مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کے سوال پر عبدالسید کا دوٹوک جواب،السید کواُسی صورت حال کا سامنا ہے جسکا کبھی جان ایف کینڈی کو کرنا پڑا تھا ، امریکی سیاست میں وفاداری کی نئی تعریف پر بحث
مشی گن سے امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹ امیدوار ڈاکٹر عبدالسید اور ایک نوجوان ووٹر کے درمیان مسلم برادرہڈ سے متعلق سوال و جواب نے سوشل میڈیا پر سیاسی بحث چھیڑ دی ہے،کسی نے اسے مذہبی تعصب کا مؤثر جواب قرار دیا تو ری پبلکن حلقوں نے الزام لگایا کہ عبدالسید نے اصل سوال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی،اس تنازعہ نے امریکی سیاست میں مسلمانوں کی مذہبی شناخت، آئین سے وفاداری اور انتخابی مہم میں مذہب کو موضوع بنانے کے رجحان کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے
یہ واقعہ ہفتے کی شب مشی گن کے قصبے کیرو میں ایک انتخابی اجتماع کے دوران پیش آیا، جہاں عبدالسید عوام کے سوالات کے جواب دے رہے تھے،ٹامی نامی ایک نوجوان نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کا اعلان کریں گے،عبدالسید نے جواب دیا، ’’ہاں، بالکل۔ لیکن میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟”
جب نوجوان نے کہا کہ مسلم برادرہڈ ایک دہشت گرد تنظیم ہے اور اس نے امیدوار کو اس سے لاتعلقی کا اعلان کرتے پہلے نہیں سنا، تو عبدالسید نے سوال کیا کہ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ نوجوان یہ فرض کر رہا ہے کہ وہ ایسی تنظیم کی حمایت کریں گے یا امریکی آئین کے بجائے کسی دوسری وفاداری کو ترجیح دیں گے؟
عبدالسید نے کہا کہ سوال کے پیچھے یہ مفروضہ موجود ہے کہ ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کی وفاداری مشکوک ہو سکتی ہے،انہوں نے نوجوان سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ اپنی زندگی میں دوسرے لوگوں سے بھی مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کا اعلان کرنے کا مطالبہ کرتا ہے یا یہ سوال صرف ان سے کیا جا رہا ہے
گفتگو کے دوران عبدالسید نے مذہبی آزادی اور امریکی آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، کسی مذہب پر عمل نہ کرنے اور آئین کے تحت حاصل حقوق سے فائدہ اٹھانے کی آزادی حاصل ہے،انہوں نے 1960 کے صدارتی انتخابات کی مثال دیتے ہوئے سابق صدر جان ایف کینیڈی کے تجربے کا حوالہ دیا، جنہیں کیتھولک ہونے کی وجہ سے اس وقت سوالات کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ آیا ان کی وفاداری امریکی آئین کے بجائے پوپ کے ساتھ ہوگی
عبدالسید نے کہا کہ وہ ’’مسلمان سینیٹر‘‘ بننے کے لیے انتخاب نہیں لڑ رہے بلکہ امریکی سینیٹ کے امیدوار ہیں اور مسلمان ہونا ان کی مذہبی شناخت ہے،انہوں نے نوجوان سے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ مذہبی تعلیمات کو امریکی قوانین پر مسلط کرنے کی کوششوں سے لاتعلقی اختیار کرے گا،نوجوان نے اس سے انکار کیا، جس پر عبدالسید نے کہا کہ آئین کو سمجھنے کی ضرورت انہیں نہیں بلکہ سوال کرنے والے کو ہے،اس کے بعد نوجوان اجتماع سے چلا گیا
عبدالسید کی انتخابی مہم نے اس گفتگو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شائع کی، جہاں اسے تیزی سے شیئر کیا گیا،ان کے حامیوں نے اسے مذہبی تعصب اور بلاجواز وفاداری کے امتحان کا مؤثر جواب قرار دیا،کھیلوں اور سیاست پر تبصرہ کرنے والی جیمیل ہل نے بھی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے عبدالسید کی گفتگو کو سراہا
دوسری جانب ری پبلکن حلقوں نے اس واقعے کی مختلف تشریح کی،صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سابق ترجمان ٹریشیا میک لافلن نے دعویٰ کیا کہ عبدالسید کے حامیوں نے یہ ویڈیو اس خیال سے جاری کی کہ وہ ووٹر کو جواب دیتے ہوئے اچھے دکھائی دیں گے، لیکن ان کے بقول اس سے امیدوار کا انداز دفاعی اور غصے سے بھرپور نظر آیا،ری پبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز نے بھی اتوار کو سی این این سے گفتگو میں کہا کہ عبدالسید نے مسلم برادرہڈ سے واضح لاتعلقی اختیار نہیں کی، حالانکہ ویڈیو میں وہ ابتدا ہی میں اس سوال کے جواب میں ’’ہاں، بالکل‘‘ کہتے سنائی دیتے ہیں،راجرز نے ان کی بعد کی گفتگو کو غیر واضح قرار دیا
یہ تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشی گن کی سینیٹ نشست کے لیے انتخابی مقابلہ قومی سیاست میں اہمیت اختیار کر چکا ہے،عبدالسید مصری تارکین وطن کے بیٹے ہیں اور اگر وہ منتخب ہوئے تو امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر ہوں گے،ڈیموکریٹک پارٹی کی نامزدگی حاصل کرنے کے بعد سے ان کی مذہبی شناخت اور مسلم برادرہڈ سے مبینہ تعلقات انتخابی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں،عبدالسید ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں اور کہتے ہیں کہ ان کے مسلمان ہونے کو ان کی وفاداری پر شک پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے
مسلم برادرہڈ 1928 میں مصر میں قائم ہونے والی ایک اسلامی تحریک ہے، جس سے مختلف سیاسی تنظیمیں اور بعض شدت پسند گروہ تاریخی طور پر وابستہ رہے ہیں،تاہم اس تحریک سے متعلق کسی شخص یا خاندان کے مبینہ تعلقات کو کسی امیدوار کی ذاتی وابستگی یا جرم کا ثبوت قرار دینے کے لیے مخصوص شواہد درکار ہوتے ہیں،عبدالسید اپنی ذات اور خاندان کے تنظیم سے تعلقات کے الزامات کو مسترد کر چکے ہیں
اس واقعے نے امریکی انتخابی سیاست میں ایک بنیادی سوال دوبارہ اٹھایا ہے،کیا کسی امیدوار سے اس کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مخصوص تنظیموں سے لاتعلقی کا مطالبہ کرنا جائز سیاسی پیمانہ ہے یا اس سے مذہبی تعصب اور دوہری وفاداری کے بے بنیاد شبہات کو تقویت ملتی ہے؟ اس سوال پر دونوں جماعتوں کے ردعمل مختلف ہیں، لیکن انتخابی مہم میں مذہب اور قومی وفاداری کا یہ امتزاج مشی گن کی سینیٹ کی دوڑ کو ایک وسیع تر قومی بحث میں تبدیل کر رہا ہے





