Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاک افغان سرحد کی بندش سے تجارت تباہی کے دہانے پر، ایک سال میں دوطرفہ کاروبار 1.3 ارب ڈالر سے گھٹ کر 358 ملین ڈالر رہ گیا

پاک افغان سرحد کی بندش سے تجارت تباہی کے دہانے پر، ایک سال میں دوطرفہ کاروبار 1.3 ارب ڈالر سے گھٹ کر 358 ملین ڈالر رہ گیا

پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے دونوں ملکوں کی تجارت کو شدید نقصان پہنچایا ہے سرحدی گزرگاہوں کی طویل بندش کے باعث پاکستانی تاجروں، صنعت کاروں، ٹرانسپورٹروں، کسانوں اور سرحدی علاقوں میں روزگار کمانے والے ہزاروں افراد کی مشکلات بڑھ گئی ہیں دوسری جانب افغانستان کو بھی اشیائے ضروریہ منگوانے کے لیے متبادل اور زیادہ مہنگے تجارتی راستوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے، جس سے کاروباری لاگت اور عام صارفین کے اخراجات میں اضافے کا خطرہ ہے
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف سرگرم دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے لیے قابل اعتماد اقدامات کیے بغیر معمول کے تعلقات بحال نہیں ہو سکتے اسلام آباد کے نزدیک قومی سلامتی بنیادی اہمیت رکھتی ہے، لیکن طویل عرصے تک تجارت بند رہنے سے معاشی نقصان بھی مسلسل بڑھ رہا ہے دوسری جانب افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستان کے سکیورٹی خدشات پر مطلوبہ اقدامات نہ ہونے اور دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی کمی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے
سرحدی کشیدگی کے باعث 12 اکتوبر 2025 سے طورخم سمیت کئی اہم تجارتی راستوں پر تجارت بند ہے خیبر پختونخوا میں خرلاچی، غلام خان اور انگور اڈہ جبکہ بلوچستان میں چمن کی گزرگاہیں بھی تجارتی سرگرمیوں کے لیے بند رہیں ان راستوں کی بندش سے صرف درآمدات اور برآمدات متاثر نہیں ہوئیں بلکہ ان سے وابستہ ٹرانسپورٹ، گوداموں، کسٹمز کلیئرنس اور مزدوری کا نظام بھی شدید متاثر ہوا ہے
تجارتی اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوطرفہ تجارت مالی سال 2024 سے 2025 کے دوران تقریباً 1.3 ارب ڈالر تھی، جو مالی سال 2025 سے 2026 میں کم ہو کر صرف 358 ملین ڈالر رہ گئی یہ تقریباً 74 فیصد کمی ہے افغانستان کے لیے پاکستان کے راستے ہونے والی ٹرانزٹ تجارت کو بھی بڑا دھچکا پہنچا۔ طالبان کی واپسی سے پہلے یہ تجارت تقریباً 89 ہزار کنٹینروں پر مشتمل تھی، جن کی مالیت 5 ارب ڈالر کے قریب تھی، لیکن مالی سال 2025 سے 2026 میں کنٹینروں کی تعداد گھٹ کر 11,592 رہ گئی اور مالیت صرف 367 ملین ڈالر تک پہنچ گئی
پاکستان افغانستان کو ادویات، سیمنٹ، پلاسٹک کی مصنوعات، چاول، پھل اور سبزیاں برآمد کرتا رہا ہے، جبکہ افغانستان سے پیاز، ٹماٹر، بیج، انگور، خشک خوبانیاں، سیب، کوئلہ اور خام سیسہ درآمد کیا جاتا ہے سرحد بند ہونے سے ان اشیا کی ترسیل رک گئی یا محدود ہو گئی، جس کے باعث تاجروں کو نئے خریدار تلاش کرنے اور سامان دوسرے راستوں سے بھیجنے میں اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں
پاکستان کی دوا ساز صنعت کے لیے افغانستان ایک اہم منڈی رہی ہے۔ مالی سال 2023 سے 2024 کے دوران پاکستان نے افغانستان کو تقریباً 130 ملین ڈالر کی ادویات برآمد کی تھیں اس منڈی تک رسائی ختم ہونے سے دوا ساز کمپنیوں کی فروخت، پیداوار، سرمایہ کاری اور ملازمتوں پر منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے خیبر پختونخوا کے کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اس صوبے کو پہلے ہی کراچی اور لاہور جیسے بڑے تجارتی مراکز اور سمندری بندرگاہوں سے فاصلے کے باعث نقل و حمل پر زیادہ خرچ کرنا پڑتا ہے افغانستان کے ساتھ تجارت اس اضافی لاگت کو کم کرنے اور صوبے کو ادویات کی پیداوار اور برآمدات کا اہم مرکز بنانے کا موقع فراہم کرتی تھی
