Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

معاشی پالیسی کا اصل مقصد مہنگائی کم کرنے کے ساتھ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا بھی ہے، نوبیل انعام یافتہ ماہرین سے پاکستان کے لیے اہم سبق

معاشی پالیسی کا اصل مقصد مہنگائی کم کرنے کے ساتھ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانا بھی ہے، نوبیل انعام یافتہ ماہرین سے پاکستان کے لیے اہم سبق

معیشت میں مہنگائی، بے روزگاری اور سست رفتار ترقی کو قابو کرنے کے لیے صرف شرح سود بڑھانا یا سرکاری اخراجات کم کرنا کافی نہیں ہوتا حکومت اور مرکزی بینک کو یہ بھی سمجھنا پڑتا ہے کہ ان فیصلوں سے عام خاندانوں، کاروباری اداروں، سرمایہ کاروں اور روزگار کے مواقع پر کیا اثر پڑے گا۔ 2026 کا معاشیات کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے امریکی ماہرین رابرٹ ای ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کی تحقیق اسی بنیادی سوال پر روشنی ڈالتی ہے کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے عوام اور کاروباری اداروں کے فیصلوں کو معاشی پالیسی کا حصہ کیسے بنایا جائے
دونوں ماہرین کو معاشی اتار چڑھاؤ پر قابو پانے کے لیے ایسے نظریاتی ماڈل تیار کرنے پر اعزاز دیا گیا جن میں انفرادی سطح پر کیے جانے والے فیصلوں کو پوری معیشت کی کارکردگی سے جوڑا گیا ہے ان کی تحقیق نے مرکزی بینکوں اور وزارت خزانہ کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ شرح سود، افراط زر، گھریلو اخراجات، کاروباری سرمایہ کاری اور مستقبل سے متعلق توقعات ایک دوسرے پر کیسے اثر انداز ہوتی ہیں
پاکستان کے لیے اس تحقیق کی اہمیت اس لیے زیادہ ہے کہ ملک کئی برسوں سے مہنگائی، قرضوں، کمزور سرمایہ کاری، بے روزگاری اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں کے تحت معاشی استحکام کے اقدامات سے گزر رہا ہے اصل چیلنج یہ ہے کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے ساتھ عوام پر پڑنے والے معاشی بوجھ کو بھی کم کیا جائے
رابرٹ ہال کی تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گھرانے اپنی آمدنی، بچت اور مستقبل کے معاشی حالات کو دیکھ کر خرچ کرنے یا پیسہ بچانے کا فیصلہ کرتے ہیں اگر کسی خاندان کو یقین ہو کہ اس کی ملازمت برقرار رہے گی اور آمدنی میں اضافہ ہوگا تو وہ زیادہ خرچ کرسکتا ہے لیکن اگر اسے نوکری ختم ہونے، بجلی اور گیس کے بل بڑھنے یا بچوں کی تعلیم کے اخراجات پورے نہ ہونے کا خدشہ ہو تو وہ خریداری کم کردیتا ہے لاکھوں خاندانوں کے یہ انفرادی فیصلے مل کر پوری معیشت میں طلب، پیداوار اور روزگار کو متاثر کرتے ہیں
پاکستان میں اس اصول کو سمجھنا خاص طور پر ضروری ہے جب مہنگائی بڑھتی ہے تو کم آمدنی والے خاندان خوراک، علاج، تعلیم اور دوسری ضروریات پر خرچ کم کرنے پر مجبور ہوسکتے ہیں اس سے دکانوں، چھوٹے کاروباروں اور مقامی صنعتوں کی فروخت متاثر ہوتی ہے کاروباروں کی آمدنی کم ہو تو وہ نئی سرمایہ کاری اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے سے گریز کرسکتے ہیں یوں مہنگائی کا مسئلہ صرف قیمتوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ روزگار اور معاشی ترقی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے
مائیکل ووڈفورڈ کی تحقیق کا اہم حصہ یہ ہے کہ مرکزی بینک صرف شرح سود میں تبدیلی کرکے ہی معیشت پر اثر انداز نہیں ہوتا بلکہ اپنے مستقبل کے فیصلوں کے بارے میں قابل اعتماد معلومات فراہم کرکے بھی عوام اور کاروباری اداروں کی توقعات بدل سکتا ہے اس طریقے کو مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے بارے میں رہنمائی کہا جاتا ہے اگر مرکزی بینک واضح طور پر بتائے کہ وہ مہنگائی کو کس سطح پر لانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لیے کن حالات میں کیا اقدامات کرے گا تو کاروبار اور گھرانے اپنے فیصلے بہتر انداز میں کرسکتے ہیں تاہم اس پالیسی کی کامیابی مرکزی بینک کی ساکھ اور اس کے وعدوں پر عمل درآمد سے وابستہ ہوتی ہے
پاکستان میں اس سبق کا تعلق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی پالیسیوں سے ہے جب مہنگائی قابو سے باہر ہو تو شرح سود میں اضافہ قرض لینا مہنگا کرکے اخراجات اور طلب کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ کاروبار کے لیے نئی مشینری خریدنا، کارخانہ لگانا اور ملازمین بھرتی کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے اگر شرح سود طویل عرصے تک بلند رہے تو سرمایہ کاری اور روزگار کی رفتار متاثر ہونے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے اس لیے پالیسی کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے کہ مہنگائی کتنی کم ہوئی بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ معاشی ترقی، ملازمتوں اور عوام کی قوت خرید پر کیا اثر پڑا۔
