ایمان مزاری کا دفعہ 342 کے تحت بیان دینے سے انکار، قانونی طور پر اس کا کیا مطلب ہے؟
راولپنڈی:راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں سرکاری امور میں مبینہ مداخلت اور سکیورٹی بیریئر ہٹانے کے مقدمے میں وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنا بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا،جج طاہر عباس سپرا نے سماعت 26 اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے دونوں ملزمان کو آئندہ سماعت پر سوالات کے جواب دینے کی ہدایت کی ہے
مقدمے میں دفعہ 342 کی اہمیت سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پاکستان میں فوجداری مقدمات کی کارروائی کا طریقۂ کار ضابطۂ فوجداری 1898 میں بیان کیا گیا ہے،اس کی دفعہ 342 آئین کی کوئی الگ دفعہ نہیں بلکہ فوجداری قانون کی ایک اہم قانونی شق ہے،اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ استغاثہ کے گواہوں کے بیانات اور پیش کردہ شواہد کے بعد ملزم کو اپنے خلاف سامنے آنے والے اہم حقائق کی وضاحت کرنے کا موقع دیا جائے
قانون کے مطابق عدالت ملزم سے ایسے سوالات کر سکتی ہے جو مقدمے میں اس کے خلاف پیش کیے گئے شواہد سے متعلق ہوں،ملزم کو یہ موقع دیا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ استغاثہ کے الزامات اور شواہد کے بارے میں اس کا کیا مؤقف ہے، وہ ان کی کیا وضاحت پیش کرتا ہے اور آیا اس کے پاس اپنے دفاع میں کوئی متعلقہ بات ہے،اس بیان کا مقصد ملزم کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا اور عدالت کو مقدمے کے مختلف پہلوؤں پر غور کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے
دفعہ 342 کے تحت دیا جانے والا بیان عام طور پر حلف پر نہیں لیا جاتا،اس کی ایک اہم قانونی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس دفعہ کی ذیلی شق دو کے مطابق ملزم محض سوالات کے جواب دینے سے انکار کرنے یا غلط جواب دینے پر اسی بنیاد پر سزا کا مستوجب نہیں بنتا،تاہم قانون عدالت کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ انکار یا جوابات سے مقدمے کے حالات کے مطابق مناسب نتیجہ اخذ کرے،اس کا مطلب یہ ہے کہ بیان دینے سے انکار بذاتِ خود جرم کا ثبوت نہیں، لیکن یہ بھی درست نہیں کہ انکار کا عدالتی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا
اس مقدمے میں ہادی علی چٹھہ نے عدالت سے کہا کہ ان کی جگہ سرکاری وکیل بیان ریکارڈ کرا دیں،جج طاہر عباس سپرا نے واضح کیا کہ دفعہ 342 کا بیان عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے اور اس کا جواب خود ملزم کو دینا ہوتا ہے،اس کے بعد ایمان مزاری نے کہا کہ وہ بیان ریکارڈ نہیں کرائیں گی،عدالت نے ہدایت کی کہ اگر ملزمان سوالات کے جواب نہیں دیتے تو عدالتی حکم میں اس بات کو درج کیا جائے گا
یہاں ایک بنیادی قانونی فرق بھی سمجھنا ضروری ہے،دفعہ 342 کے تحت بیان دینا اور اپنے دفاع میں باقاعدہ گواہی دینا دو الگ معاملات ہیں،قانون ملزم کو اپنے خلاف پیش کردہ حالات کی وضاحت کا موقع دیتا ہے، جبکہ اپنے دفاع میں گواہ پیش کرنے کے لیے الگ قانونی طریقۂ کار موجود ہے،دفعہ 342 کا بیان استغاثہ کے شواہد کا متبادل نہیں بنتا اور نہ ہی محض اس بیان سے استغاثہ پر اپنے الزامات ثابت کرنے کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے
اب اہم سوال یہ ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ نے بیان دینے سے انکار کیوں کیا؟ دستیاب عدالتی رپورٹنگ میں ان کے انکار کی کوئی ایسی واضح اور مصدقہ وجہ سامنے نہیں آئی جس کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر کہا جا سکے کہ انہوں نے کسی خاص قانونی اعتراض، حکمت عملی یا دوسرے سبب سے یہ قدم اٹھایا،اس لیے ان کے انکار کو کسی مخصوص وجہ سے منسوب کرنا درست نہیں ہوگا
البتہ مقدمے کی سابقہ کارروائی میں دونوں ملزمان نے قانونی دستاویزات کی فراہمی اور وکلا تک رسائی سے متعلق اعتراضات اٹھائے تھے۔ اس پس منظر کو مقدمے کی کارروائی سمجھنے کے لیے پیش نظر رکھا جا سکتا ہے، لیکن یہ ثابت نہیں کرتا کہ آج دفعہ 342 کے تحت بیان دینے سے انکار بھی انہی اعتراضات کی وجہ سے کیا گیا
قانونی اعتبار سے اب اہم بات یہ ہوگی کہ 26 اکتوبر کو دونوں ملزمان عدالت کے سوالات کا جواب دیتے ہیں یا انکار برقرار رکھتے ہیں،عدالت ان کے مؤقف اور مقدمے میں پیش کردہ شواہد کا جائزہ لے گی،دفعہ 342 کے تحت بیان دینے سے انکار کو نہ خودکار اعترافِ جرم سمجھا جا سکتا ہے اور نہ اس سے مقدمے میں بریت یا سزا کا نتیجہ پہلے سے متعین ہوتا ہے،حتمی فیصلہ مقدمے کے مجموعی شواہد، قابلِ اطلاق قانون اور عدالت کی وجوہ پر منحصر ہوگا






