ٹیکساس میں ڈیموکریٹس کا نیا سیاسی داؤ، گلوکار بوبی پولیڈو کے ذریعے قدامت پسند لاطینی ووٹروں کو جیتنے کی کوشش
ٹیکساس کے جنوبی علاقے میں ڈیموکریٹک پارٹی نے ری پبلکنز سے انتخابی نشست واپس لینے کے لیے معروف ٹیہانو گلوکار بوبی پولیڈو کو میدان میں اتارا ہے،پولیڈو امریکی ایوانِ نمائندگان کے امیدوار ہیں اور ان کا مقابلہ ٹیکساس کے پندرہویں انتخابی ضلع سے موجودہ ری پبلکن رکن کانگریس مونیکا ڈی لا کروز سے ہے،ڈیموکریٹس کو امید ہے کہ پولیڈو کی موسیقی، مقامی ثقافت سے وابستگی اور لاطینی برادری میں مقبولیت ان ووٹروں کو متوجہ کر سکتی ہے جو گزشتہ برسوں میں ڈیموکریٹک پارٹی سے دور ہو کر ری پبلکنز کی حمایت کرنے لگے ہیں
ٹیکساس کے شہر ایڈنبرگ میں ہفتے کی شب ایک بڑے میدان میں شائقین کی بھرپور بھیڑ جمع تھی،پرانی مقبول دھنیں گونج رہی تھیں، لوگ موسیقی پر جھوم رہے تھے اور سرخ انتخابی ٹوپیاں پہنے مداح اپنے پسندیدہ فنکار کو دیکھنے کے لیے بے تاب تھے،بظاہر یہ منظر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلی جیسا دکھائی دیتا تھا، لیکن اسٹیج پر ٹرمپ نہیں بلکہ چمڑے کے لباس اور سیاہ کاؤ بوائے ہیٹ میں ملبوس بوبی پولیڈو موجود تھے
یہ ان کا ایڈنبرگ میں آخری کنسرٹ تھا، جسے انہوں نے ’’لا اُلتیما دیسویلاڈا‘‘ کا نام دیا،پولیڈو کے مطابق وہ اپنے موسیقی کے سفر کا یہ آخری شو پیش کر رہے تھے،اب ان کی توجہ انتخابی سیاست پر مرکوز ہے
گزشتہ ایک دہائی کے دوران ٹیکساس کے پندرہویں انتخابی ضلع میں ڈیموکریٹس کی گرفت بتدریج کمزور ہوئی ہے،یہ علاقہ اب ان انتخابی حلقوں میں شمار ہوتا ہے جہاں لاطینی ووٹروں کے رجحانات قومی سیاست کے لیے اہمیت رکھتے ہیں،جنوبی ٹیکساس کے بہت سے لاطینی ووٹر ثقافتی اور سماجی معاملات پر قدامت پسند خیالات رکھتے ہیں، جس کے باعث ڈیموکریٹس کے لیے ان کی حمایت دوبارہ حاصل کرنا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے
پولیڈو کی امیدواری اسی حکمت عملی کا حصہ ہے،ڈیموکریٹس ان کی مقبولیت اور مقامی شناخت کے ذریعے ایسے ووٹروں تک پہنچنا چاہتے ہیں جو روایتی طور پر ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کرتے تھے، لیکن حالیہ برسوں میں ری پبلکنز کی طرف مائل ہوئے ہیں
اگر پولیڈو ری پبلکن امیدوار مونیکا ڈی لا کروز کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان میں صرف ایک اضافی نشست نہیں ملے گی، بلکہ انہیں یہ جانچنے کا موقع بھی ملے گا کہ آیا ثقافتی طور پر قدامت پسند لاطینی ووٹروں کو مقامی مقبول شخصیات کے ذریعے دوبارہ اپنی طرف متوجہ کیا جا سکتا ہے
ٹیکساس کا یہ انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ اس کے نتائج ڈیموکریٹک پارٹی کی مستقبل کی انتخابی حکمت عملی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں، خصوصاً ان علاقوں میں جہاں لاطینی آبادی سیاسی طور پر فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے،پولیڈو کے لیے اصل امتحان یہ ہوگا کہ ان کی موسیقی کی دنیا میں حاصل ہونے والی مقبولیت ووٹوں میں کس حد تک تبدیل ہوتی ہے





