ملتان میں تیز رفتار کار ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر جل اٹھی، 20 سے 28 سال کے 5 نوجوان جاں بحق
پاکستان کے شہر ملتان میں بوسن روڈ پر پیر 19 اکتوبر کی علی الصبح ایک خوفناک ٹریفک حادثے میں 5 نوجوان جاں بحق ہوگئے ریسکیو 1122 کے مطابق نوجوانوں کی گاڑی تیز رفتاری کے باعث پہلے سڑک کے درمیان بنے ڈیوائیڈر سے ٹکرائی اور پھر ایک خالی پلاٹ کی دیوار سے جا لگی، جس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی گاڑی میں سوار پانچوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے
حادثہ صبح تقریباً 4 بجے پیش آیا۔ پولیس کے مطابق ایک راہ گیر نے صبح 4 بج کر 15 منٹ پر حادثے کی اطلاع کنٹرول روم کو دی امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو گاڑی کو آگ لگی ہوئی تھی فائر فائٹرز نے آگ پر قابو پایا اور ریسکیو اہلکاروں نے پانچوں لاشیں نکال کر ملتان کے نشتر اسپتال منتقل کردیں
جاں بحق ہونے والوں میں 3 نوجوانوں کی شناخت محمد مزمل، محمد یاسر اور رمضان کے نام سے ہوئی ہے ریسکیو حکام کے مطابق مزمل کی عمر 23 سال، یاسر کی 22 سال اور رمضان کی 28 سال تھی دیگر 2 نوجوانوں کی عمریں تقریباً 24 اور 25 سال بتائی گئی ہیں، تاہم ابتدائی رپورٹ میں ان کی شناخت کی تصدیق نہیں ہوسکی تھی پانچوں نوجوان ملتان کی تحصیل شجاع آباد کے رہائشی تھے حکام کے مطابق تمام افراد کے سروں پر شدید چوٹیں آئی تھیں
یہ حادثہ ایک بار پھر پاکستان میں ٹریفک حادثات، تیز رفتاری اور سڑکوں پر حفاظتی اقدامات کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے ایک ہی گاڑی میں سوار 5 نوجوانوں کی موت نے کئی خاندانوں کو غم میں مبتلا کردیا۔ تاہم حادثے کی مکمل وجوہات کا تعین تفتیش کے بعد ہی ہوسکے گا ابتدائی اطلاعات میں تیز رفتاری کو حادثے کی وجہ بتایا گیا ہے، لیکن یہ واضح ہونا باقی ہے کہ گاڑی پر ڈرائیور کا کنٹرول کیوں ختم ہوا اور کیا سڑک کی حالت یا دیگر عوامل نے بھی حادثے میں کوئی کردار ادا کیا
پنجاب میں ٹریفک حادثات کی تعداد بھی تشویش ناک ہے ریسکیو 1122 کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے دوران صوبے بھر میں 43,160 ٹریفک حادثات پیش آئے، جن میں 23,013 افراد شدید زخمی اور 434 افراد جاں بحق ہوئے یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سڑکوں پر حادثات محض انفرادی واقعات نہیں بلکہ ایک وسیع عوامی تحفظ کا مسئلہ ہیں
ماہرین کے مطابق ٹریفک حادثات میں کمی کے لیے رفتار کی حد پر سختی سے عمل درآمد، ڈرائیونگ کے دوران احتیاط، گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی ضروری ہے حادثات کی تحقیقات اور ان کے نتائج کو عوام کے سامنے لانا بھی اہم ہے تاکہ معلوم ہوسکے کہ بار بار پیش آنے والے ایسے واقعات کو روکنے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے
ملتان کے اس حادثے میں 5 نوجوانوں کی موت نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ پاکستان میں سڑکوں پر انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے موجود قوانین پر کس حد تک عمل درآمد ہوتا ہے اور حادثات کی روک تھام کے لیے ذمہ دار ادارے کیا اقدامات کررہے ہیں





