Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اب دکان میں بھی اے آئی طے کرے گی آپ کتنا پیسہ خرچ کریں گے؟ امریکی صارفین میں نئی ٹیکنالوجی کے خلاف تشویش بڑھ گئی

اب دکان میں بھی اے آئی طے کرے گی آپ کتنا پیسہ خرچ کریں گے؟ امریکی صارفین میں نئی ٹیکنالوجی کے خلاف تشویش بڑھ گئی

امریکہ میں مصنوعی ذہانت کا استعمال اب صرف چیٹ بوٹس، دفاتر اور کمپیوٹر پروگراموں تک محدود نہیں رہا بلکہ بڑی دکانیں، سپر مارکیٹیں اور ریسٹورنٹ بھی قیمتیں طے کرنے کے لیے الگورتھم اور اے آئی پر انحصار بڑھا رہے ہیں،اس تبدیلی نے امریکی صارفین میں ایک نیا خدشہ پیدا کر دیا ہے،کیا مستقبل میں ایک ہی چیز خریدنے والے دو افراد کو مختلف قیمتیں ادا کرنا پڑیں گی، اور کیا کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنے کے لیے صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل ہوگی کہ وہ کسی چیز کے لیے کتنی رقم ادا کر سکتے ہیں؟
ایسوسی ایٹڈ پریس کی 18 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق، ڈیجیٹل قیمتوں کے ٹیگ تیزی سے روایتی کاغذی لیبلوں کی جگہ لے رہے ہیں، جبکہ مصنوعی ذہانت کے نظام دکانوں کو فروخت، طلب، حریف کمپنیوں کی قیمتوں اور صارفین کے ممکنہ ردعمل کا تجزیہ کرکے قیمتیں تبدیل کرنے میں مدد دیتے ہیں،اس طریقے کو متحرک قیمت بندی کہا جاتا ہے،جب قیمتیں صارفین کے ذاتی ڈیٹا یا ان کے ممکنہ خریداری رویے کی بنیاد پر طے کی جائیں تو اسے نگرانی پر مبنی قیمت بندی بھی کہا جاتا ہے
امریکی صارفین کی تشویش یہ ہے کہ اگر کمپنیاں یہ اندازہ لگانے لگیں کہ کون سا خریدار کسی چیز کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے پر آمادہ ہے تو اس ٹیکنالوجی کو منافع بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے،اس صورت میں صارف کو شاید یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اسے دکھائی جانے والی قیمت کسی دوسرے خریدار کے مقابلے میں زیادہ کیوں ہے
یہ خدشات محض مستقبل کے کسی تصور تک محدود نہیں رہے،انسٹاکارٹ نے اس وقت اپنے ایک تجربے کو ختم کر دیا تھا جب خریداروں کو مختلف گروپوں میں تقسیم کرکے قیمتوں کے فرق پر سوال اٹھائے گئے،کمپنی نے وضاحت کی تھی کہ اس تجربے میں قیمتیں ذاتی معلومات کی بنیاد پر مقرر نہیں کی جا رہی تھیں،اس واقعے نے یہ بحث مزید تیز کر دی کہ ڈیجیٹل خریداری کے نظام میں صارفین کو کس حد تک شفافیت حاصل ہونی چاہیے
ایمازون بھی قیمتوں کے تعین کے لیے استعمال ہونے والے ایک الگورتھم کے معاملے میں قانونی جانچ کی زد میں ہے،امریکی وفاقی تجارتی کمیشن نے 2023 میں دائر کیے گئے عدم اجارہ داری کے مقدمے میں الزام لگایا تھا کہ کمپنی کا پروجیکٹ نیسی نامی نظام بعض مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے اور حریفوں کو بھی قیمتیں بڑھانے پر آمادہ کرنے کے لیے استعمال ہوا،ایمازون نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے نے اس ٹول کے مقصد اور استعمال کی غلط تشریح کی ہے،اس مقدمے کی سماعت 2027 میں متوقع ہے
ریٹیل انڈسٹری کی نمائندہ تنظیم کا مؤقف ہے کہ قیمتوں میں تبدیلی کوئی نئی بات نہیں،دکانیں طویل عرصے سے طلب، رسد، موسم، حریفوں کی قیمتوں اور فروخت کے رجحانات کے مطابق قیمتیں تبدیل کرتی رہی ہیں،کمپنیوں کے مطابق، نئی ٹیکنالوجی اس عمل کو زیادہ مؤثر بناتی ہے،تاہم صارفین کے حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اے آئی اس نظام کو کہیں زیادہ پیچیدہ بنا سکتی ہے، خصوصاً جب قیمتیں طے کرنے کے عوامل عوام کی نظروں سے پوشیدہ رہیں
اس بحث کے ساتھ قانون سازوں اور صارفین کے تحفظ کے اداروں کی توجہ بھی بڑھ رہی ہے،امریکی وفاقی تجارتی کمیشن خبردار کر چکا ہے کہ ذاتی ڈیٹا اور الگورتھم کے ذریعے قیمتیں طے کرنے کے بعض طریقے صارفین کے تحفظ کے قوانین کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں،اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ قیمتیں تبدیل ہوتی ہیں، بلکہ یہ بھی ہے کہ صارف کو یہ جاننے کا حق کتنا حاصل ہے کہ اس کے لیے قیمت کس بنیاد پر مقرر کی گئی
مصنوعی ذہانت کے کاروباری استعمال پر یہ تنازعہ ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے، اگر کمپنیاں صارفین کے رویوں اور ادائیگی کی صلاحیت کا زیادہ درست اندازہ لگانے لگیں تو کیا اس سے مارکیٹ میں مقابلہ بہتر ہوگا یا صارفین کی معلومات کو ان کے خلاف استعمال کرنے کے نئے راستے کھلیں گے؟ امریکہ میں جاری بحث کا مرکز یہی ہے کہ ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والی کارکردگی کا فائدہ صرف کمپنیوں کو نہیں بلکہ خریداروں کو بھی پہنچنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید