ٹیکس تنازع پر تاجروں نے غزہ میں سامان بھیجنا بند کر دیا، شہریوں کے لیے قلت بڑھنے کا خدشہ
غزہ میں نجی تاجروں نے تجارتی سامان کی ترسیل روک دی ہے، جس سے پہلے ہی شدید انسانی بحران کا شکار فلسطینی آبادی کے لیے خوراک اور روزمرہ ضروریات کی قلت مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ تاجروں نے حماس کی جانب سے مبینہ مالی مطالبات اور دھمکیوں کے باعث سامان بھیجنے کا عمل معطل کیا، تاہم حماس نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ رقم کا مطالبہ ٹیکس نہیں بلکہ امدادی کاموں کے لیے رضاکارانہ مالی تعاون تھا
اسرائیلی وزارت دفاع کے ماتحت ادارے کوگاٹ کے مطابق، غزہ میں سامان درآمد کرنے والے تاجروں نے حکام کو بتایا کہ حماس ہر ٹرک کے بدلے تقریباً 10,000 اسرائیلی شیکل، یعنی تقریباً 3,200 امریکی ڈالر، طلب کر رہی تھی۔الزام یہ بھی ہے کہ تاجروں سے کہا گیا کہ وہ اپنے سامان کی تقریباً 30 فیصد فروخت نقد رقم کے ذریعے کریں، بینک کے ذریعے ادائیگی کا طریقہ استعمال نہ کریں
اسرائیلی حکام نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مطالبات ماننے سے انکار کرنے والے ایک تاجر کے بیٹے کو حماس کے سکیورٹی اہلکاروں نے گرفتار کیا، جس کے بعد تاجروں نے اپنی سلامتی کے خدشات کے باعث سامان کی ترسیل کے انتظامات معطل کر دیے یہ الزامات اسرائیلی حکام کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق کی تفصیل سامنے نہیں آئی
حماس نے مصر، قطر اور ترکیہ سمیت جنگ بندی کے ثالثوں کو بھیجے گئے خط میں ان الزامات کو مسترد کیا ہے اس کا کہنا ہے کہ گزشتہ 3 برس کی جنگ کے دوران غزہ کے انسانی اور معاشی حالات کے پیش نظر تجارتی سرگرمیوں پر ٹیکس یا سرکاری فیس وصول نہیں کی گئی۔ حماس کے مطابق 10,000 شیکل کی رقم تاجروں کی جانب سے شروع کیے گئے ایک رضاکارانہ سماجی منصوبے کے لیے تھی، جس کا مقصد امدادی کاموں کے لیے فنڈ قائم کرنا ہے نقد ادائیگی کی شرط کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد غزہ میں نقد رقم کی دستیابی بڑھانا تھا
اس تنازع کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑنے کا خدشہ ہے غزہ میں امدادی ادارے عموماً آٹا اور بنیادی غذائی اجناس پہنچاتے ہیں، جبکہ نجی تاجر پھل، گوشت، کپڑے اور دوسری روزمرہ ضروریات درآمد کرتے ہیں تجارتی سامان کی آمد رکنے سے بازاروں میں اشیا کی دستیابی کم اور قیمتیں زیادہ ہو سکتی ہیں صرف امدادی سامان پر انحصار بھی پوری آبادی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی نہیں، کیونکہ لوگوں کو خوراک کے ساتھ ادویات، لباس اور دیگر بنیادی اشیا بھی درکار ہیں
اسرائیلی ادارے کے مطابق غزہ میں داخل ہونے والے ٹرکوں کا تقریباً نصف حصہ نجی شعبے کے تاجروں سے متعلق ہے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سامان کی ترسیل میں رکاوٹ جنگ بندی کے انتظامات کو بھی متاثر کر سکتی ہے غزہ میں اشیا کی آمد پہلے ہی اسرائیل کے زیرِ کنٹرول سرحدی راستوں پر منحصر ہے، اس لیے تجارتی سامان کی بندش سے مقامی منڈیوں پر فوری دباؤ پڑ سکتا ہے
غزہ کے نجی ٹرک مالکان کی تنظیم کے سربراہ نے اسرائیلی مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں نے اپنی مرضی سے ترسیل بند نہیں کی بلکہ اسرائیلی پابندیاں اس صورت حال کی اصل وجہ ہیں ان کے مطابق غزہ کی وزارتِ معیشت نے فی ٹرک 10,000 شیکل کی رقم طلب کی تھی، لیکن اسے ٹیکس کے بجائے سرکاری ملازمین کی مالی مدد کے لیے عطیہ قرار دیا گیا۔ اس طرح رقم کی نوعیت اور ترسیل رکنے کی ذمہ داری پر دونوں فریقوں کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں
جنگ بندی کے نفاذ کے لیے قائم امریکی حمایت یافتہ بورڈ آف پیس کے غزہ نمائندے نکولائے ملادینوف نے کہا ہے کہ انہیں اسرائیلی ادارے کا خط موصول ہوا ہے انہوں نے تاجروں کے خلاف مبینہ دھمکیوں اور دباؤ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ رسد کے نظام میں مداخلت سے عام فلسطینیوں کی مشکلات بڑھتی ہیں اور ایسے اقدامات فوری طور پر بند ہونے چاہییں
ادھر عالمی ادارہ برائے نقل مکانی نے گزشتہ ہفتے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ میں ضروری سامان داخل کرنے پر عائد پابندیوں میں نرمی کرے۔ جنگ بندی کے باوجود غزہ کا انسانی بحران ختم نہیں ہوا، اور تجارتی ترسیل میں نئی رکاوٹ خوراک، لباس اور دوسری ضروری اشیا کی فراہمی کو مزید متاثر کر سکتی ہے فی الحال یہ واضح نہیں کہ نجی تاجروں کی جانب سے سامان کی ترسیل معطل رہنے کی صورت میں امدادی ادارے اضافی سامان پہنچا سکیں گے یا نہیں






