پاکستان میں 3 سال کے دوران خواتین پر تشدد کے 63,367 مقدمات، 11,160 زیادتی کے کیسز درج
پاکستان میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات ایک سنگین سماجی اور قانونی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں قومی اسمبلی کو اکتوبر 2022 میں فراہم کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 سے 2021 کے دوران ملک بھر میں خواتین پر تشدد کے 63,367 مقدمات درج کیے گئے، جن میں زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے 11,160 مقدمات بھی شامل تھے یہ اعداد و شمار وزارت انسانی حقوق نے پولیس اور نیشنل پولیس بیورو سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر پیش کیے تھے
سرکاری جواب کے مطابق زیادتی اور اجتماعی زیادتی کے مقدمات کی تعداد 2019 میں 4,637، 2020 میں 4,133 اور 2021 میں 2,390 تھی ان اعداد و شمار میں درج مقدمات شامل ہیں، اس لیے انہیں ان برسوں میں پیش آنے والے تمام واقعات کی مکمل تعداد نہیں سمجھا جا سکتا بہت سے واقعات میں متاثرہ خواتین بدنامی کے خوف، خاندان کے دباؤ، دھمکیوں یا قانونی کارروائی کے طویل اور مشکل ہونے کی وجہ سے شکایت درج نہیں کراتیں
اسی عرصے کے دوران خواتین کے قتل کے 3 سالہ اعداد و شمار بھی تشویش ناک تھے۔ 2019 میں 1,578 خواتین، 2020 میں 1,569 اور 2021 میں 840 خواتین کے قتل کے مقدمات درج ہوئے خواتین پر تشدد، اغوا اور مارپیٹ کے ہزاروں دوسرے مقدمات بھی ریکارڈ کیے گئے تاہم ان اعداد و شمار کو سمجھتے وقت یہ فرق ضروری ہے کہ ہر درج مقدمہ عدالت میں ثابت شدہ جرم نہیں ہوتا اور مختلف اقسام کے جرائم کے اعداد و شمار الگ الگ درج کیے جاتے ہیں
وزارت انسانی حقوق نے اس وقت قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ خواتین اور بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آگاہی پروگرام چلائے جا رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر قانونی رہنمائی کے لیے ہیلپ لائن 1099 بھی موجود ہے حکومت نے خواتین کے خلاف تشدد سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی مرتب کرنے کا عمل جاری ہونے کی اطلاع بھی دی تھی
لیکن اصل سوال صرف مقدمات کی تعداد نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ شکایت درج ہونے کے بعد تفتیش کتنی مؤثر ہوتی ہے، متاثرہ خاتون کو تحفظ ملتا ہے یا نہیں، مقدمہ کتنی جلد عدالت تک پہنچتا ہے اور جرم ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو سزا ملتی ہے یا نہیں خواتین کے تحفظ کے قوانین اسی وقت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں جب پولیس، استغاثہ، عدالتیں اور متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور متاثرین کو دباؤ یا دھمکیوں کے بغیر انصاف تک رسائی حاصل ہو





