بلوچستان میں مسلح افراد کا ماربل کان پر حملہ، 18 مزدور اغوا، فرار ہونے کی کوشش پر ایک مزدور زخمی
بلوچستان کے ضلع خضدار کے علاقے نال میں مسلح افراد نے ماربل کی کان پر حملہ کرکے 18 افراد کو اغوا کر لیا، جن میں کان کے مالک کا بیٹا بھی شامل ہے حملہ آور جاتے ہوئے 2 گاڑیاں اور ایک لوڈر بھی اپنے ساتھ لے گئے پولیس کے مطابق ایک مزدور نے فرار ہونے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے اس پر فائرنگ کردی واقعے کے بعد مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے
یہ واقعہ اتوار، 18 اکتوبر 2026 کو خضدار شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور نال کے علاقے میں پیش آیا اطلاعات کے مطابق بڑی تعداد میں مسلح افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہوکر ماربل کی کان اور فیکٹری میں داخل ہوئے انہوں نے وہاں موجود مزدوروں کو اسلحے کے زور پر قابو میں لیا اور 18 افراد کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے
اغوا کیے گئے مزدوروں کا تعلق خضدار کے علاقوں وڈھ اور نال سے بتایا گیا ہے کان کے مالک کا بیٹا بھی مغویوں میں شامل ہے کان سردار عالم خان بزنجو کی ملکیت بتائی گئی ہے، جو سردار اسلم بزنجو کے صاحبزادے ہیں سردار اسلم بزنجو نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے ہیں اور بلوچستان کی مختلف حکومتوں میں صوبائی وزیر کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں
پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے ایک مزدور کو اس وقت گولی ماری جب اس نے ان کے چنگل سے نکلنے کی کوشش کی۔ حملے کے بعد مسلح افراد کان سے 2 گاڑیاں اور ایک لوڈر لے کر فرار ہوگئے
تاحال کسی مسلح تنظیم نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور حکام نے اغوا کاروں کے مقصد کے بارے میں بھی کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا سکیورٹی فورسز اور پولیس مغویوں کا سراغ لگانے اور انہیں بحفاظت بازیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہیں
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بلوچستان میں اغوا کے دیگر واقعات نے بھی امن و امان کی صورت حال پر تشویش بڑھا دی ہے اس سے ایک روز قبل ضلع مستونگ میں مسلح افراد کی جانب سے 20 پولیس اہلکاروں کو اغوا کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں اس کے علاوہ رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کے اغوا کی خبر بھی رپورٹ ہوئی ہے ان واقعات نے صوبے میں سرکاری اہلکاروں، مزدوروں اور کاروباری مراکز کی حفاظت کے حوالے سے نئے سوالات پیدا کردیے ہیں
بلوچستان معدنی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے، جہاں ماربل، کوئلہ، تانبے اور دیگر معدنیات کی کان کنی سے مقامی لوگوں کو روزگار ملتا ہے تاہم دور دراز پہاڑی علاقوں میں قائم کانوں اور فیکٹریوں کی حفاظت ایک بڑا چیلنج ہے ایسے مقامات پر مسلح حملوں اور اغوا کے واقعات نہ صرف مزدوروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں بلکہ سرمایہ کاری، صنعتی سرگرمیوں اور مقامی خاندانوں کے روزگار کو بھی متاثر کرتے ہیں
حالیہ واقعات میں سب سے اہم سوال مغویوں کی بحفاظت واپسی کا ہے حکام کے لیے ضروری ہے کہ علاقے میں سرچ آپریشن مؤثر بنایا جائے، مغویوں کے اہل خانہ کو معلومات فراہم کی جائیں اور حملہ آوروں کو گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے بلوچستان میں پائیدار امن کے لیے صرف کارروائیاں کافی نہیں بلکہ عام شہریوں، مزدوروں اور کاروباری افراد کو تحفظ فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے





