Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

اسرائیل نواز رہنما کا ڈیموکریٹس پر یہود مخالف سیاست دانوں کی مذمت نہ کرنے کا الزام، عبدالسید، الہان عمر، رشیدہ طلیب اور ممدانی بھی تنقید کی زد میں

اسرائیل نواز رہنما کا ڈیموکریٹس پر یہود مخالف سیاست دانوں کی مذمت نہ کرنے کا الزام، عبدالسید، الہان عمر، رشیدہ طلیب اور ممدانی بھی تنقید کی زد میں

امریکہ میں اسرائیل کی حمایت کرنے والی تنظیم زائیونسٹ آرگنائزیشن آف امریکہ کے صدر مورٹن کلین نے ڈیموکریٹک پارٹی کی قیادت پر الزام لگایا ہے کہ وہ کانگریس اور امریکی سیاست میں موجود ان شخصیات کی مؤثر اور مسلسل مذمت کرنے میں ناکام رہی ہے جن پر وہ یہود مخالف خیالات رکھنے کا الزام عائد کرتے ہیں،کلین نے ان سیاست دانوں میں کانگریس کی رکن الہان عمر، رشیدہ طلیب، مشی گن سے ڈیموکریٹک سینیٹ کے امیدوار ڈاکٹر عبدالسید اور نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی کا نام لیا ہے
فاکس نیوز ڈیجیٹل کو پیر کے روز دیے گئے انٹرویو میں کلین نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی قیادت نفرت کے خلاف مضبوط مؤقف اختیار کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے، جبکہ ان کے بقول اسرائیل مخالف آوازوں کا سیاسی اثر و رسوخ بڑھ رہا ہے،انہوں نے واضح کیا کہ الہان عمر کے بارے میں ان کے سخت تبصرے ان کی ذاتی رائے ہیں اور وہ اس معاملے پر تنظیم کے صدر کی حیثیت سے نہیں بلکہ اپنی ذات کی طرف سے بات کر رہے ہیں
کلین نے الہان عمر کو امریکہ میں یہودیوں سے شدید نفرت کرنے والی شخصیات میں سے ایک قرار دیا اور کہا کہ انہیں اس بات پر دکھ ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما ان سمیت دیگر سیاست دانوں کی مسلسل اور بھرپور مذمت نہیں کرتے،انہوں نے رشیدہ طلیب، عبدالسید اور ممدانی پر بھی تنقید کی
کلین کے مطابق ان شخصیات کے مؤقف کو محض فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے تک محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ وہ اسے اسرائیل مخالف سیاست قرار دیتے ہیں،انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان سیاست دانوں کو فلسطینیوں کی حقیقی فکر نہیں بلکہ ان کی مخالفت کی بنیاد یہودی ریاست سے نفرت ہے،یہ کلین کا سیاسی الزام اور ذاتی مؤقف ہے، جسے ان شخصیات کے خیالات یا مقاصد کا ثابت شدہ بیان نہیں سمجھا جا سکتا
اسرائیل اور فلسطین کے معاملے پر امریکی سیاست میں یہ اختلاف 7 اکتوبر 2023 کے حملوں اور اس کے بعد غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد مزید نمایاں ہوا ہے،اسرائیل کے حامی حلقے بعض سیاسی بیانات کو یہود دشمنی سے تعبیر کرتے ہیں، جبکہ فلسطینی حقوق کے حامی سیاست دان اور کارکن اکثر اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کو سیاسی اور انسانی حقوق سے متعلق اختلاف قرار دیتے ہیں،اس بحث میں یہ فرق بنیادی اہمیت رکھتا ہے کہ اسرائیلی حکومت یا صہیونیت پر تنقید کب یہودیوں کے خلاف تعصب میں تبدیل ہوتی ہے اور کب وہ حکومت کی پالیسیوں پر سیاسی اختلاف رہتی ہے
کلین کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کی حمایت، فلسطینی حقوق اور یہود دشمنی کے خلاف کارروائی کے طریقۂ کار پر اختلافات موجود ہیں،ان کا مطالبہ ہے کہ پارٹی قیادت ایسے بیانات کی زیادہ واضح مذمت کرے جنہیں وہ یہود مخالف سمجھتے ہیں،تاہم کسی سیاست دان پر یہود دشمنی کا الزام لگانے کے لیے اس کے اصل بیانات، ان کا مکمل سیاق و سباق اور متعلقہ شواہد کا جائزہ ضروری ہے،اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت اور یہودیوں کے خلاف نفرت کو ایک ہی چیز قرار دینا بھی درست نہیں
یہ تنازعہ امریکی سیاست میں ایک بڑے سوال کی عکاسی کرتا ہے،سیاسی جماعتیں مذہبی یا نسلی تعصب کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے اظہارِ رائے، فلسطینیوں کے حقوق اور اسرائیلی حکومت پر جائز تنقید کے حق کا تحفظ کیسے کریں؟ مورٹن کلین کے بیان نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے، لیکن ان کے الزامات اور متعلقہ سیاست دانوں کے اصل مؤقف میں فرق برقرار رکھنا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید