Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بہاولپور کے میڈیکل کالج نے 20 افغان ڈاکٹروں اور طلبہ کو نکالنا شروع کر دیا

بہاولپور کے میڈیکل کالج نے 20 افغان ڈاکٹروں اور طلبہ کو نکالنا شروع کر دیا

پاکستان کے شہر بہاولپور میں قائداعظم میڈیکل کالج نے 20 افغان ڈاکٹروں اور میڈیکل طلبہ کو ادارے سے نکالنے کا عمل شروع کر دیا ہے ان میں 12 ایسے افغان ڈاکٹر شامل ہیں جو مختلف شعبوں میں اعلیٰ طبی تربیت حاصل کر رہے ہیں، جبکہ 8 میڈیکل کے طلبہ ہیں یہ کارروائی افغان شہریوں کی پاکستان میں طبی تعلیم اور تربیت جاری رکھنے سے متعلق حکومتی ہدایات کے تحت کی جا رہی ہے
کالج انتظامیہ نے ان 12 ڈاکٹروں کو ہاسٹل خالی کرنے اور اپنے متعلقہ شعبوں اور تربیتی کورسز سے علیحدگی کے انتظامات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے ان کی تربیت میں ایف سی پی ایس سمیت سرجری، یورولوجی، ریڈیالوجی اور امراضِ قلب جیسے شعبے شامل ہیں۔ باقی 8 طلبہ کو بھی تعلیم چھوڑنے کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے
افغان طلبہ اور ڈاکٹروں کو واجبات ادا کرنے، متعلقہ شعبوں سے عدم اعتراض کے سرٹیفکیٹ اور کلیئرنس حاصل کرنے اور جلد از جلد افغانستان واپس جانے کے لیے کہا گیا ہے کالج انتظامیہ نے ضلعی پولیس افسر، مالیاتی شعبے، یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور پنجاب ہیلتھ فاؤنڈیشن کو بھی ان افراد کی تفصیلات، جن میں پاسپورٹ نمبر شامل ہیں، بھجوا دی ہیں تاکہ واپسی کے انتظامات کیے جا سکیں
یہ معاملہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی جانب سے 1 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے نوٹیفکیشن سے جڑا ہے، جس میں پاکستانی طبی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کو افغانستان واپس بھیجنے اور نئے تعلیمی سال میں افغان طلبہ کو داخلہ یا تربیتی جگہ نہ دینے کی ہدایات دی گئی تھیں اس فیصلے کے بعد لاہور کے مختلف سرکاری میڈیکل اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھے تھے
اس سے پہلے 13 افغان میڈیکل طلبہ نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے ان ہدایات کو چیلنج کیا تھا عدالت نے 11 ستمبر کو کونسل کی جانب سے افغان طلبہ کو واپس بھیجنے کی ہدایات معطل کر دی تھیں انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی اس اقدام پر اعتراضات اٹھائے تھے تاہم بہاولپور کے قائداعظم میڈیکل کالج میں اب 20 افغان ڈاکٹروں اور طلبہ کو نکالنے کا عمل جاری ہے، جس سے عدالتی حکم اور تازہ حکومتی ہدایات کے اطلاق سے متعلق سوالات پیدا ہوتے ہیں
پاکستانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ غیر ملکی طلبہ کے پاس درست ویزا اور متعلقہ تعلیمی ادارے میں قانونی اندراج ہونا ضروری ہے دوسری جانب افغان طلبہ کے لیے یہ معاملہ صرف ملک چھوڑنے کا نہیں بلکہ ان کی برسوں کی تعلیم، تخصصی طبی تربیت اور مستقبل کے پیشے کا بھی ہے خاص طور پر وہ طلبہ جو اپنی ڈگری یا اعلیٰ طبی تربیت مکمل کرنے کے قریب ہیں، ان کے لیے اچانک تعلیم ختم ہونے سے شدید مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں
خبر کے مطابق بہاولپور میں کارروائی شروع ہو چکی ہے، لیکن کالج کے تمام متاثرہ افراد کی قانونی حیثیت، عدالتی حکم کے ان پر اطلاق اور تازہ حکومتی ہدایات کی تفصیلات واضح ہونا ضروری ہے

قومی خبریں سے مزید