Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں امپورٹ ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت خطرے میں، لاکھوں ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان میں امپورٹ ڈیوٹی میں کمی سے مقامی صنعت خطرے میں، لاکھوں ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ

پاکستان کی حکومت نے درآمدی ڈیوٹی میں بتدریج کمی کرکے ملکی منڈی کو غیر ملکی مصنوعات کے لیے زیادہ کھولنے کی پالیسی اختیار کی ہے، لیکن مقامی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے پہلے ملک میں کاروبار کرنے کی بنیادی مشکلات دور کرنا ضروری تھا اگر بجلی، گیس، قرضوں اور ٹیکسوں کی بلند لاگت برقرار رہی اور غیر ملکی مصنوعات کم ڈیوٹی پر پاکستان پہنچنے لگیں تو مقامی صنعتوں کے لیے ان کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے اس کے نتیجے میں پیداوار میں کمی، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور روزگار کے مواقع متاثر ہونے کا خدشہ ہے
پاکستان نے قومی ٹیرف پالیسی 2025 سے 2030 کے تحت درآمدی ڈیوٹی کم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اس پالیسی کا بنیادی مقصد درآمدی خام مال سستا کرنا، صنعتوں میں مسابقت بڑھانا اور پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈیوں میں زیادہ قابل مقابلہ بنانا ہے پالیسی کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ جب مقامی صنعتوں کو غیر ملکی مصنوعات سے مقابلے کا سامنا ہوگا تو وہ اپنی پیداواری صلاحیت، معیار اور کارکردگی بہتر بنانے پر مجبور ہوں گی
تاہم مقامی صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تصور پاکستان کے زمینی حالات کو پوری طرح مدنظر نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق پاکستان میں بجلی اور گیس کے نرخ، کاروباری قرضوں پر سود، ٹیکسوں کا بوجھ اور دیگر پیداواری اخراجات کئی حریف ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں ایسی صورت میں صرف درآمدی ڈیوٹی کم کردینا مقامی مصنوعات کو سستا بنانے کے لیے کافی نہیں ہوگا
عالمی بینک کی 2022 کی ایک رپورٹ میں پاکستان کی برآمدات میں طویل عرصے سے جاری کمزوری کی وجوہات میں درآمدی محصولات کے پیچیدہ نظام اور مقامی منڈی کو حاصل تحفظ کا ذکر کیا گیا تھا اس مؤقف کے مطابق زیادہ درآمدی ڈیوٹی مقامی صنعتوں کو اپنی مصنوعات ملکی منڈی میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا موقع دیتی ہے، جس سے بعض کاروبار عالمی منڈی میں مقابلہ کرنے کے بجائے مقامی صارفین پر انحصار کرتے رہتے ہیں
لیکن صنعت کاروں کا جواب ہے کہ پاکستان میں مسئلہ صرف درآمدی ڈیوٹی نہیں بلکہ کاروبار کرنے کی مجموعی لاگت ہے ان کے مطابق اگر مقامی صنعت کو بجلی، مالیات اور ٹیکسوں کے باعث پہلے ہی زیادہ اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہوں تو غیر ملکی مصنوعات کے لیے ڈیوٹی کم کرنے سے مقابلے کی شرائط مزید غیر مساوی ہو سکتی ہیں
پاکستان کی برآمدات کو ایک اور مسئلہ غیر ملکی خریداروں تک رسائی میں مشکلات کا ہے صنعت کاروں کے مطابق سکیورٹی خدشات، سفر کے انتظامات اور زیادہ انشورنس اخراجات کی وجہ سے بیرون ملک کے خریدار پاکستان آنے سے ہچکچاتے ہیں اس کے علاوہ افریقہ، وسطی ایشیا اور جنوبی امریکا جیسی ممکنہ منڈیوں کے ساتھ مؤثر آزاد تجارتی معاہدوں کی کمی اور برآمد کنندگان کو بعض حریف ممالک جیسی مراعات نہ ملنا بھی مشکلات میں شامل ہے
حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک پاکستان کی اوسط سادہ درآمدی ڈیوٹی 9.7 فیصد، وزن کے حساب سے اوسط ڈیوٹی 6 فیصد سے کم اور زیادہ سے زیادہ ڈیوٹی کی حد 15 فیصد تک لائی جائے اس تبدیلی سے درآمدی مصنوعات کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے، لیکن مقامی صنعتوں کے لیے اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پیداواری لاگت میں کتنی کمی آتی ہے اور غیر ملکی مصنوعات کے مقابلے میں پاکستانی کمپنیوں کی صلاحیت کس حد تک بہتر ہوتی ہے
بھارت، چین اور انڈونیشیا جیسی بڑی معیشتیں اپنی مقامی صنعتوں کو ترقی دینے کے لیے ملکی منڈی کی اہمیت کو برقرار رکھتی ہیں صنعت کاروں کی دلیل ہے کہ پاکستان کو بھی اپنی مقامی منڈی کو اس وقت تک مکمل طور پر کھولنے سے گریز کرنا چاہیے جب تک ملکی صنعتیں مناسب پیداواری لاگت، جدید ٹیکنالوجی اور بہتر برآمدی سہولتوں کے ذریعے عالمی مقابلے کے قابل نہ ہو جائیں
پاکستان کی آبادی 255 ملین سے زیادہ ہے اور نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں ہے ایسے حالات میں ٹیکسٹائل، چمڑے، گاڑیوں کے پرزے، جراحی کے آلات اور دیگر صنعتی شعبوں کی ترقی صرف کاروباری منافع کا معاملہ نہیں بلکہ روزگار، غربت میں کمی اور معاشی استحکام سے بھی جڑی ہوئی ہے اگر مقامی کارخانے غیر ملکی مصنوعات کا مقابلہ نہ کر سکے تو اس کے اثرات مزدوروں، چھوٹے کاروباروں اور ان خاندانوں تک پہنچ سکتے ہیں جن کا ذریعہ معاش صنعتی پیداوار سے وابستہ ہے
دوسری طرف، درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے حق میں یہ دلیل بھی اہم ہے کہ طویل عرصے تک تحفظ حاصل کرنے کے باوجود پاکستان کی متعدد صنعتیں عالمی معیار اور برآمدی صلاحیت پیدا نہیں کر سکیں بعض شعبوں میں صارفین کو مہنگی مصنوعات خریدنا پڑتی ہیں اور مقابلے کی کمی سے معیار بہتر بنانے کی ترغیب بھی محدود رہتی ہے اس لیے صرف صنعتوں کو تحفظ دینا بھی مستقل حل نہیں حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ حاصل ہونے والے تحفظ کے بدلے صنعتیں پیداواری صلاحیت، معیار، ٹیکنالوجی اور برآمدات میں حقیقی بہتری لائیں
اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان درآمدی ڈیوٹی میں کمی کے ساتھ کاروبار کرنے کی بنیادی لاگت بھی کم کر سکتا ہے یا نہیں اگر بجلی اور گیس سستی اور قابل اعتماد بنائی جائیں، ٹیکسوں کا نظام آسان کیا جائے، کاروباری قرضوں تک رسائی بہتر ہو، برآمد کنندگان کو مؤثر سہولتیں ملیں اور نئی منڈیوں تک رسائی کے معاہدے کیے جائیں تو مقامی صنعتوں کے لیے عالمی مقابلے کے مواقع بڑھ سکتے ہیں
پاکستان کو ایسی تجارتی پالیسی درکار ہے جس میں صارفین کو مناسب قیمتوں پر معیاری مصنوعات بھی ملیں اور مقامی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت بھی تباہ نہ ہو درآمدی ڈیوٹی میں کمی بذات خود نہ مکمل حل ہے اور نہ لازماً نقصان دہ اقدام اس کی کامیابی کا انحصار اصلاحات کی ترتیب اور مجموعی معاشی ماحول پر ہوگا اگر مقامی صنعتوں کی بنیادی مشکلات حل کیے بغیر منڈی کھول دی گئی تو پاکستان اپنی مصنوعات برآمد کرنے کے بجائے غیر ملکی مصنوعات خریدنے پر زیادہ انحصار کرنے لگے گا، جبکہ صنعتوں کی کمزوری کے ساتھ روزگار کے مواقع بھی بیرون ملک منتقل ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے

قومی خبریں سے مزید