زرعی شعبے میں بھی نقصانات سامنے آئے ہیں آلو کے تاجروں کے مطابق سرحد بند ہونے سے پہلے روزانہ 50 تک ٹرک آلو افغانستان جاتے تھے، جبکہ تقریباً 25 ٹرک سبزیاں بھی سرحد پار کرتے تھے افغانستان کی منڈی تک رسائی متاثر ہونے سے پاکستانی آلو کی طلب اور قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آیا اور بعض کاشت کاروں نے اگلی فصل کی کاشت کم کر دی زرعی پیداوار کے تاجروں کی تنظیم کے سربراہ ملک سونی کے مطابق انہیں آلو کی قیمتیں گرنے سے تقریباً 180 ملین روپے کا نقصان ہوا ان کا خدشہ ہے کہ آئندہ مہینوں میں محدود رسد اور بڑھتی ہوئی طلب کے باعث آلو مہنگے ہو سکتے ہیں
ٹرانسپورٹ کا کاروبار بھی شدید دباؤ میں ہے سرحدی تجارت سے وابستہ ڈرائیوروں، مزدوروں، کسٹمز ایجنٹوں، گوداموں میں کام کرنے والوں اور چھوٹے کاروباری افراد کی آمدنی متاثر ہوئی ہے پشاور کے ایک ٹرانسپورٹر عظیم اللہ کے مطابق کاروبار مسلسل بند رہنے کے باعث انہیں اپنے 5 میں سے 3 ٹرک فروخت کرنا پڑے ان کا کہنا ہے کہ ٹرکوں کو ملک کے دوسرے علاقوں میں چلانا بھی معاشی طور پر فائدہ مند نہیں رہا اس صورت حال کا سب سے زیادہ اثر ان خاندانوں پر پڑتا ہے جن کا روزگار براہ راست سرحدی تجارت سے وابستہ ہے
تاہم کاروباری حلقوں میں اس معاملے پر مکمل اتفاق نہیں ہے پشاور کے تاجر اور سابق صدر سرحد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فواد اسحاق کا مؤقف ہے کہ صرف تجارت کی خاطر قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا ان کے مطابق افغانستان کو برآمد ہونے والی مصنوعات کے لیے دوسری منڈیاں تلاش کی جا سکتی ہیں اور سکیورٹی کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے اس کے برعکس دوسرے تاجروں کا کہنا ہے کہ تجارت کو غیر معینہ مدت تک بند رکھنے کے بجائے ایسا نظام بنایا جائے جس میں سرحدی نگرانی بھی مؤثر ہو اور کاروبار بھی جاری رہ سکے
افغانستان نے بھی پاکستان پر انحصار کم کرنے کے لیے ایران اور وسطی ایشیا کے راستوں سے تجارت بڑھانے کی کوشش کی ہے تاہم متبادل راستے اختیار کرنے سے ہر مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ طویل فاصلے، زیادہ کرایوں اور ترسیل میں تاخیر سے درآمدی اشیا مہنگی ہو سکتی ہیں اس کا اثر بالآخر عام افغان شہریوں پر پڑتا ہے، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں پاکستانی اشیا اور سرحد پار کاروبار روزمرہ زندگی کا اہم حصہ رہے ہیں پاکستان کے لیے بھی افغانستان کی منڈی اور وسطی ایشیا تک رسائی کے تجارتی مواقع محدود ہونے کا خطرہ موجود ہے
اس تنازعے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر کارروائی اور علاقائی تجارت کو کس طرح ایک ساتھ آگے بڑھایا جائے پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں، لیکن سرحدوں کی طویل بندش کا بوجھ صرف حکومتوں یا بڑے تاجروں تک محدود نہیں رہتا۔ اس کی قیمت کسان، ڈرائیور، مزدور، چھوٹے دکاندار اور عام صارف بھی ادا کرتے ہیں اسی طرح افغانستان کے لیے بھی پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں، کیونکہ جغرافیائی قربت اور پہلے سے موجود تجارتی ڈھانچہ دونوں ملکوں کے لیے اہمیت رکھتے ہیں
ضرورت اس بات کی ہے کہ سکیورٹی معاملات پر واضح اور قابل تصدیق اقدامات، سرحدی نگرانی کے مؤثر انتظامات، تجارتی سامان کی جانچ اور مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے کوئی قابل عمل راستہ نکالا جائے اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو دونوں ملک نہ صرف موجودہ تجارت سے ہونے والی آمدنی کھوتے رہیں گے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کے مستقبل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچے گا

قومی خبریں سے مزید