ہمدردی پر امریکی مذہبی گروہوں میں اختلاف، سفید فام ایونجیلیکل عیسائیوں کی اکثریت اسے خطرناک بھی سمجھتی ہے، ماہرین نفسیات و سوشل سائنسداں توازن کا تقاضہ کرتے ہیں
امریکہ میں ہمدردی کے تصور پر مذہبی بنیادوں پر اختلاف سامنے آیا ہے،ایک نئے سروے کے مطابق سفید فام ایونجیلیکل پروٹسٹنٹ عیسائی واحد بڑا مذہبی گروہ ہیں جس کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اگر ہمدردی انسانوں کو خدا کی سچائی پر مبنی معاشرے سے دور لے جائے تو یہ خطرناک بن سکتی ہے،یہ نتائج ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی عیسائیت کے اندر اس بات پر اختلاف بڑھ رہا ہے کہ کن لوگوں کے ساتھ ہمدردی کی جانی چاہیے اور اس کی حدود کیا ہونی چاہییں
غیر جماعتی تحقیقی ادارے پبلک ریلیجن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سالانہ امریکن ویلیوز سروے کے مطابق، صرف 42 فیصد سفید فام ایونجیلیکل پروٹسٹنٹ اس بات سے متفق تھے کہ ہمدردی ایک بنیادی اخلاقی قدر ہے جو صحت مند معاشرے کی تشکیل میں مدد دیتی ہے،اس کے برعکس، 54 فیصد نے اتفاق کیا کہ جب ہمدردی انسانوں کو خدا کی سچائی کے مطابق چلنے والے معاشرے سے دور لے جائے تو یہ خطرناک ہو سکتی ہے
دوسرے تمام بڑے مذہبی گروہوں میں کم از کم 66 فیصد افراد نے ہمدردی کو صحت مند معاشرے کی بنیادی اخلاقی قدر قرار دیا،سفید فام مین لائن پروٹسٹنٹ عیسائیوں میں یہ شرح 73 فیصد تھی، جبکہ ہسپانوی نژاد کیتھولک افراد میں بھی بڑی اکثریت نے اس مؤقف کی حمایت کی
یہ اختلاف امریکی سیاست اور معاشرتی مباحث میں ہمدردی کے کردار پر جاری کشمکش کی عکاسی کرتا ہے،قدامت پسند مذہبی رہنماؤں سے لے کر ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک تک، بعض شخصیات نے امیگریشن، نسلی انصاف اور ہم جنس پرستوں اور دیگر جنسی اقلیتی گروہوں کے حقوق پر بحث کے دوران ہمدردی کو کمزوری قرار دیا ہے
ایلون مسک نے فروری 2025 میں جو روگن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہمدردی کو مغربی تہذیب کی بنیادی کمزوری قرار دیا تھا،تاہم، انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہمدردی کے مثبت پہلو ہیں، ساتھ ہی خبردار کیا کہ اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا جا سکتا ہے
سروے کے نتائج امریکی معاشرے میں ایک بنیادی سوال کو نمایاں کرتے ہیں: کیا ہمدردی ہر انسان کے لیے یکساں اخلاقی اصول ہونی چاہیے، یا اسے مذہبی عقائد اور معاشرتی اقدار کی حدود کے تابع ہونا چاہیے؟ مختلف مذہبی گروہوں کے جوابات میں سامنے آنے والا فرق ظاہر کرتا ہے کہ یہ بحث صرف سیاست تک محدود نہیں بلکہ اخلاقیات، مذہب اور معاشرتی ذمہ داری کے تصورات سے بھی گہرا تعلق رکھتی ہے، سماجی سائنسدانوں اور ماہرین نفسیات کے نزدیک نہ محض کمزوری ہے،
نہ ہی ہر صورت میں درست اخلاقی فیصلے کی ضمانت، بلکہ اس کے اثرات اس بات پر منحصر ہوتے ہیں کہ اسے کس طرح استعمال کیا جائے،ییل یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات پال بلوم نے اپنے تحقیقی کام میں نشاندہی کی ہے کہ جذباتی ہمدردی بعض اوقات انسان کو اپنے جیسے لوگوں کے حق میں جانبدار بنا سکتی ہے اور دوسروں کی تکلیف نظرانداز ہونے کا سبب بن سکتی ہے،اس کے برعکس، یونیورسٹی آف کنساس کے سماجی ماہرِ نفسیات سی ڈینیئل بیٹسن کی کئی دہائیوں پر محیط تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے دکھ کو محسوس کرنا بے غرض مدد کرنے کی تحریک دے سکتا ہے، اگرچہ ہمدردی اور انصاف کے تقاضے کبھی ایک دوسرے سے متصادم بھی ہو سکتے ہیں،میکس پلانک انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ سماجی اعصابی سائنس کی محقق تانیا سنگر اور ان کی ساتھی اولگا کلیمیکی نے بھی ہمدردی اور شفقت میں فرق واضح کیا ہے،کسی دوسرے کا دکھ خود محسوس کرنا ذہنی دباؤ اور تھکن بڑھا سکتا ہے، جبکہ اس کی تکلیف کم کرنے کی خواہش مثبت عملی مدد کی بنیاد بن سکتی ہے،ان تحقیقات کا مجموعی نکتہ یہ ہے کہ ہمدردی کو معاشرتی کمزوری سمجھ کر رد کرنا بھی درست نہیں اور اسے انصاف، ذمہ داری اور تمام انسانوں کے ساتھ یکساں سلوک سے بالاتر رکھنا بھی مناسب نہیں،زیادہ متوازن راستہ یہ ہے کہ ہمدردی کو عقل، انصاف اور عملی ذمہ داری کے ساتھ بروئے کار لایا جائے






