پاکستان میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں حکومتی مالی خطرات بڑھنے کا خدشہ
پاکستان کو سڑکوں، اسپتالوں، پانی کی فراہمی، آب پاشی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی تعمیر کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ضرورت ہے، لیکن حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کے لیے مالی وسائل محدود ہیں ایسے حالات میں سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری ایک اہم راستہ بن سکتی ہے، تاہم اگر منصوبوں کی منصوبہ بندی، معاہدوں اور مالی ذمہ داریوں کا درست تعین نہ کیا گیا تو نجی سرمایہ کاری کا بوجھ بالآخر حکومت اور عوام کو اٹھانا پڑ سکتا ہے
پاکستان کے مالی مسائل کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مالی سال 2024 سے 2025 کے دوران وفاقی ترقیاتی اخراجات تقریباً 1.05 کھرب روپے رہے، جبکہ جاری اخراجات 15.8 کھرب روپے سے زیادہ تھے اس فرق سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت کے پاس نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے گنجائش محدود ہے، جبکہ انتظامی اخراجات اور دیگر لازمی ادائیگیاں پہلے ہی بجٹ کا بڑا حصہ استعمال کر رہی ہیں
سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت داری کے تحت نجی کمپنیاں کسی منصوبے کی تعمیر کے لیے سرمایہ فراہم کرتی ہیں اور بعض صورتوں میں اسے چلاتی بھی ہیں اس کے بدلے انہیں ٹول ٹیکس، صارفین سے وصول کی جانے والی فیس، حکومتی ادائیگیوں یا کسی دوسرے طے شدہ طریقے سے آمدنی حاصل ہوتی ہے اس طریقے سے حکومت کو منصوبے کی پوری لاگت ابتدا ہی میں ادا نہیں کرنا پڑتی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ منصوبے کی اصل قیمت ختم ہو جاتی ہے
اگر کسی منصوبے کی آمدنی توقع سے کم ہو، حکومت نے مالی ضمانت دی ہو یا صارفین سے مطلوبہ رقم وصول نہ ہو سکے تو باقی ذمہ داری حکومت پر آ سکتی ہے ایسی صورت میں آج حاصل ہونے والی سہولت کے اخراجات مستقبل کے بجٹ پر منتقل ہو جاتے ہیں اور آنے والی حکومتوں کو بھی ان ادائیگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے
پاکستان میں بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدے اس حوالے سے ایک اہم مثال ہیں نجی بجلی گھروں میں سرمایہ کاری سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بڑھانے میں مدد ملی، لیکن بعض معاہدوں میں ادائیگیوں کی شرائط نے حکومت کے لیے طویل مدتی مالی مشکلات پیدا کیں۔ بجلی کی خریداری کے اخراجات اور گردشی قرضے نے پہلے ہی توانائی کے شعبے پر دباؤ بڑھا رکھا ہے
مالی سال 2024 سے 2025 کے دوران بجلی کی خریداری کی مجموعی لاگت تقریباً 2.94 کھرب روپے بتائی گئی، جبکہ گردشی قرضہ تقریباً 1.89 کھرب روپے تھا بجلی کی تقسیم میں نقصانات، بلوں کی کم وصولی، بجلی چوری اور صارفین کے لیے نرخوں کا دباؤ بھی اس شعبے کے مسائل میں شامل ہیں
یہ تجربہ ظاہر کرتا ہے کہ کوئی منصوبہ نجی سرمایہ کار کے لیے منافع بخش ہونے کے باوجود حکومت کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہو سکتا ہے اس لیے صرف سرمایہ حاصل کرنے یا منصوبہ جلد مکمل کرنے کو کامیابی نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ اس کی مجموعی لاگت کون ادا کرے گا اور مستقبل میں اس کے مالی اثرات کیا ہوں گے
پاکستان میں 18ویں آئینی ترمیم کے بعد صحت، تعلیم اور زراعت سمیت کئی شعبوں کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل ہوئیں، لیکن وفاقی حکومت بھی ان شعبوں میں اخراجات کرتی رہی ہے اس صورت حال میں بعض منصوبوں کے حوالے سے یہ واضح نہیں رہتا کہ فیصلہ کس حکومت نے کرنا ہے، مالی وسائل کون فراہم کرے گا اور نقصان کی صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہو گی
سرکاری اور نجی شراکت داری کے منصوبوں کی منظوری میں بھی اسی لیے واضح قواعد ضروری ہیں۔ جن منصوبوں کے لیے حکومتی ضمانتوں، سبسڈی یا خصوصی مالی معاونت کی ضرورت ہو، ان کی سخت جانچ ہونی چاہیے حکومت نے حال ہی میں سرکاری و نجی شراکت داری اتھارٹی کا انتظامی کنٹرول منصوبہ بندی ڈویژن سے نجکاری ڈویژن کو منتقل کیا ہے، لیکن محض انتظامی تبدیلی سے مالی خطرات ختم نہیں ہوں گے اصل اہمیت منصوبوں کے انتخاب، نگرانی اور جواب دہی کی ہے
ہر بڑے منصوبے کی منظوری سے پہلے یہ سوالات پوچھنے چاہییں کہ آیا یہ واقعی متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اس سے معیشت اور عوام کو کتنا فائدہ ہوگا، منصوبے کی پوری مدت کے اخراجات برداشت کیے جا سکتے ہیں یا نہیں، اور کیا اسے روایتی سرکاری طریقے سے تعمیر کرنا زیادہ سستا پڑے گا اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہونا چاہیے کہ حکومت نے کتنی مالی ضمانتیں دی ہیں اور مستقبل میں اسے کتنی ادائیگیاں کرنا پڑ سکتی ہیں
نجی سرمایہ کاری صحت، تعلیم، رہائش، پانی کی فراہمی، آب پاشی، نقل و حمل اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے حکومت ہر منصوبے کو خود تعمیر کرنے کے بجائے نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ سے فائدہ اٹھا سکتی ہے، لیکن عوام کو بنیادی سہولت فراہم کرنے کی ذمہ داری اس سے ختم نہیں ہوتی
پاکستان کو نجی سرمایہ کاری سے گریز کرنے کے بجائے ایسے منصوبوں کا انتخاب کرنا چاہیے جن سے حقیقی معاشی اور سماجی فائدہ حاصل ہو۔ معاہدوں کو شفاف بنایا جائے، مالی ضمانتوں کی مکمل تفصیلات سامنے لائی جائیں اور مستقبل کی ادائیگیوں کو بجٹ میں شمار کیا جائے اس کے علاوہ منصوبوں کی لاگت، معیار اور کارکردگی کا آزادانہ جائزہ بھی ضروری ہے تاکہ نجی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عوامی وسائل غیر ضروری طور پر خطرے میں نہ ڈالے جائیں
پاکستان کو بنیادی ڈھانچے کی اشد ضرورت ہے اور حکومت اکیلے تمام منصوبوں کی مالی اعانت نہیں کر سکتی تاہم نجی سرمایہ کاری حاصل کرنا صرف پہلا قدم ہے اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب منصوبے مناسب قیمت پر مکمل ہوں، عوام کو بہتر سہولتیں ملیں اور ان کے اخراجات مستقبل کے ٹیکس دہندگان کے لیے غیر متوقع مالی بوجھ نہ بنیں بجٹ سے آج کا خرچ باہر منتقل کر دینے سے کل کی مالی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی





