Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ انتظامیہ کا عدلیہ سے تصادم شدت اختیار کر گیا، درختوں کی کٹائی روکنے والی جج کو ہی ہٹانے کی درخواست

ٹرمپ انتظامیہ کا عدلیہ سے تصادم شدت اختیار کر گیا، درختوں کی کٹائی روکنے والی جج کو ہی ہٹانے کی درخواست
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے واشنگٹن ڈی سی کے ایک تاریخی عوامی گالف کورس پر سینکڑوں درخت کاٹنے کے معاملے میں حکومت کو سخت سرزنش کرنے والی وفاقی جج اینا رئیس کو مقدمے سے ہٹانے کی درخواست دائر کر دی ہے،محکمہ انصاف نے جج پر جانبداری اور انتظامیہ کے خلاف کھلی مخالفت کا الزام لگاتے ہوئے مقدمہ کسی دوسرے جج کو منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے،یہ تنازعہ اب درختوں کی کٹائی سے آگے بڑھ کر انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیار کی کشمکش کی صورت اختیار کر گیا ہے
تنازعہ واشنگٹن ڈی سی کے ایسٹ پوٹومیک گالف لنکس سے متعلق ہے، جہاں نیشنل پارک سروس کے عملے نے اکتوبر میں ایک ہی ہفتے کے دوران تقریباً 430 درخت کاٹ دیے،جج رئیس نے اس کارروائی پر سوال اٹھایا کہ جب عدالت اور مقدمہ دائر کرنے والے فریقوں کو پہلے سے مناسب اطلاع دینے کی ہدایت موجود تھی تو اتنی بڑی تعداد میں درخت کاٹنے کا فیصلہ اتنی جلدی کیوں نافذ کیا گیا
جج نے انتظامیہ کو مزید درخت کاٹنے سے روک دیا اور حکم دیا کہ متعلقہ سرکاری حکام عدالت میں پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کٹائی کا منصوبہ کیسے تیار ہوا اور اسے اتنی تیزی سے نافذ کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی،عدالت نے مزید یہ بھی کہا کہ گالف کورس میں کسی مستقل تبدیلی سے پہلے عدالت اور مدعی فریقوں کو کم از کم تین کاروباری دن کی اطلاع دینا ضروری ہوگا،یہ پابندی فی الحال 26 اکتوبر تک برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے
محکمہ انصاف نے 16 اکتوبر کو دائر کردہ اپنی درخواست میں جج کے طرزِ عمل کو غیرمعمولی اور نامناسب قرار دیا،حکومتی وکلا کا مؤقف ہے کہ سماعت کے دوران جج نے انتظامیہ کے نمائندوں کے ساتھ سخت اور تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا اور ان کے مطابق ان کا طرزِ عمل اس مقدمے میں غیرجانب داری کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا،حکومت نے سماعت کی آڈیو ریکارڈنگ عوام کے سامنے جاری کرنے کی درخواست بھی کی ہے
دوسری جانب جج رئیس کے اعتراضات کی بنیاد صرف درختوں کی تعداد نہیں بلکہ کارروائی کا طریقہ اور اس کے ماحولیاتی اثرات بھی ہیں،انتظامیہ کا کہنا ہے کہ درختوں کی کٹائی 2019 کی ایک پرانی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کا حصہ تھی، جس کا مقصد گالف کورس کی تاریخی شکل بحال کرنا تھا،حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ یہ کام صدر ٹرمپ کے مجوزہ نئے منصوبے سے الگ ہے
تاہم جج نے اپنے تحریری فیصلے میں اس وضاحت کو قبول نہیں کیا،ان کے مطابق دستیاب شواہد سے ظاہر ہوتا ہے کہ درختوں کی کٹائی میں غیرمعمولی تیزی اس لیے دکھائی گئی کیونکہ صدر ٹرمپ اپنے منصوبے پر جلد پیش رفت چاہتے تھے،عدالت نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا کہ جب ماحولیاتی اثرات کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا تھا تو اتنے بڑے پیمانے پر کٹائی کی فوری ضرورت کیا تھی،حکومتی منصوبے کے تحت اب بھی تقریباً 300 مزید درخت کاٹے جانے کا امکان ہے
یہ قانونی تنازعہ فروری میں دائر کیے گئے مقدمے سے شروع ہوا، جس میں ڈی سی پریزرویشن لیگ اور دو مقامی گالف کھلاڑیوں نے انتظامیہ کے منصوبے کو چیلنج کیا تھا،مدعیوں کا کہنا ہے کہ تاریخی عوامی تفریحی مقام کی وسیع پیمانے پر تبدیلی ماحولیاتی قوانین اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے تقاضوں کو متاثر کر سکتی ہے،ان کے خدشات میں یہ بھی شامل ہے کہ ایک عوامی گالف کورس کو زیادہ مہنگی اور اعلیٰ درجے کی سہولت میں تبدیل کرنے سے عام شہریوں کی رسائی متاثر ہو سکتی ہے
صدر ٹرمپ نے 18 اکتوبر کو اعلان کیا کہ گالف کورس کو 15 نومبر سے تقریباً 15 ماہ کے لیے بند کرکے اس کی بڑے پیمانے پر تزئینِ نو کی جائے گی،ان کا کہنا ہے کہ موجودہ کورس خستہ حال اور غیرمحفوظ ہے اور اسے عالمی معیار کے مقابلوں کے قابل بنایا جانا چاہیے،یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب عدالت پہلے ہی درختوں کی مزید کٹائی روک چکی تھی اور انتظامیہ سے منصوبے کی تفصیلات طلب کر رہی تھی
اب جج کو مقدمے سے الگ کرنے کی حکومتی درخواست اور درختوں کی کٹائی کے معاملے پر آئندہ عدالتی سماعت اہمیت اختیار کر گئی ہے،19 اکتوبر کو نیشنل پارک سروس کی قائم مقام ڈائریکٹر جیسیکا باؤرون اور محکمہ داخلہ کے نائب چیف آف اسٹاف گریگوری وشر سے منصوبے کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کے بارے میں وضاحت طلب کی گئی ہے
اس مقدمے کا بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا وفاقی حکومت کسی عوامی مقام میں بڑی اور مستقل تبدیلیاں کرتے ہوئے ماحولیاتی قوانین اور عدالتی ہدایات کی پابندی سے استثنیٰ حاصل کر سکتی ہے، یا اسے دوسرے سرکاری منصوبوں کی طرح عدالتی نگرانی اور قانونی تقاضوں کا سامنا کرنا ہوگا،جج کو ہٹانے کی درخواست پر فیصلہ اس تنازعہ کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا

قومی خبریں سے مزید