امریکی انتخابات میں ووٹروں کو خوف زدہ کرنے سے روکنے کے لیے مختلف مذاہب کے رہنما میدان میں، 9 ریاستوں میں 1,235 رضاکار تعینات ہوں گے، ایک مسلمان کا بھی گروپ میں شرکت پر غور
امریکہ میں 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے موقع پر ووٹروں کو دھمکانے، خوف زدہ کرنے اور پولنگ کے دوران کشیدگی پیدا کرنے کے خدشات کے پیش نظر مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما اور امن کے رضاکار ایک مشترکہ مہم کے تحت میدان میں اتر رہے ہیں،عیسائی پادریوں، یہودی ربیوں، بدھ راہباؤں، کویکر مذہبی رہنماؤں اور دیگر مذہبی و غیر مذہبی رضاکاروں پر مشتمل یہ گروپ 9 اہم ریاستوں میں پولنگ مراکز کے باہر موجود رہے گا تاکہ ووٹ ڈالنے آنے والے شہریوں کو تحفظ اور اعتماد کا احساس دلایا جا سکے
اس مہم کے تحت ایریزونا، مشی گن، جارجیا، اوہائیو، پنسلوانیا، شمالی کیرولائنا، وسکونسن، ورجینیا اور ٹیکساس میں رضاکار تعینات کیے جائیں گے۔ ان ریاستوں میں کانگریس اور دیگر اہم انتخابی مقابلوں کے باعث سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،منتظمین کے مطابق، رضاکاروں کا مقصد کسی سیاسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کرنا نہیں بلکہ ہر شہری کے ووٹ ڈالنے کے حق کا تحفظ اور پولنگ کے ماحول کو پُرامن رکھنا ہے
غیر جماعتی اتحاد ’’فیتھز یونائیٹڈ اِن سیونگ ڈیموکریسی‘‘ مذہبی اور غیر مذہبی تنظیموں کے اشتراک سے اس مہم کی تیاری کر رہا ہے،اتحاد کے شریک بانی باربرا ولیمز اسکنر کے مطابق، 19 اکتوبر تک 1,235 پولنگ چیپلینز اور امن رضاکاروں کو بھرتی کیا جا چکا تھا،ان رضاکاروں کو خصوصی تربیت دی جا رہی ہے تاکہ وہ کشیدہ صورتِ حال میں تحمل سے کام لیں اور ووٹروں کو کسی خوف یا دباؤ کے بغیر اپنے حق کا استعمال کرنے کی ترغیب دے سکیں
رضاکار مخصوص شناختی ٹوپیاں اور واسکٹیں پہنیں گے اور پولنگ مراکز کے باہر رہیں گے،ان کا مقصد انتخابی عمل میں مداخلت کرنا یا ووٹروں کو کسی خاص امیدوار کی طرف راغب کرنا نہیں، بلکہ اپنی پُرامن موجودگی کے ذریعے خوف و ہراس کم کرنا ہے،مختلف مذاہب کے رہنماؤں کا اس مشترکہ کوشش میں شامل ہونا ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں انتخابی عمل کی شفافیت، سیاسی تقسیم اور ووٹروں کو دباؤ میں لانے کے خدشات قومی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں
اس مہم میں شامل ایک کویکر مذہبی رہنما واشنگٹن سے اپنی آبائی ریاست اوہائیو جائیں گی، جبکہ ایریزونا میں ایک عیسائی پادری اور ایک یہودی ربی پولنگ مرکز کے باہر موجود رہیں گے،وسکونسن میں ایک بدھ راہبہ ووٹروں کی مدد اور حوصلہ افزائی کے لیے تعینات ہوں گی،منتظمین کا کہنا ہے کہ مذہبی شناخت سے بالاتر ہو کر شہریوں کے انتخابی حقوق کا احترام اور اختلافات کے باوجود پُرامن ماحول برقرار رکھنا اس کوشش کا بنیادی مقصد ہےجبکہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے مذکورہ رضاکاروں کے اس گروپ میں ابھی تک ایک مسلمان کی شمولیت پر غور کرنے کی خبر ہے ،امام محمد علی الٰہی (Imam Mohammed Ali Elahi)مشی گن کے شہر ڈیئربورن ہائٹس میں اسلامک ہاؤس آف وزڈم کے مذہبی رہنما ہیں،رپورٹ کے مطابق وہ پہلی مرتبہ انتخابی مرکز کے باہر ووٹروں کی مدد اور انتخابی عمل کو پُرامن رکھنے کے لیے پول چیپلین بننے پر غور کر رہے ہیں ،،امام الٰہی نے کہا کہ وسط مدتی انتخابات سے پہلے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات سامنے آنے پر وہ پریشان ہیں۔
ان کے مطابق، مختلف مذاہب کے رہنما شخصیات کے بجائے اصولوں کی حمایت کرتے ہیں،انہوں نے قرآن کا حوالہ دیتے ہوئے سچائی، انصاف، امن، انسانی حقوق اور ہر انسان کی عزت واحترام پر زور دیا






