Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

فطرت کے اس غیرمعمولی منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے 20 ہزار تصاویر کھینچنی پڑیں

فطرت کے اس غیرمعمولی منظر کو کیمرے میں محفوظ کرنے کے لیے 20 ہزار تصاویر کھینچنی پڑیں

نیشنل جیوگرافک کے فوٹوگرافر خائمے روخو نے دو دہائیوں تک شمالی امریکا میں بادشاہ تتلیوں کا تعاقب کیا،اب وہ اپنی تصاویر کے پیچھے چھپی حیرت انگیز کہانیاں اور ان نادر لمحات کے بارے میں بتاتے ہیں جنہیں محفوظ کرنے کے لیے انہیں برسوں انتظار کرنا پڑا
فروری 2004 میں ہسپانوی فوٹوگرافر خائمے روخو میکسیکو کے جنگلات سے ڈھکے پہاڑی سلسلے سیرا چنکوا میں ایک ڈھلوان پر چڑھ رہے تھے،یہ علاقہ لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں بادشاہ تتلیوں کی پناہ گاہ بھی ہے، جہاں یہ تتلیاں ہر موسم سرما میں ہجرت کرکے پہنچتی ہیں
اپنے ساتھ لانے والے دوستوں کے ہمراہ اوپر چڑھتے ہوئے انہیں راستے میں بادشاہ تتلیاں دکھائی دینے لگیں،ابتدا میں ان کی تعداد کم تھی، لیکن جوں جوں وہ بلندی کی طرف بڑھتے گئے، درختوں کے درمیان ایک سرگوشی جیسی آواز سنائی دینے لگی
اچانک تتلیوں کا ایک بہت بڑا غول ان کے سروں کے اوپر سے گزرا،نیلے آسمان کے پس منظر میں لاکھوں نارنجی اور سیاہ پروں کی پھڑپھڑاہٹ ایک ناقابلِ یقین منظر پیش کر رہی تھی
روخو کے مطابق، تتلیاں اس قدر بڑی تعداد میں اڑ رہی تھیں کہ جب وہ ان کے اوپر سے گزرتیں تو ان کے پروں سے پیدا ہونے والی ہلکی ہوا بھی محسوس ہوتی تھی
نیشنل جیوگرافک کے معروف فوٹوگرافر خائمے روخو کی دو دہائیوں پر محیط یہ تصویری کہانی لاکھوں بادشاہ تتلیوں کے اس حیرت انگیز قدرتی مظاہرے کو محفوظ کرتی ہے
روخو کا میکسیکو میں قیام محض چھ ماہ کے لیے طے تھا، لیکن ان تتلیوں کے غیرمعمولی حسن اور ان کے قدرتی ماحول نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا

قومی خبریں سے مزید