جاپان میں ڈیجیٹل کتابوں پر پابندی ، بچوں کی تعلیم میں کاغذی کتابوں کو مرکزی حیثیت دینے کا فیصلہ
جاپان نے تعلیمی نظام میں ڈیجیٹل کتابوں کے استعمال کے حوالے سے محتاط پالیسی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے حکومت کی مجوزہ ہدایات کے مطابق 2030 سے اسکولوں میں کاغذی کتابیں بنیادی ذریعہ تعلیم رہیں گی، جبکہ ڈیجیٹل مواد کو معاون اور اضافی تدریسی وسائل کے طور پر استعمال کیا جائے گا اس فیصلے کا مقصد بچوں کی تعلیمی کارکردگی، صحت اور لکھنے پڑھنے کی صلاحیتوں کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانا ہے
جاپان کی وزارت تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیار کردہ مسودہ ہدایات کے مطابق چوتھی جماعت اور اس سے کم عمر جماعتوں میں مکمل طور پر ڈیجیٹل کتابوں کی اجازت نہیں ہوگی ان بچوں کے لیے کاغذی کتابیں بنیادی ذریعہ تعلیم ہوں گی اور ڈیجیٹل مواد محدود رکھا جائے گا۔ پانچویں جماعت اور اس سے اوپر کی جماعتوں میں بھی کتابوں کا بنیادی حصہ کاغذ پر مشتمل ہوگا، جبکہ انگریزی، موسیقی، فنون اور بعض عملی مضامین میں ڈیجیٹل مواد کو زیادہ جگہ دی جا سکے گی
یہ ہدایات ابھی مسودے کی شکل میں ہیں اور ان پر ماہرین کی رائے لی جانی ہے جاپانی حکومت کا منصوبہ ہے کہ عوامی آرا حاصل کرنے کے بعد رواں سال کے اختتام تک حتمی ضابطے مرتب کیے جائیں
جاپان نے جون 2026 میں تعلیمی قوانین میں ترامیم منظور کی تھیں، جن کے تحت 2030 کے تعلیمی سال سے کتابوں کی 3 اقسام متعارف کرانے کی قانونی بنیاد قائم کی گئی ان میں کاغذ اور ڈیجیٹل مواد کا مشترکہ نظام، مکمل ڈیجیٹل کتابیں اور صرف کاغذی کتابیں شامل ہیں تاہم نئی مجوزہ ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ عملی طور پر کاغذی کتابوں کو ترجیح دی جائے گی
نئے نظام کا اطلاق مرحلہ وار ہوگا ابتدائی اسکولوں میں 2030، جونیئر ہائی اسکولوں میں 2031 اور ہائی اسکولوں میں 2032 کے تعلیمی سال سے نئی طرز کی کتابیں متعارف کرانے کا منصوبہ ہے
اس پالیسی کے پیچھے بچوں کی ذہنی نشوونما اور سیکھنے کے طریقوں سے متعلق خدشات اہم ہیں جاپانی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم عمر بچوں کی ذہنی صلاحیتیں ابھی تشکیل پا رہی ہوتی ہیں، اس لیے تعلیم میں ڈیجیٹل آلات کے استعمال کے اثرات کا احتیاط سے جائزہ لینا ضروری ہے بعض ماہرین کے مطابق کاغذ پر پڑھنے سے بچوں کو سبق پر توجہ مرکوز کرنے اور تحریری مواد کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے
حکومت نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ کلاس روم میں ہاتھ سے لکھنے کی سرگرمیوں کے لیے مناسب وقت مختص کیا جائے اس کی وجہ یہ ہے کہ تعلیم صرف معلومات پڑھ لینے یا اسکرین پر دیکھنے کا نام نہیں بلکہ لکھنے، یاد رکھنے، سمجھنے اور اپنے الفاظ میں بات بیان کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا بھی اس کا اہم حصہ ہے
ڈیجیٹل کتابوں کے استعمال سے بچوں کی بینائی اور صحت پر ممکنہ اثرات بھی زیر غور ہیں مجوزہ ہدایات کے مطابق نئی کتابیں متعارف ہونے کے بعد طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور صحت کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا اگر تحقیق سے معلوم ہوا کہ کسی مخصوص عمر یا مضمون میں ڈیجیٹل مواد کے استعمال سے نقصان ہو رہا ہے تو اس کے مطابق پالیسی میں تبدیلی کی جا سکتی ہے
جاپان نے ڈیجیٹل کتابوں میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے امکان کو بھی مکمل طور پر رد نہیں کیا، لیکن اس معاملے پر مزید تحقیق اور عملی شواہد کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس کے ساتھ معذور طلبہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خصوصی سہولتوں پر بھی توجہ دی جائے گی
ڈیجیٹل تعلیم کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ ویڈیوز، آواز، متحرک تصاویر اور تعاملی مشقوں کے ذریعے مشکل مضامین کو آسانی سے سمجھایا جا سکتا ہے ڈیجیٹل کتابیں طلبہ کو اپنی رفتار کے مطابق سیکھنے اور مختلف تعلیمی وسائل تک رسائی فراہم کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہیں خاص طور پر ان بچوں کے لیے جنہیں پڑھنے یا دیکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، مناسب ڈیجیٹل سہولتیں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں
تاہم جاپان کا فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کو تعلیم میں شامل کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ روایتی طریقوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے حکومت ڈیجیٹل سہولتوں سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی یقینی بنانا چاہتی ہے کہ بچوں کی بنیادی تعلیمی صلاحیتیں متاثر نہ ہوں
اس فیصلے سے دنیا کے دوسرے ممالک کے لیے بھی ایک اہم سبق سامنے آتا ہے اسکولوں میں کمپیوٹر، ٹیبلٹ اور ڈیجیٹل کتابیں متعارف کرانا بذات خود تعلیمی معیار میں بہتری کی ضمانت نہیں اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ بچے کتنا سیکھ رہے ہیں، ان کی پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیتوں میں کتنی بہتری آ رہی ہے اور ٹیکنالوجی ان کی ذہنی نشوونما میں کس حد تک مددگار ثابت ہو رہی ہے
جاپان کی مجوزہ پالیسی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ تعلیم میں ٹیکنالوجی کو مقصد کے بجائے ایک ذریعہ سمجھا جائے کاغذی کتابوں اور ڈیجیٹل مواد کے درمیان مناسب توازن قائم کرکے جدید سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، جبکہ بچوں کی صحت، توجہ اور بنیادی تعلیمی مہارتوں کو بھی محفوظ رکھا جا سکتا ہے





