امریکا نے یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ دوبارہ شروع کر دیا، زیلنسکی کا اعلان
امریکا نے روسی میزائل حملوں سے دفاع میں مدد دینے کے لیے یوکرین کو اہم انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنا دوبارہ شروع کر دی ہیں،یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اتوار کو شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں بتایا کہ معلومات کے تبادلے میں مختصر وقفے کے بعد یہ سلسلہ بحال ہو گیا ہے
یوکرین روس کی جانب سے اپنے شہروں پر داغے جانے والے تیز رفتار بیلسٹک میزائلوں کا بروقت سراغ لگانے کے لیے امریکی انٹیلی جنس پر انحصار کرتا رہا ہے،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کے ساتھ انٹیلی جنس کا تبادلہ جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم یوکرینی حکام کے مطابق روس کے بعض حملے پیشگی انتباہ کے بغیر ہوئے تھے
این بی سی کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے زیلنسکی نے بتایا کہ انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی عارضی طور پر روک دی گئی تھی، لیکن بعد میں یہ رکاوٹ ختم کر دی گئی
انہوں نے کہا، ’’ہم اس کے لیے بہت شکر گزار ہیں،اب یہ سلسلہ کام کر رہا ہے۔‘‘
تاہم زیلنسکی نے خبردار کیا کہ امریکا کے بعض دوسرے اقدامات یوکرین کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں،ان میں روس سے ڈیزل درآمد کرنے کا معاہدہ اور روس پر ان پابندیوں سے چھوٹ دینا بھی شامل ہے جن کا نفاذ اسی ہفتے ہونا تھا
زیلنسکی نے کہا، ’’اگر امریکا باضابطہ طور پر روس کا ساتھ دینے لگے، اور یہ دونوں ممالک ایک طرف ہو جائیں، تو یقیناً ہم فتح حاصل نہیں کر سکیں گے اور نہ ہی اپنے قدموں پر کھڑے رہ سکیں گے”
گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان اختلافات میں اضافے نے یوکرین کے مستقبل اور روس کے خلاف جنگ میں امریکی حمایت کے تسلسل کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں





