Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان کی امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری پر زور، تہران کا دھمکیوں کے آگے جھکنے سے انکار

پاکستان کی امریکا اور ایران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری پر زور، تہران کا دھمکیوں کے آگے جھکنے سے انکار

پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری جاری رکھنے پر زور دیا ہے، جبکہ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکی دھمکیوں اور دباؤ کے سامنے اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا دوسری جانب تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی اپنی 7 روزہ تجویز برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے، تاہم اس کے لیے امریکی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے سمیت متعدد شرائط پیش کی گئی ہیں
پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار، 18 اکتوبر کو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال اور جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا اسحاق ڈار نے مسائل کے حل کے لیے مسلسل مذاکرات اور سفارتی رابطوں کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ دونوں ممالک نے قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا
یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان تنازع کے ساتھ یمن میں بھی لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے خطے میں مختلف محاذوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے علاقائی سلامتی، تجارت اور تیل کی عالمی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھا دیے ہیں
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران دھمکیوں، دباؤ یا خوف زدہ کرنے کی کوششوں کو قبول نہیں کرتا اور دباؤ کے تحت اپنے خودمختار حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تہران باہمی احترام اور قابل اعتماد ضمانتوں کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے
عراقچی کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی 7 روزہ تجویز اب بھی زیر غور ہے ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ایرانی تجویز پر اپنا ردعمل دیا ہے، جس کا ایران جائزہ لے رہا ہے انہوں نے امید ظاہر کی کہ اگر واشنگٹن سنجیدگی کا مظاہرہ کرے تو اس اہم سمندری راستے کو کھولنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے
ایران کی پیش کردہ شرائط میں ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کرنا، ایرانی تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹانا اور خطے کے مختلف محاذوں پر جاری لڑائی کا خاتمہ شامل ہے عراقچی کے مطابق اگر امریکا ان شرائط کو قبول کر لیتا ہے تو آبنائے ہرمز 6 دن کے اندر کھولی جا سکتی ہے اور اس کے اگلے روز مذاکرات دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان شرائط پر امریکا کی حتمی رضامندی کی تصدیق نہیں ہوئی
دوسری جانب ایران کے نئے وزیر دفاع مہرداد اخلاقی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران پر فوجی حملہ کیا تو اسے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کسی نئے حملے کی صورت میں سخت ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے
ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک طرف مذاکرات کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، لیکن دوسری طرف اپنی دفاعی پوزیشن اور امریکی دباؤ کے خلاف سخت مؤقف بھی برقرار رکھے ہوئے ہے اس صورت حال میں کسی ممکنہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار دونوں ممالک کی شرائط پر اتفاق اور ان وعدوں پر عمل درآمد پر ہوگا
اسی دوران اسحاق ڈار نے مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کی حمایت کا اعادہ کیا انہوں نے پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب پر مشتمل علاقائی چار فریقی تعاون کے نظام، جسے آر 4 کہا جاتا ہے، کے تحت تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا اور آئندہ اجلاس میں علاقائی مسائل پر مزید رابطہ کاری کی توقع ظاہر کی
پاکستان کی سفارتی کوششوں کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے اہم ترین راستوں میں شامل ہے اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہونے سے تیل اور گیس کی عالمی رسد متاثر ہو سکتی ہے، توانائی کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں اور درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کی معیشتوں پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال اہم ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی، بجلی کی پیداوار اور ملکی درآمدی بل کو متاثر کر سکتا ہے
پاکستان اس تنازع میں مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی حمایت کرتا رہا ہے اس سے پہلے بھی اسلام آباد نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کوششیں کی ہیں تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات، پابندیوں اور سکیورٹی سے متعلق خدشات بدستور موجود ہیں
موجودہ صورت حال میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا امریکا اور ایران ایک دوسرے کی شرائط پر قابل قبول سمجھوتا کر سکیں گے ایران آبنائے ہرمز کھولنے اور مذاکرات کی بحالی کو امریکی ناکہ بندی اور پابندیوں کے خاتمے سے جوڑ رہا ہے، جبکہ کسی حتمی معاہدے کی تفصیلات ابھی طے نہیں ہوئیں اگر سفارتی رابطے نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور عالمی تجارت کو سہارا ملنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے لیکن اگر فوجی دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت تک پھیل سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید