امریکی سفیر کی کینیڈین سیاست دانوں کو انتخابی مداخلت پر کارروائی کی دھمکی
کینیڈا میں تعینات امریکی سفیر پیٹ ہوکسٹرا نے کہا ہے کہ امریکی حکام کینیڈین سیاست دانوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا ان کے بیانات یا اقدامات امریکا کے انتخابی عمل میں مداخلت کے زمرے میں آتے ہیں یا نہیں انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کسی سرگرمی کو انتخابی مداخلت قرار دیا تو اس کا جواب دیا جائے گا
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا میں 3 نومبر 2026 کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں ان انتخابات میں کانگریس پر ری پبلکن پارٹی کا کنٹرول برقرار رہنے یا تبدیل ہونے کا امکان امریکی سیاست میں اہم موضوع بنا ہوا ہے
ہوکسٹرا نے اپنے حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں اونٹاریو حکومت کی جانب سے گزشتہ سال امریکا میں چلائے گئے ایک اشتہار کا حوالہ دیا اس اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی تقاریر کے اقتباسات استعمال کرتے ہوئے محصولات پر تنقید اور آزاد تجارت کی حمایت کو نمایاں کیا گیا تھا یہ اشتہار امریکا کی بڑی لیگ کی بیس بال سیریز کے دوران نشر ہوا تھا، جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اکتوبر 2025 میں کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا
امریکی سفیر نے کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی اور سابق وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے حالیہ بیانات کا بھی ذکر کیا اور اشارہ دیا کہ امریکی نقطہ نظر سے ان بیانات کو بھی انتخابی مداخلت سمجھا جا سکتا ہے تاہم، ان بیانات کو انتخابی مداخلت قرار دینے کے لیے کسی حتمی قانونی فیصلے یا ثابت شدہ خلاف ورزی کی اطلاع سامنے نہیں آئی
ہوکسٹرا نے کینیڈین سیاست دانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں امریکی سیاست سے دور رہنا چاہیے ان کے مطابق، امریکا اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور اگر کسی سرگرمی کو اپنے انتخابی عمل میں مداخلت سمجھا گیا تو واشنگٹن ردعمل دے گا
دوسری جانب، وزیر صنعت میلانی جولی نے امریکی سفیر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں سفیر کے سامنے جواب دہ ہونے کی ضرورت نہیں انہوں نے واضح کیا کہ کینیڈا دوسرے ملکوں کی اندرونی سیاست میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی یہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا ملک کینیڈا کی داخلی سیاست میں مداخلت کرے
یہ تنازع کینیڈا اور امریکا کے درمیان پہلے سے جاری تجارتی کشیدگی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے محصولات کے معاملے پر دونوں ملکوں کے درمیان اختلافات نے کاروباری تعلقات اور سیاسی رابطوں کو متاثر کیا ہے اونٹاریو حکومت کا اشتہار اسی تجارتی تنازع کے دوران سامنے آیا تھا، جبکہ امریکی حکومت نے اسے اپنے سیاسی ماحول کے تناظر میں دیکھا
امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ کی نشستوں کا فیصلہ ہونا ہے ان انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی باقی مدتِ صدارت میں قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتے ہیں ایسے ماحول میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے کینیڈین سیاست دانوں کے بیانات پر اعتراض دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات میں ایک نیا حساس معاملہ بن سکتا ہے
تاہم، کسی غیر ملکی حکومت کی پالیسیوں یا محصولات پر تنقید کرنا اور کسی دوسرے ملک کے انتخابی عمل میں غیر قانونی مداخلت کرنا دو الگ معاملات ہیں اس لیے اصل سوال یہ ہوگا کہ امریکی حکام اپنے الزامات کی بنیاد کیا قرار دیتے ہیں اور آیا کسی مخصوص سرگرمی کے خلاف کوئی باضابطہ کارروائی کی جاتی ہے یا نہیں فی الحال امریکی سفیر نے نگرانی اور ممکنہ ردعمل کی تنبیہ کی ہے، لیکن اس بیان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کینیڈا نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی ہے





