Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

انتخابی مظاہروں کے دوران میٹا نے ’’نو کنگز‘‘ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا، سنسرشپ کے خدشات پر مارک زکربرگ کی کمپنی سے وضاحت طلب

انتخابی مظاہروں کے دوران میٹا نے ’’نو کنگز‘‘ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ معطل کر دیا، سنسرشپ کے خدشات پر مارک زکربرگ کی کمپنی سے وضاحت طلب
امریکہ میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے ملک گیر مظاہروں کی تحریک ’’نو کنگز‘‘ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہفتے کے روز کئی گھنٹوں کے لیے اچانک معطل کر دیا گیا، جس پر منتظمین نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انتخابی سرگرمیوں کے دوران اظہارِ رائے اور سیاسی رابطوں پر پابندی کے خدشات اٹھائے ہیں ، یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب مظاہرین ابتدائی ووٹنگ میں زیادہ سے زیادہ شہریوں کی شرکت کے لیے مہم چلا رہے تھے
انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا نے معطلی پر معذرت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی خودکار نظام کے ذریعے غلطی سے ہوئی،کمپنی کے ترجمان اینڈی اسٹون نے ہفتے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر وضاحت کی کہ جب اکاؤنٹس بہت زیادہ تعداد میں پوسٹس شائع کرتے، مواد شیئر کرتے یا تبصرے کرتے ہیں تو ان کا خودکار نظام بعض اوقات پابندی عائد کر دیتا ہے،ان کے مطابق اس معاملے میں خودکار کارروائی واضح طور پر غلط تھی، اکاؤنٹ کی رسائی بحال کر دی گئی ہے اور کمپنی اس پر معذرت خواہ ہے
نو کنگز اتحاد نے اتوار کو انسٹاگرام پر اپنے بیان میں کہا کہ اکاؤنٹس تک دوبارہ رسائی حاصل ہو گئی ہے، لیکن میٹا کو اب بھی وضاحت دینا ہوگی،اتحاد نے کہا کہ انتخابات کے دوران ووٹنگ سے متعلق رابطوں کو محدود کرنا ناقابل قبول ہے
یہ معاملہ محض ایک سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی عارضی بندش تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے اس سوال کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے کہ امریکہ میں انتخابی مہمات، سیاسی مظاہروں اور ووٹروں کو متحرک کرنے والی تحریکوں کی آن لائن سرگرمیوں پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خودکار نظام کس حد تک اثر انداز ہو سکتے ہیں،اگرچہ میٹا نے اس واقعے کو تکنیکی غلطی قرار دیا ہے، لیکن منتظمین کا مطالبہ ہے کہ کمپنی واضح کرے کہ یہ کارروائی کیوں ہوئی اور مستقبل میں ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے کیا اقدامات کیے جائیں گے
مارک زکربرگ کا سیاسی جھکاؤ: ڈیموکریٹس سے قربت کے تاثر سے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ مفاہمت تک
اس واقعے کے سیاسی پہلو کو سمجھنے کے لیے مارک زکربرگ کے سیاسی پس منظر اور میٹا کی حالیہ پالیسیوں کو دیکھنا ضروری ہے،زکربرگ کو محض ڈیموکریٹ، ری پبلکن، ترقی پسند یا قدامت پسند قرار دینا درست نہیں ہوگا، تاہم ان کے حالیہ اقدامات میں ری پبلکن قیادت کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور مواد کی نگرانی میں نرمی لانے کے واضح شواہد موجود ہیں
جنوری 2025 میں زکربرگ نے فیس بک اور انسٹاگرام پر آزادانہ اظہارِ رائے کو ترجیح دینے کے نام پر امریکہ میں تیسرے فریق کے ذریعے حقائق کی جانچ کے پروگرام کو ختم کرنے کا اعلان کیا،اس تبدیلی کو ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر ری پبلکن رہنماؤں کی جانب سے سوشل میڈیا کمپنیوں پر عائد کیے جانے والے سنسرشپ کے الزامات کے تناظر میں دیکھا گیا،اسی عرصے میں میٹا نے ٹرمپ کے صدارتی حلف برداری کے فنڈ میں 10 لاکھ ڈالر عطیہ کیے اور کمپنی میں ری پبلکن شخصیات کا اثر و رسوخ بھی بڑھا،
اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ زکربرگ لازماً ری پبلکن ہیں، لیکن ان کے حالیہ اقدامات کو امریکی سیاست کے قدامت پسند حلقوں کے لیے زیادہ قابل قبول پالیسیوں کی طرف تبدیلی کے طور پر دیکھا گیا ہے،دوسری طرف میٹا کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اس کی سیاسی سرگرمیاں کمپنی کے کاروباری مفادات اور پالیسی ترجیحات کے مطابق ہوتی ہیں، نہ کہ اس کے سربراہ کی ذاتی سیاسی پسند کے مطابق
زکربرگ یہودی خاندان میں پیدا ہوئے اور اپنی یہودی شناخت کا ذکر بھی کر چکے ہیں،تاہم ان کے مذہبی پس منظر سے ان کی سیاسی وابستگی یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کی حمایت اخذ نہیں کی جا سکتی
نو کنگز کے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی عارضی معطلی کے معاملے میں فی الحال دستیاب معلومات میٹا کی خودکار نظام کی غلطی سے متعلق وضاحت کی تائید کرتی ہیں،اس واقعے کو زکربرگ کی ذاتی سیاسی ہدایت یا ڈیموکریٹس کے خلاف دانستہ اقدام قرار دینے کے لیے الگ شواہد درکار ہوں گے،اس کے باوجود انتخابی مہم کے دوران سیاسی تحریکوں کے رابطے معطل ہونے کا واقعہ اس اہم سوال کو ضرور اٹھاتا ہے کہ چند بڑی نجی کمپنیوں کے کنٹرول میں موجود سوشل میڈیا پلیٹ فارم جمہوری عمل اور ووٹروں تک سیاسی پیغام پہنچانے میں کتنے طاقت ور ہو چکے ہیں

قومی خبریں سے مزید