Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا امریکی خاتون صحافی پر وحشیانہ تشدد، امریکی سفیر نے حملے کو دہشت گردی قرار دے دیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کا امریکی خاتون صحافی پر وحشیانہ تشدد، امریکی سفیر نے حملے کو دہشت گردی قرار دے دیا

مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کرنے والی امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں کے حملے کے بعد اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے واقعہ کو ’’قابلِ مذمت دہشت گردی‘‘ قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کی گرفتاری اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے،63 سالہ ہیڈی لیوائن حملے میں شدید زخمی ہوئیں اور انہیں ہاتھ کی سرجری سمیت طبی علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرنا پڑا،ان کی پسلیاں بھی ٹوٹ گئی ہیں
اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے کام کرنے والی ایوارڈ یافتہ فوٹو جرنلسٹ لیوائن اسرائیل میں مقیم ہیں،ان پر گزشتہ جمعہ مقبوضہ مغربی کنارے کے ایک علاقے میں اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں،اطلاعات کے مطابق، نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے ڈنڈوں اور دوسرے ہتھیاروں سے فلسطینیوں پر حملہ کیا اور اس دوران لیوائن کو بھی نشانہ بنایا
اسپتال میں زیرِ علاج لیوائن نے بتایا کہ حملہ آوروں نے انہیں زمین پر گرا کر 10 منٹ سے زیادہ وقت تک تشدد کا نشانہ بنایا،ان کے مطابق، حملہ آور ان کا کیمرہ، پاسپورٹ اور موبائل فون بھی لے گئے،انہوں نے کہا کہ اگر انہوں نے حفاظتی جیکٹ اور ہیلمٹ نہ پہنا ہوتا تو ممکن ہے وہ اس حملے میں زندہ نہ بچ پاتیں
امریکی سفیر مائیک ہکابی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے،ان کا بیان اس لیے اہم ہے کہ واقعے میں ایک امریکی صحافی کو نشانہ بنایا گیا ہے، جبکہ حملے کے دوران فلسطینی کسان بھی اپنی فصل کی کٹائی کے لیے موجود تھے
مقبوضہ مغربی کنارے میں زیتون کی فصل کی کٹائی فلسطینی خاندانوں کے لیے معاشی اور ثقافتی اہمیت رکھتی ہے،فصل کے موسم میں فلسطینی کسانوں اور ان کی مدد کرنے والوں پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں،ہیڈی لیوائن پر حملہ صحافیوں کی حفاظت اور مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی شہریوں کے خلاف تشدد پر ایک بار پھر سوالات اٹھاتا ہے

قومی خبریں سے مزید