برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم ریکارڈ سطح پر، ایک سال میں 15 فیصد اضافہ
برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی جرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،انگلینڈ اور ویلز کے لیے جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، مارچ 2026 پر ختم ہونے والے سال کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے پولیس میں درج جرائم کی تعداد 4,479 سے بڑھ کر 5,132 ہو گئی، جو 15 فیصد اضافہ ہے،یہ اضافہ تمام مذہبی گروہوں میں سب سے زیادہ تھا
ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ اور ویلز میں ایک سال کے دوران نسل اور مذہب کی بنیاد پر مجموعی طور پر 146,825 نفرت انگیز جرائم درج کیے گئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہیں،مذہبی بنیاد پر نفرت انگیز جرائم کی تعداد بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی
برطانوی مسلم ٹرسٹ، جسے حکومت نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی نگرانی کے لیے شراکت دار مقرر کیا ہے، نے خبردار کیا کہ صورت حال صرف مساجد کو نشانہ بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ اب مسلمانوں کو براہِ راست بھی حملوں اور دھمکیوں کا سامنا ہے
ٹرسٹ کے مطابق، جولائی 2025 سے جولائی 2026 کے درمیان برطانیہ اور چینل جزائر میں 64 مساجد سے متعلق 78 واقعات ریکارڈ کیے گئے،اس کا مطلب ہے کہ اس عرصے میں اوسطاً ہر پانچ دن میں کسی مسجد سے متعلق نفرت انگیز واقعہ پیش آیا
مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ مساجد کی حفاظت کے لیے بڑھتے ہوئے اخراجات اور اضافی حفاظتی اقدامات اس بات کی علامت ہیں کہ مسلم برادری کو اپنی عبادت گاہوں اور روزمرہ زندگی کے تحفظ کے لیے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے،وہ حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ صرف حفاظتی انتظامات پر رقم خرچ کرنے کے بجائے نفرت انگیزی کی بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دی جائے
یہ اعداد و شمار ایک اہم فرق بھی واضح کرتے ہیں،پولیس میں درج جرائم حقیقی واقعات کا مکمل احاطہ نہیں کرتے، کیونکہ ہر واقعے کی اطلاع پولیس کو نہیں دی جاتی،اس کے باوجود سرکاری ریکارڈ میں سامنے آنے والا اضافہ برطانیہ میں مذہبی اور نسلی نفرت کے مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے





