مشہور امریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل میں سابق گینگ رہنما کو 40 سال سے عمر قید تک سزا
امریکا کے معروف ریپر ٹوپاک شکور کے قتل کے تقریباً 30 سال بعد عدالت نے سابق گینگ رہنما ڈوئن ڈیوس کو 40 سال سے عمر قید تک سزا سنا دی ہے 63 سالہ ڈیوس کو اگست 2026 میں جیوری نے قتل کا مجرم قرار دیا تھا منگل 13 اکتوبر کو لاس ویگاس کی عدالت میں سزا سنائے جانے کے بعد 1990 کی دہائی کے موسیقی کی دنیا کے سب سے مشہور قتل کے مقدمات میں سے ایک اہم مرحلے پر پہنچ گیا ہے
ڈیوس کو قتل اور مہلک ہتھیار کے استعمال کے الزامات میں 20، 20 سال سے عمر قید تک کی 2 الگ الگ سزائیں سنائی گئیں، جو یکے بعد دیگرے پوری کی جائیں گی اس طرح مجموعی سزا 40 سال سے عمر قید تک بنتی ہے۔ مقدمے کی سماعت کرنے والی جج کارلی کیرنی نے کہا کہ کسی شخص کی جان لینے اور اس کے خاندان سے اسے چھین لینے کے بعد محض اپنی زندگی میں آگے بڑھ جانے کا دعویٰ کافی نہیں ہوتا
عدالت میں ڈیوس نے زیادہ گفتگو نہیں کی اس نے تفتیش کاروں کی جانب سے اس کے گھر سے قبضے میں لی گئی ذاتی اشیا اور تصاویر واپس کرنے کا مطالبہ کیا جب جج نے پوچھا کہ کیا وہ کچھ اور کہنا چاہتا ہے تو اس نے جواب دیا کہ وہ مطمئن ہے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل ضرور کرے گا اس کے وکیل نے بھی اپیل کرنے کا اعلان کیا ہے
ٹوپاک شکور 1990 کی دہائی میں امریکی ریپ موسیقی کے نمایاں ترین فنکاروں میں شمار ہوتے تھے وہ اپنی موسیقی میں غربت، نسلی امتیاز، سماجی ناانصافی، جرائم اور امریکی معاشرے کے مسائل کو موضوع بناتے تھے ان کے گیتوں نے نوجوانوں کی بڑی تعداد کو متاثر کیا اور ان کی شہرت امریکا سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گئی ان کا البم آل آئیز آن می بھی ان کی زندگی کے آخری برس میں ریلیز ہوا تھا۔ 2017 میں انہیں بعد از وفات راک اینڈ رول ہال آف فیم میں شامل کیا گیا
7 ستمبر 1996 کو ٹوپاک لاس ویگاس میں باکسنگ کے ایک مقابلے کے بعد اپنے ساتھی اور ریکارڈ کمپنی کے شریک بانی ماریون سوج نائٹ کے ساتھ گاڑی میں سفر کررہے تھے اس سے چند گھنٹے پہلے ایم جی ایم گرینڈ ہوٹل میں ڈیوس کے بھانجے اورلینڈو اینڈرسن اور ٹوپاک کے ساتھیوں کے درمیان جھگڑا ہوا تھا استغاثہ کے مطابق اسی واقعے کے بدلے میں ٹوپاک کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی
استغاثہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ڈیوس نے سفید رنگ کی کیڈیلک گاڑی میں موجود افراد کو ہتھیار فراہم کیا اور حملے کا انتظام کیا جب ٹوپاک اور سوج نائٹ کی بی ایم ڈبلیو گاڑی ٹریفک سگنل پر رکی تو سفید کیڈیلک ان کے قریب آئی اور اس میں موجود ایک شخص نے فائرنگ کردی۔ ٹوپاک کو 4 گولیاں لگیں وہ 6 دن بعد 13 ستمبر 1996 کو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کرگئے سوج نائٹ بھی زخمی ہوئے، لیکن ان کی جان بچ گئی
