Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ماہ میں 1,129 مشتبہ افراد گرفتار، متاثرین کو 10 کروڑ 53 لاکھ روپے واپس

پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف کریک ڈاؤن، ایک ماہ میں 1,129 مشتبہ افراد گرفتار، متاثرین کو 10 کروڑ 53 لاکھ روپے واپس

پاکستان میں سائبر جرائم، آن لائن مالی فراڈ اور ڈیجیٹل ذرائع سے شہریوں کو نقصان پہنچانے والے نیٹ ورکس کے خلاف ملک گیر کارروائیوں کے دوران قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے ایک ماہ میں 1,129 مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ایجنسی کے مطابق ان کارروائیوں کے دوران متاثرین سے وصول یا فراڈ کے ذریعے حاصل کی گئی رقم میں سے 10 کروڑ 53 لاکھ روپے برآمد کرکے متاثرہ افراد کو واپس کیے گئے
ایجنسی کی ایک ماہ کی کارکردگی رپورٹ کے مطابق، نئے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد گزشتہ ایک ماہ کے دوران شہریوں کی جانب سے سائبر جرائم سے متعلق 5,176 شکایات موصول ہوئیں ان شکایات کی بنیاد پر 4,491 انکوائریاں درج کی گئیں، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مبینہ سائبر جرائم میں ملوث افراد کے خلاف 272 مقدمات قائم کیے گئے
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں آن لائن جرائم کے خلاف کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، لیکن شکایات کی بڑی تعداد اس بات کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ شہریوں کو ڈیجیٹل دنیا میں مالی دھوکا دہی اور دیگر جرائم سے تحفظ فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے
پاکستان میں آن لائن فراڈ کی مختلف شکلیں سامنے آ رہی ہیں بعض افراد جعلی سرمایہ کاری اسکیموں کے ذریعے شہریوں کو زیادہ منافع کا لالچ دیتے ہیں، جبکہ بعض مجرم بینکوں، مالیاتی اداروں یا سرکاری محکموں کے نمائندے بن کر لوگوں سے ذاتی معلومات اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جعلی پیغامات، مشکوک روابط، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور موبائل فون کے ذریعے کی جانے والی دھوکا دہی بھی اس مسئلے کا حصہ ہے
حالیہ کارروائیوں میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا ہے ان مراکز پر الزام ہے کہ وہاں کام کرنے والے بعض افراد بیرون ملک شہریوں کو بینکوں یا دیگر مالیاتی اداروں کے نمائندے بن کر فون کرتے، ان کی حساس معلومات حاصل کرتے اور مبینہ طور پر ان معلومات کو مالی فراڈ کے لیے استعمال کرتے تھے لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ایسی کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں موبائل فون، کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل آلات بھی قبضے میں لیے گئے ہیں
سائبر جرائم کا ایک سنگین پہلو آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور شہریوں کی نجی تصاویر یا ویڈیوز کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے بعض واقعات میں مجرم سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں سے تعلقات قائم کرکے انہیں اعتماد میں لیتے ہیں اور بعد میں ذاتی مواد یا معلومات کو مالی فائدہ حاصل کرنے یا دھمکانے کے لیے استعمال کرتے ہیں ایسے جرائم متاثرین کو مالی نقصان کے ساتھ شدید ذہنی دباؤ اور سماجی مشکلات سے بھی دوچار کر سکتے ہیں
بچوں کو آن لائن استحصال سے بچانا بھی ایک اہم مسئلہ ہے حالیہ کارروائیوں کے دوران بچوں سے متعلق آن لائن جنسی جرائم کے مقدمات میں بھی گرفتاریاں رپورٹ ہوئی ہیں ایجنسی کے مطابق ایسے جرائم کی شناخت اور تحقیقات بہتر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق اداروں کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے
ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی نے کہا ہے کہ شہریوں، اداروں اور ملک کے ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کا تحفظ ایجنسی کی ترجیحات میں شامل ہے اور سائبر جرائم کے خلاف عدم برداشت کی پالیسی جاری رہے گی
تاہم صرف گرفتاریوں کی تعداد سے سائبر جرائم کے مسئلے کے مکمل خاتمے کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب تحقیقات کے بعد مقدمات عدالتوں میں مؤثر انداز سے آگے بڑھیں، مجرموں کو قانون کے مطابق سزا ملے، متاثرین کی رقم واپس ہو اور ایسے نیٹ ورکس دوبارہ کام شروع نہ کر سکیں اس کے لیے جدید ڈیجیٹل فرانزک سہولتیں، تربیت یافتہ تفتیش کار، بینکوں اور ٹیلی مواصلاتی کمپنیوں کے ساتھ تعاون اور مالی لین دین کی بروقت نگرانی ضروری ہے
شہریوں کو بھی احتیاط برتنے کی ضرورت ہے نامعلوم روابط پر کلک کرنے، غیر مصدقہ سرمایہ کاری اسکیموں میں رقم لگانے اور فون یا پیغام کے ذریعے کسی کو بینک اکاؤنٹ، شناختی دستاویزات یا یک وقتی تصدیقی کوڈ فراہم کرنے سے گریز کرنا چاہیے کسی مشکوک کال یا پیغام کی صورت میں متعلقہ ادارے سے اس کے سرکاری رابطے کے ذریعے تصدیق کرنی چاہیے
پاکستان میں سائبر جرائم کے خلاف ایک ماہ کے دوران سامنے آنے والے اعداد و شمار کارروائیوں کی اہمیت کو ظاہر کرتے ہیں، لیکن عوام کا اعتماد بحال کرنے کے لیے مستقل نتائج ضروری ہیں گرفتاریاں، مؤثر عدالتی کارروائی، متاثرین کو بروقت انصاف اور شہریوں میں آگاہی ہی وہ اقدامات ہیں جن سے آن لائن دھوکا دہی کے بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید