Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا آسان نہیں، آئین میں سخت قانونی طریقہ کار مقرر

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانا آسان نہیں، آئین میں سخت قانونی طریقہ کار مقرر

بھارت کے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، لیکن بھارتی آئین کے تحت انہیں عہدے سے برطرف کرنے کے لیے ایک طویل اور پیچیدہ قانونی طریقہ کار پر عمل کرنا ضروری ہے ان پر الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں کی جانچ پڑتال کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کیے گئے اس معاملے نے بھارت میں انتخابی شفافیت اور الیکشن کمیشن کی خودمختاری پر بحث تیز کر دی ہے گیانیش کمار نے ووٹر فہرستوں میں مبینہ ہیرا پھیری کے الزامات مسترد کیے ہیں
بھارت میں کانگریس پارٹی، طلبہ تنظیموں اور دیگر سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں نئی دہلی میں احتجاج بھی ہوئے ہیں تاہم کسی عہدیدار سے استعفے کا مطالبہ کرنا اور اسے قانونی طور پر عہدے سے ہٹانا 2 مختلف معاملات ہیں بھارتی قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر خود صدرِ مملکت کو تحریری طور پر استعفیٰ دے سکتے ہیں، لیکن اگر وہ مستعفی نہ ہوں تو انہیں برطرف کرنے کے لیے سپریم کورٹ کے جج کو ہٹانے جیسا آئینی طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے
بھارتی آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت الیکشن کمیشن ملک میں انتخابات کی نگرانی، رہنمائی اور انتظامی کنٹرول کا ذمہ دار ہے اسی آرٹیکل کی شق 5 کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو صرف انہی بنیادوں اور طریقے سے عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے جو سپریم کورٹ کے جج کی برطرفی کے لیے مقرر ہیں اس انتظام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ حکومت یا سیاسی جماعتیں اپنی مرضی سے ملک کے اعلیٰ انتخابی عہدیدار کو عہدے سے نہ ہٹا سکیں
قانون کے مطابق برطرفی کی بنیادی وجوہات ثابت شدہ بدعنوان طرزِ عمل یا فرائض کی انجام دہی کے لیے نااہلی ہو سکتی ہیں محض سیاسی اختلاف، کسی فیصلے سے ناراضی یا استعفے کا عوامی مطالبہ بذاتِ خود برطرفی کے لیے کافی نہیں الزامات کو باقاعدہ قانونی کارروائی کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہے
برطرفی کا عمل شروع کرنے کے لیے بھارتی پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کے کم از کم 100 یا ایوانِ بالا راجیہ سبھا کے کم از کم 50 ارکان کے دستخطوں سے تحریری تحریک پیش کرنا ہوتی ہے متعلقہ ایوان کے اسپیکر یا چیئرمین اس تحریک اور دستیاب معلومات کا جائزہ لیتے ہیں اور فیصلہ کرتے ہیں کہ اسے کارروائی کے لیے منظور کیا جائے یا مسترد کر دیا جائے
اگر تحریک منظور ہو جائے تو الزامات کی تحقیقات کے لیے 3 رکنی کمیٹی قائم کی جاتی ہے اس میں سپریم کورٹ کا ایک جج، ہائی کورٹ کا ایک جج اور قانون کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ایک ممتاز ماہر شامل ہوتا ہے چیف الیکشن کمشنر کو اپنے دفاع اور الزامات کا جواب دینے کا حق حاصل ہوتا ہے اگر کمیٹی اس نتیجے پر پہنچے کہ الزامات ثابت نہیں ہوئے تو کارروائی ختم ہو جاتی ہے
اگر تحقیقات میں الزامات ثابت ہو جائیں تو رپورٹ پارلیمان کو بھیجی جاتی ہے اس کے بعد برطرفی کی تحریک کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں خصوصی اکثریت سے منظور ہونا ضروری ہے اس کا مطلب ہے کہ ہر ایوان میں موجود اور ووٹ دینے والے ارکان میں سے کم از کم دو تہائی ارکان تحریک کے حق میں ووٹ دیں دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدرِ مملکت کو باضابطہ طور پر برطرفی کی سفارش بھیجی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں سرکاری حکم جاری کیا جاتا ہے
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا طریقہ بھی حالیہ سیاسی بحث کا حصہ بنا ہوا ہے۔ 2023 میں قانون میں تبدیلی سے پہلے تقرری کی کمیٹی میں وزیراعظم، قائدِ حزبِ اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا شامل ہوتے تھے نئی قانون سازی کے بعد چیف جسٹس کی جگہ وزیراعظم کی نامزد کردہ مرکزی وزیر کو شامل کیا گیا موجودہ طریقے کے تحت کمیٹی میں وزیراعظم، لوک سبھا کے قائدِ حزبِ اختلاف اور وزیراعظم کا نامزد کردہ وزیر شامل ہوتے ہیں
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی سے تقرری کے عمل میں حکومت کا اثر و رسوخ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ کمیٹی کے 3 میں سے 2 ارکان حکمران جماعت سے تعلق رکھتے ہیں دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر کو برطرف کرنے کے لیے سخت آئینی شرائط اس عہدے کو سیاسی دباؤ سے محفوظ رکھنے کے لیے مقرر کی گئی ہیں
موجودہ تنازع کی بنیاد ایک اخباری رپورٹ ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران تقریباً 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے گئے یہ تعداد بہت بڑی ہے اور اس نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آیا انتخابی فہرستوں کی صفائی کے عمل میں قانونی اور انتظامی تقاضوں کی پابندی کی گئی تاہم ناموں کے اخراج کی وجوہات، ہر معاملے کی تفصیلات اور ان میں مبینہ بے ضابطگیوں کو الگ الگ جانچنا ضروری ہے صرف مجموعی تعداد کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ تمام نام غیر قانونی طور پر خارج کیے گئے تھے
یہ معاملہ بھارت میں انتخابات پر عوامی اعتماد، ووٹ کے حق اور انتخابی اداروں کی غیر جانب داری کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ سیاسی طور پر زور پکڑ سکتا ہے، لیکن قانونی طور پر کامیابی کے لیے الزامات کا ثبوت، تحقیقات اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں مطلوبہ اکثریت حاصل کرنا لازم ہے

قومی خبریں سے مزید