کارنی نے البرٹا کے ریفرنڈم نتائج سے پہلے آئینی تبدیلیوں کا امکان ظاہر کر دیا
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے البرٹا میں علیحدگی کے معاملے پر بڑھتی ہوئی سیاسی بحث کے درمیان ملک کے آئین میں تبدیلیوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا اس پیش رفت سے وفاقی حکومت اور البرٹا کے درمیان اختیارات، صوبائی خودمختاری اور وفاق کے ساتھ تعلقات پر جاری بحث کو نئی اہمیت حاصل ہوئی ہے
کارنی کے مطابق آئین میں کسی بھی بڑی تبدیلی کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے ضروری ہے ان کا مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب البرٹا کے شہری 19 اکتوبر 2026 کو ہونے والے ریفرنڈم میں صوبے کے مستقبل اور کینیڈا کے ساتھ تعلقات سے متعلق سوالات پر ووٹ دے رہے ہیں اس ووٹ کا مقصد فوری طور پر کینیڈا سے علیحدگی نہیں بلکہ یہ طے کرنا ہے کہ آیا علیحدگی کے لیے قانونی طور پر ایک حتمی ریفرنڈم کرانے کا عمل شروع کیا جائے
البرٹا میں علیحدگی کی تحریک کے حامیوں کا کہنا ہے کہ صوبہ تیل اور گیس کے شعبے سے بڑی آمدنی حاصل کرتا ہے، لیکن وفاقی حکومت کی بعض پالیسیوں سے اس کی معیشت اور توانائی کی صنعت متاثر ہوتی ہے ان کے نزدیک صوبے کو وفاقی حکومت سے زیادہ اختیارات ملنے چاہییں دوسری جانب وزیر اعظم کارنی اور وفاق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ البرٹا کینیڈا کا اہم حصہ ہے اور ملک کی معاشی ترقی، سلامتی اور عالمی سطح پر مضبوط حیثیت کے لیے قومی اتحاد ضروری ہے
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے علیحدگی کے حتمی مطالبے کی حمایت نہیں کی، تاہم ان کی حکومت نے ریفرنڈم میں آئینی اصلاحات اور صوبائی اختیارات سے متعلق دیگر سوالات بھی شامل کیے ہیں ان میں امیگریشن، صحت، تعلیم اور سماجی خدمات تک رسائی کے معاملات بھی شامل ہیں اسمتھ کا مؤقف ہے کہ ان سوالات کی حمایت سے البرٹا کو وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں زیادہ مؤثر کردار مل سکتا ہے
کینیڈا کے آئینی نظام کے تحت کسی صوبے کو محض ایک ووٹ کے ذریعے یک طرفہ طور پر ملک سے الگ ہونے کا حق حاصل نہیں اگر علیحدگی کے حق میں واضح عوامی حمایت سامنے آتی ہے تو بھی اس کے لیے قانونی اور آئینی مذاکرات درکار ہوں گے اس عمل میں وفاقی حکومت، صوبوں اور مقامی آبادیوں، خصوصاً فرسٹ نیشنز کے معاہداتی حقوق، کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا
کارنی کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور محصولات کے دباؤ کا سامنا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں ملک کے اندر اختلافات کو کم کرنا اور مشترکہ معاشی منصوبوں پر آگے بڑھنا ضروری ہے آئینی تبدیلیوں کے امکان کا دروازہ کھلا رکھنے کے باوجود کارنی نے واضح کیا ہے کہ ایسی تبدیلیاں وسیع قومی اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہونی چاہییں





