ٹرمپ کا پھر دعویٰ، کینیڈا بالآخر امریکا کی 51ویں ریاست بن جائے گا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان معاملات اسی صورت میں درست طور پر چل سکتے ہیں ان کے اس مؤقف سے کینیڈا کی خودمختاری، دونوں ملکوں کے تجارتی تعلقات اور امریکی محصولات کے معاملے پر جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے
ٹرمپ اس سے پہلے بھی متعدد مواقع پر کینیڈا کو امریکا کی 51ویں ریاست بنانے کی بات کر چکے ہیں اپریل 2025 میں انہوں نے واضح کیا تھا کہ وہ اس معاملے پر مذاق نہیں کر رہے ان کا مؤقف رہا ہے کہ کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے سے سرحدی رکاوٹیں ختم ہو سکتی ہیں اور کینیڈین شہریوں کو امریکی نظام کے تحت بعض فوائد حاصل ہو سکتے ہیں تاہم، یہ ٹرمپ کا سیاسی مؤقف ہے، دونوں ممالک کے درمیان کسی طے شدہ معاہدے کا حصہ نہیں
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک بڑی وجہ تجارتی محصولات ہیں ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی بعض مصنوعات پر 50 فیصد تک اضافی محصولات عائد کیے، جبکہ کینیڈین حکومت نے جواب میں امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات لگانے کا اعلان کیا ان اقدامات سے کاروباری اداروں، صنعتوں اور صارفین کے لیے غیر یقینی صورتحال بڑھی ہے
کینیڈا کے لیے امریکا ایک اہم تجارتی شراکت دار ہے، لیکن دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کا بڑا حجم امریکا کے کاروباروں اور صارفین کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے گاڑیوں کی صنعت، توانائی، لکڑی، دھاتوں اور زرعی مصنوعات کی تجارت دونوں معیشتوں کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے محصولات میں اضافے سے اشیا کی قیمتوں اور پیداواری لاگت پر دباؤ پڑ سکتا ہے
کینیڈا کی سیاسی قیادت پہلے ہی یہ واضح کر چکی ہے کہ ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا وزیر اعظم مارک کارنی نے ٹرمپ کے سامنے بھی کہا تھا کہ کینیڈین شہریوں کا 51ویں ریاست بننے کے بارے میں مؤقف تبدیل نہیں ہوگا کینیڈا میں اس معاملے کو محض تجارتی تنازع نہیں بلکہ قومی خودمختاری اور اپنی الگ سیاسی شناخت سے بھی جوڑا جاتا ہے
ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا کو امریکی ریاست بنانے کا معاملہ ان کے سیاسی بیانات میں اب بھی موجود ہے تاہم، اس بیان کو کسی عملی فیصلے یا کینیڈا کے امریکا میں شامل ہونے کے طے شدہ منصوبے کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا اصل سوال یہ ہے کہ دونوں حکومتیں محصولات اور تجارتی اختلافات کو کس طرح حل کرتی ہیں اور اس کشیدگی کے اثرات عام شہریوں، ملازمتوں اور کاروبار پر کس حد تک پڑتے ہیں





