فرانس میں کئی روز سے جاری ہنگامے، 2,400 افراد گرفتار، میکرون نے بے لگام تشدد کی مذمت کر دی
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک بھر میں کئی روز سے جاری ہنگاموں اور بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کے بعد ’’بے لگام تشدد‘‘ کی مذمت کی ہے،ہنگاموں کے دوران سرکاری عمارتوں کو آگ لگا دی گئی، سینکڑوں دکانیں تباہ اور لوٹ لی گئیں جبکہ ملک کے مختلف شہروں سے کم از کم 2,400 افراد کو گرفتار کیا گیا
میکرون نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان مناظر کو دیکھ کر ہم سب نے خود سے سوال کیا کہ فرانسیسی شہری اپنے ہی ملک کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ تشدد کا کوئی جواز نہیں اور مقامی حکام کو ضرورت پڑنے پر بعض عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے کا اختیار حاصل ہوگا
فرانسیسی صدر نے پُرامن مظاہرین اور تشدد میں ملوث افراد کے درمیان فرق کرنے پر زور دیا،ان کے مطابق مہنگائی، روزمرہ اخراجات اور تعلیمی نظام سے متعلق مطالبات کے لیے پُرامن احتجاج کرنے والوں کو ان عناصر سے الگ دیکھا جانا چاہیے جو توڑ پھوڑ، تباہی اور لوٹ مار میں ملوث ہیں
میکرون نے انتہائی بائیں بازو کے بعض گروہوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ متعدد جرائم پیشہ عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں
دوسری جانب فرانس میں بائیں اور دائیں بازو کے سیاست دانوں نے ہنگاموں سے نمٹنے کے حکومتی طریقۂ کار پر سوالات اٹھاتے ہوئے وزیر داخلہ لوراں نونیز سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے،حکومت نے بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی مشاورت بھی شروع کر دی ہے
حالیہ بدامنی نے حکومتی انتظامات، پولیس کی حکمت عملی اور سرکاری اداروں کے ردعمل پر دباؤ بڑھا دیا ہے،حکومتی ردعمل کو ریاستی نظام کی ایک بڑی ناکامی قرار دینے والی آوازیں بھی سامنے آئی ہیں