معاشیات کی اسی بحث میں نیو کینیشین نظریات اہم ہیں ان کے مطابق بعض حالات میں حکومت اور مرکزی بینک کی بروقت مداخلت معاشی بحران کی شدت کم کرسکتی ہے اس کے برعکس آزاد منڈی پر زیادہ انحصار کرنے والے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ حکومتی مداخلت، غیر مؤثر اخراجات اور مسلسل مالیاتی خسارے سے مسائل بڑھ سکتے ہیں ہال اور ووڈفورڈ کی تحقیق کا مقصد ان تمام اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ معاشی فیصلوں کے اثرات کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھنے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرنا ہے
پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگراموں کے تحت مالی خسارہ کم کرنے، ٹیکس آمدنی بڑھانے اور سرکاری اخراجات محدود کرنے کے اقدامات کیے جاتے رہے ہیں ان اقدامات سے مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن اگر اخراجات میں کمی کا بڑا حصہ ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور بنیادی سہولتوں پر پڑے تو اس کے طویل مدتی اثرات بھی سامنے آتے ہیں سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں اور پیداواری منصوبوں پر سرمایہ کاری کم ہونے سے مستقبل میں روزگار اور معاشی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے
پاکستان کی ماہر معاشیات ڈاکٹر عالیہ ہاشمی خان کے مطابق معاشی استحکام کے اقدامات کو وسیع تر معاشی نتائج کے تناظر میں پرکھنے کی ضرورت ہے ان کے نزدیک یہ سوال اہم ہے کہ کیا بلند شرح سود واقعی مہنگائی کم کرکے لوگوں کا معیار زندگی بہتر بناتی ہے یا اس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور روزگار کو نقصان پہنچتا ہے سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین نے بھی وضاحت کی ہے کہ ہال اور ووڈفورڈ کا کام اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے کہ گھرانوں اور کاروباروں کے فیصلے مجموعی پیداوار، روزگار اور معاشی اتار چڑھاؤ کو کیسے تشکیل دیتے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو مہنگائی کے دوران شرح سود کم کردینی چاہیے یا مالیاتی خسارے کو نظرانداز کرنا چاہیے اگر حکومت اخراجات پورے کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ قرض لے یا معیشت میں طلب کو دستیاب پیداوار سے کہیں زیادہ بڑھا دے تو مہنگائی اور بیرونی ادائیگیوں کے مسائل دوبارہ شدت اختیار کرسکتے ہیں اصل ضرورت ایسی پالیسیوں کی ہے جو قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے ساتھ پیداوار بڑھانے، کاروبار کے لیے قابل پیش گوئی ماحول پیدا کرنے اور کم آمدنی والے خاندانوں کو غیر ضروری نقصان سے بچانے میں بھی مدد دیں
سابق چیف اکنامسٹ پلاننگ کمیشن ڈاکٹر راشد امجد نے بھی اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو معاشی استحکام کے ایسے اقدامات پر نظرثانی کرنی چاہیے جن سے وقتی مالیاتی بہتری تو حاصل ہو لیکن غربت، غذائی قلت اور بے روزگاری کی صورت میں معاشرتی قیمت ادا کرنا پڑے ان کے مطابق حکومت اور اسٹیٹ بینک کو بحران پیدا ہونے کے بعد اچانک سخت فیصلے کرنے کے بجائے پہلے سے واضح اور قابل اعتماد پالیسی اختیار کرنی چاہیے تاکہ کاروبار اور سرمایہ کار مستقبل کے حالات کا اندازہ لگا سکیں
ان دونوں نوبیل انعام یافتہ ماہرین کی تحقیق کا ایک اور اہم سبق یہ ہے کہ مہنگائی اور معاشی بحران کے اثرات تمام افراد پر یکساں نہیں پڑتے جس خاندان کے پاس بچت، مستقل ملازمت اور بینک سے قرض حاصل کرنے کی سہولت موجود ہو، وہ کچھ عرصے تک بڑھتے ہوئے اخراجات برداشت کرسکتا ہے اس کے برعکس روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا دکاندار یا محدود آمدنی پر گزارہ کرنے والا خاندان معمولی معاشی دھچکے سے بھی شدید متاثر ہوسکتا ہے اسی لیے معاشی پالیسی بناتے وقت صرف قومی پیداوار اور مہنگائی کی اوسط شرح نہیں بلکہ مختلف طبقوں کی مالی حالت بھی سامنے رکھنا ضروری ہے
پاکستان کے لیے عملی راستہ یہ ہوسکتا ہے کہ اسٹیٹ بینک مہنگائی کے اعداد و شمار کے ساتھ روزگار، قرضوں کی لاگت اور کاروباری سرمایہ کاری کا بھی باقاعدگی سے جائزہ لے وزارت خزانہ ترقیاتی اخراجات میں ایسی کٹوتیوں سے گریز کرے جو مستقبل کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچائیں، جبکہ ٹیکس نظام کو وسیع اور منصفانہ بنانے پر توجہ دے۔ حکومت کو اپنی پالیسیوں کے مقاصد اور ممکنہ اثرات عوام کے سامنے واضح کرنے چاہییں تاکہ کاروباری ادارے اور گھرانے غیر یقینی صورت حال میں فیصلے کرنے پر مجبور نہ ہوں
آخرکار رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈفورڈ کی تحقیق یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ معیشت محض شرح سود، بجٹ اور مجموعی قومی پیداوار کے اعداد و شمار کا نام نہیں یہ لاکھوں خاندانوں کی آمدنی، بچت، ضروریات اور مستقبل کی امیدوں کے ساتھ ساتھ کاروباروں کے سرمایہ کاری کے فیصلوں سے بنتی ہے پاکستان میں پائیدار معاشی استحکام اسی وقت ممکن ہوگا جب مہنگائی پر قابو پانے، مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے اور سرمایہ کاری بڑھانے کے اقدامات کے ساتھ عوام کے معیار زندگی اور روزگار کے تحفظ کو بھی اہمیت دی جائے

قومی خبریں سے مزید