اداروں کے سروے میں نتائج مختلف رہے ہیں اور غیر فیصلہ شدہ ووٹر بھی انتخابی نتیجے پر اثر انداز ہوسکتے ہیں مزید یہ کہ انتخابی سروے شہریوں کی رائے کا ایک اندازہ ہوتے ہیں، ووٹوں کی اصل گنتی نہیں
مسی ساگا میں 26 اکتوبر کو ہونے والے بلدیاتی انتخاب میں شہری فیصلہ کریں گے کہ شہر کی آئندہ قیادت بونی کرومبی کے ہاتھ میں دی جائے، موجودہ میئر کیرولین پیرش کو مزید مدت دی جائے یا الوِن ٹیڈجو کو موقع دیا جائے انتخابی مہم کے آخری مرحلے میں ووٹروں کی شرکت، امیدواروں کے منصوبے اور شہری مسائل پر ان کا مؤقف حتمی نتیجے کے لیے اہم ثابت ہوں گے

قومی خبریں سے مزید