ڈیوس کئی برس تک اس مقدمے میں اہم مشتبہ شخص رہا، تاہم تفتیش کاروں کے پاس اسے گرفتار کرکے مقدمہ چلانے کے لیے کافی شواہد نہیں تھے معاملے میں اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب ڈیوس نے ذرائع ابلاغ کو دیے گئے انٹرویوز اور اپنی 2019 کی کتاب کمپٹن اسٹریٹ لیجنڈ میں قتل کے واقعے میں اپنے کردار کے بارے میں تفصیلات بیان کیں استغاثہ نے ان بیانات اور تفتیش کاروں کے ساتھ اس کی سابقہ گفتگو کو مقدمے میں اہم ثبوت کے طور پر پیش کیا
ڈیوس کے وکیل نے مقدمے کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ اس کے موکل نے شہرت اور کتاب کی فروخت کے لیے قتل میں اپنے کردار کی کہانی بیان کی تھی دفاع کا کہنا تھا کہ ڈیوس کو جائے وقوعہ پر موجود ثابت کرنے کے لیے براہ راست اور ٹھوس جسمانی شواہد موجود نہیں تھے تاہم جیوری نے استغاثہ کے پیش کردہ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد اسے مجرم قرار دے دیا
عدالت میں ٹوپاک کی بہن سیکیویا شکور نے اپنے بھائی کے قتل سے خاندان کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں جذباتی بیان دیا انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ نے ٹوپاک کی پرورش اس یقین کے ساتھ کی تھی کہ وہ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں اور دنیا کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں ان کے مطابق بھائی کی موت نے نہ صرف خاندان بلکہ ان لوگوں کو بھی متاثر کیا جو اس کی موسیقی اور سماجی پیغام سے وابستہ تھے
استغاثہ نے کہا کہ ڈیوس نے برسوں تک قتل کے بارے میں گفتگو کرکے اور اپنی کتاب میں اس کا ذکر کرکے اپنے خلاف شواہد کو مضبوط کیا عدالت میں سزا سناتے ہوئے جج نے بھی اس بات پر زور دیا کہ ٹوپاک کی موت نے ان کے خاندان اور مداحوں کو گہرا صدمہ پہنچایا اور اتنے برس گزرنے کے باوجود اس نقصان کو فراموش نہیں کیا جاسکا
ٹوپاک کا قتل 1990 کی دہائی میں امریکی ریپ موسیقی کے مشرقی اور مغربی ساحلی حلقوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دور میں ہوا تھا اس زمانے میں مختلف فنکاروں، ریکارڈ کمپنیوں اور گینگ گروہوں کے درمیان رقابت نے موسیقی کی دنیا میں تناؤ بڑھا دیا تھا ٹوپاک کے قتل نے ان اختلافات کو مزید نمایاں کیا اور بعد کے برسوں میں اس واقعے کے بارے میں متعدد نظریات اور قیاس آرائیاں سامنے آتی رہیں
ڈیوس کی سزا کے باوجود ایک اہم سوال اب بھی مکمل طور پر حل نہیں ہوا کہ ٹوپاک پر مہلک گولیاں چلانے والا اصل شخص کون تھا مقدمے میں ڈیوس کو قتل کی منصوبہ بندی اور اس میں کردار ادا کرنے پر مجرم قرار دیا گیا، لیکن فائرنگ کرنے والے شخص کی شناخت حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئی ڈیوس اس واقعے میں ملوث گاڑی میں موجود افراد میں واحد زندہ شخص بتایا جاتا ہے
اس فیصلے سے ٹوپاک کے خاندان کو کئی دہائیوں بعد قانونی کارروائی میں ایک اہم پیش رفت حاصل ہوئی ہے، تاہم اپیل کے اعلان کے باعث مقدمے کا قانونی سفر مزید جاری رہ سکتا ہے ٹوپاک شکور کی موسیقی، ان کے سماجی پیغامات اور ان کی اچانک موت آج بھی دنیا بھر میں ان کے مداحوں اور موسیقی کے حلقوں میں زیر بحث ہیں





