Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

کیلیفورنیا میں ایل جی بی ٹی سے متعلق نفرت انگیز تقریر کے نئے قانون پر مسیحی مذہبی حلقوں کا احتجاج، مذہبی آزادی اور سرکاری نظریے کی ترویج پر بحث

کیلیفورنیا میں ایل جی بی ٹی سے متعلق نفرت انگیز تقریر کے نئے قانون پر مسیحی مذہبی حلقوں کا احتجاج، مذہبی آزادی اور سرکاری نظریے کی ترویج پر بحث

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایل جی بی ٹی افراد کے خلاف نفرت انگیز گفتگو کی روک تھام سے متعلق نئے قانون نے قدامت پسند مسیحی تنظیموں اور روایتی گرجا گھروں کے پادریوں کے درمیان تشویش پیدا کر دی ہے،ان مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ قانون کے تحت ملازمین کو دی جانے والی تربیت میں مخصوص نظریات شامل کرنے کی شرط بالواسطہ طور پر آجروں کو حکومت کے منظور کردہ نقطۂ نظر کی ترویج پر مجبور کر سکتی ہے،دوسری جانب قانون کا بنیادی مقصد کام کی جگہ پر محفوظ ماحول اور امتیازی سلوک پر مبنی نفرت انگیز گفتگو کی روک تھام بتایا گیا ہے
کیلیفورنیا کے گورنر گیون نیوزم نے اسمبلی بل 1803 پر گزشتہ ماہ دستخط کیے،فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق یہ قانون یکم جنوری 2028 سے نافذ ہوگا،اس کے تحت ایسے اداروں کو، جن میں پانچ یا اس سے زیادہ ملازمین کام کرتے ہیں اور جو ریاست کے موجودہ ہراسانی سے بچاؤ کے تربیتی ضوابط کے تابع ہیں، اپنی تربیت میں اضافی مواد شامل کرنا ہوگا
اس تربیت میں ملازمین کو ایسی گفتگو کی شناخت، رپورٹنگ اور تدارک کے بارے میں ہدایات دی جائیں گی جو کسی شخص کی قانونی طور پر محفوظ شناخت، بشمول جنسی رجحان یا صنفی شناخت، کی بنیاد پر اسے بدنام کرے، اس کی تضحیک کرے یا اس کے خلاف نفرت کو ہوا دے
تاہم اس قانون پر اعتراض کرنے والی مسیحی تنظیموں کا کہنا ہے کہ روایتی مسیحی تعلیمات اور نئے ضوابط کے درمیان تصادم پیدا ہونے کا خدشہ ہے،بائبل کی بعض عبارتوں کی بنیاد پر ہم جنس تعلقات کو مذہبی تعلیمات کے منافی سمجھنے والے گرجا گھروں کو تشویش ہے کہ ان کے مذہبی عقائد کو کام کی جگہ پر نفرت انگیز گفتگو کے زمرے میں سمجھا جا سکتا ہے
کیلیفورنیا فیملی کونسل اور ریاست کے مختلف روایتی گرجا گھروں کے پادریوں نے قانون پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تقاضے مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کے حقوق کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں،ان کے مطابق اگرچہ کسی ملازم کو ہراساں کرنا اور اس کے خلاف نفرت انگیز رویہ اختیار کرنا الگ معاملہ ہے، لیکن مذہبی عقائد کی بنیاد پر جنسی تعلقات یا شادی کے بارے میں اختلافی موقف رکھنا بذاتِ خود نفرت انگیزی قرار نہیں دیا جانا چاہیے
اس تنازعہ کا اہم پہلو یہ ہے کہ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق مذہبی گرجا گھروں کو بھی اس تربیتی قانون سے واضح طور پر مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا،اس لیے مذہبی تنظیمیں سوال اٹھا رہی ہیں کہ آیا ان کے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی وہی تربیت دینا لازم ہوگا اور اس تربیت کے دوران مذہبی تعلیمات کے اظہار کی حدود کیا ہوں گی
قانون کے حامی مؤقف کے مطابق کام کی جگہ پر کسی شخص کی جنسی یا صنفی شناخت کی بنیاد پر تذلیل، ہراسانی اور نفرت انگیز رویے کی روک تھام ضروری ہے،تاہم قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ نفرت انگیز ہراسانی کو روکنے اور کسی مذہبی عقیدے سے اختلاف کرنے والے نقطۂ نظر کو دبانے کے درمیان واضح قانونی حد مقرر ہونی چاہیے
یہ بحث امریکہ میں مذہبی آزادی، ایل جی بی ٹی افراد کے مساوی حقوق اور کام کی جگہ پر تحفظ کے درمیان توازن کے وسیع تر تنازعہ کا حصہ ہے،اصل قانونی سوال یہ ہوگا کہ نئے تربیتی ضوابط کو کس طرح نافذ کیا جاتا ہے، مذہبی اداروں پر ان کا اطلاق کیسے ہوگا اور آیا ان کے نفاذ سے آئین میں محفوظ مذہبی آزادی اور اظہارِ رائے کے حقوق متاثر ہوتے ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید