Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

امریکا کا وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کا منصوبہ، مارکو روبیو ازبکستان پہنچ گئے، روس اور چین کے مفادات بھی داؤ پر

امریکا کا وسطی ایشیا میں اثر و رسوخ بڑھانے کا منصوبہ، مارکو روبیو ازبکستان پہنچ گئے، روس اور چین کے مفادات بھی داؤ پر

امریکا کے وزیر خارجہ مارکو روبیو وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ سفارتی، تجارتی اور سکیورٹی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے اتوار، 18 اکتوبر 2026 کو ازبکستان کے شہر سمرقند پہنچ گئے ان کے اس دورے کا مقصد ایسے خطے میں امریکی موجودگی بڑھانا ہے جو روس، چین اور ایران کے درمیان واقع ہونے کے باعث جغرافیائی، معاشی اور تزویراتی اہمیت رکھتا ہے امریکی حکومت اب اس خطے کے قدرتی وسائل، اہم معدنیات، توانائی اور تجارتی امکانات پر زیادہ توجہ دے رہی ہے
روبیو اپنے دورے کے دوران امریکا اور وسطی ایشیا کے 5 ممالک پر مشتمل سفارتی فورم کے اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں، جسے سی 5 پلس 1 کہا جاتا ہے اس فورم میں امریکا کے ساتھ ازبکستان، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ترکمانستان شامل ہیں ان ممالک کے وزرائے خارجہ اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، سرمایہ کاری، اہم معدنیات کے حصول اور سکیورٹی تعاون پر گفتگو متوقع ہے
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن طویل عرصے سے وسطی ایشیا کو اپنی خارجہ پالیسی میں زیادہ توجہ دینے کا خواہاں رہا ہے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر 2025 میں ان 5 ممالک کے رہنماؤں کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی تھی اب روبیو کا دورہ اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جا رہا ہے، جس کے ذریعے امریکا خطے کے ساتھ تعلقات کو عملی تجارتی اور معاشی منصوبوں میں تبدیل کرنا چاہتا ہے
وسطی ایشیا کی اہمیت کا ایک بڑا سبب اس کے قدرتی وسائل ہیں اس خطے میں مختلف اہم معدنیات، توانائی کے ذخائر اور صنعتی پیداوار کے امکانات موجود ہیں جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، الیکٹرانکس اور دفاعی صنعتوں میں استعمال ہونے والی اہم معدنیات کی عالمی مانگ بڑھ رہی ہے امریکا ان وسائل تک قابل اعتماد رسائی حاصل کرنے اور اپنی سپلائی چین کو متنوع بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب چین کے ساتھ تجارتی اور تزویراتی مقابلہ جاری ہے
روبیو کے ساتھ 200 سے زیادہ امریکی کاروباری رہنماؤں کی شرکت بھی اس دورے کے معاشی پہلو کو نمایاں کرتی ہے امریکی حکام چاہتے ہیں کہ خطے کے ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطے سرمایہ کاری، کاروباری معاہدوں، معدنیات کی ترقی اور توانائی کے منصوبوں میں تبدیل ہوں ان ملاقاتوں میں علاقائی رابطوں، بنیادی ڈھانچے اور دہشت گردی کے خلاف تعاون پر بھی توجہ دی جا رہی ہے
تاہم وسطی ایشیا میں امریکا کے لیے سب سے اہم سفارتی چیلنج روس اور چین کے ساتھ خطے کے ممالک کے تعلقات ہیں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد آزاد ہونے والی ان ریاستوں کے روس کے ساتھ تاریخی، اقتصادی اور سیاسی روابط اب بھی گہرے ہیں چین بھی تجارت، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے ذریعے خطے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے ان ممالک کے لیے امریکا کے ساتھ تعلقات بڑھانے کا ایک مقصد اپنے معاشی اور سفارتی شراکت داروں میں تنوع پیدا کرنا ہے، لیکن وہ روس اور چین کے ساتھ اپنے موجودہ تعلقات کو بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں
ایک اور حساس مسئلہ روس پر عائد امریکی اور یورپی پابندیاں ہیں مغربی حکام کا کہنا ہے کہ وسطی ایشیا کے بعض راستے روس کو ایسی درآمدات اور برآمدات جاری رکھنے میں مدد دیتے رہے ہیں جن پر پابندیاں لاگو ہوتی ہیں خطے کے بعض سفارت کار یہ جاننا چاہتے ہیں کہ واشنگٹن مستقبل میں پابندیوں سے بچنے کے ایسے طریقوں کے خلاف کتنی سخت کارروائی کرے گا اس لیے امریکی دورے کے دوران تجارت بڑھانے کے ساتھ پابندیوں اور علاقائی سلامتی کے معاملات بھی اہم رہیں گے
روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ، یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی کارروائیوں اور یوکرین کے معاملے پر اختلافات جیسے بڑے خارجہ پالیسی چیلنجز کا سامنا ہے روبیو نے اپنے حالیہ دوروں میں ان تنازعات کے مرکزی مقامات کے بجائے دیگر خطوں پر توجہ دی ہے بعض سابق امریکی سفارت کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا وزیر خارجہ کو بڑے عالمی بحرانوں اور اہم مذاکرات میں زیادہ براہ راست کردار ادا کرنا چاہیے
تاہم ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ امریکی خارجہ پالیسی صرف جاری بحرانوں پر ردعمل دینے تک محدود نہیں ہونی چاہیے حکومت کے مطابق مستقبل کے معاشی اور سکیورٹی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسے ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا بھی ضروری ہے جہاں فوری بحران موجود نہ ہو، لیکن جو امریکا کے طویل مدتی مفادات کے لیے اہم ہیں
وسطی ایشیا میں امریکا کی بڑھتی ہوئی دلچسپی پاکستان کے لیے بھی اہم ہے پاکستان جغرافیائی طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا کے درمیان واقع ہے اور علاقائی تجارت، توانائی کی ترسیل اور زمینی رابطوں میں کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اگر وسطی ایشیا کے ممالک امریکا کے ساتھ تجارتی روابط بڑھاتے ہیں تو اس سے خطے میں نئی سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں تاہم پاکستان کو اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کے لیے علاقائی رابطوں، تجارتی سہولتوں اور اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنانا ہوگا
روبیو کے دورے کے نتائج کا اندازہ صرف ملاقاتوں یا بیانات سے نہیں بلکہ اس بات سے لگایا جائے گا کہ کتنے عملی معاہدے ہوتے ہیں، کتنی سرمایہ کاری حقیقت میں آتی ہے اور سکیورٹی و تجارتی تعاون میں کتنی پیش رفت ہوتی ہے امریکا کے لیے یہ دورہ وسطی ایشیا میں اپنی موجودگی بڑھانے کا موقع ہے، جبکہ خطے کے ممالک کے لیے یہ روس اور چین کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے ایک اضافی عالمی شراکت دار سے معاشی فوائد حاصل کرنے کی کوشش ہے

قومی خبریں سے مزید