Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

بھارت میں 33 سال سے احتجاج کا مرکز رہنے والا جنتر منتر بند، جمہوری آزادیوں پر نئی بحث

بھارت میں 33 سال سے احتجاج کا مرکز رہنے والا جنتر منتر بند، جمہوری آزادیوں پر نئی بحث

نئی دہلی میں بھارتی پولیس نے تاریخی جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقام کی حیثیت سے ختم کردیا ہے اس فیصلے کے بعد 1993 سے مسلسل احتجاجی مظاہروں کا مرکز رہنے والی یہ جگہ اب باضابطہ طور پر مجاز احتجاجی مقام نہیں رہی اس اقدام پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے حلقوں نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے شہریوں کے لیے حکومت کے سامنے اپنے مطالبات پیش کرنا مشکل ہوسکتا ہے
جنتر منتر نئی دہلی کے مرکز میں واقع ایک تاریخی فلکیاتی رصدگاہ کے قریب ہے گزشتہ 33 برس کے دوران یہ مقام مزدور یونینوں، سابق فوجیوں، بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والوں، خواتین کے حقوق کے کارکنوں اور طلبہ تنظیموں کے احتجاج کی علامت بن چکا تھا۔ پارلیمنٹ، سرکاری دفاتر اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کے قریب ہونے کی وجہ سے مظاہرین کے لیے یہاں اجتماع کرنا اور اپنے مطالبات حکومتی حلقوں تک پہنچانا نسبتاً آسان تھا
دہلی پولیس نے پیر کے روز جاری کیے گئے حکم کے ذریعے جنتر منتر کی احتجاجی مقام کی حیثیت ختم کردی یہ فیصلہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دارالحکومت میں حکومت مخالف مظاہروں اور انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی جاری ہے ناقدین کو خدشہ ہے کہ احتجاجی مقامات کی تبدیلی سے شہریوں کی آواز حکومتی اداروں تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ محدود ہوجائے گا
حالیہ مہینوں میں نوجوانوں کی ایک احتجاجی تحریک نے بھی جنتر منتر کو مرکز بنایا تھا کاکروچ جنتا پارٹی نامی آن لائن تحریک سے وابستہ نوجوانوں نے انتخابی فہرستوں میں تبدیلی کے خلاف مظاہرے کیے ناقدین کا الزام ہے کہ ان تبدیلیوں سے بعض اہل ووٹرز کے ووٹ ڈالنے کے حق کو نقصان پہنچ سکتا ہے تاہم اس معاملے پر حکومت اور ناقدین کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے
جولائی میں ہزاروں طلبہ نے مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف بھی اس مقام پر احتجاج کیا تھا اس سے پہلے امتحانی نظام میں بے قاعدگیوں کے خلاف ہونے والے مظاہروں کے بعد وزیر تعلیم کو عہدہ چھوڑنا پڑا تھا جنتر منتر کی اہمیت صرف بڑے سیاسی مظاہروں تک محدود نہیں رہی بلکہ مختلف سماجی گروہوں نے بھی یہاں اپنے مسائل اجاگر کیے
انسانی حقوق کی کارکن شبنم ہاشمی نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جنتر منتر پارلیمنٹ کے قریب ہونے اور شہر کے مرکزی حصے میں واقع ہونے کی وجہ سے احتجاج کے لیے انتہائی اہم مقام تھا ان کے مطابق اس کی حیثیت ختم کرنا اختلافی آوازوں کو محدود کرنے کی کوشش ہے دوسری جانب سابق دہلی پولیس کمشنر کرن بیدی نے اس اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حساس مقامات کے قریب مظاہروں کے انتظامات مشکلات پیدا کرسکتے ہیں اور احتجاج کے لیے مناسب جگہوں کا ہونا بھی ضروری ہے
حکام نے احتجاج کے لیے 3 متبادل مقامات مقرر کیے ہیں ان میں رام لیلا میدان نسبتاً مرکزی علاقے میں واقع ہے، جبکہ براری گراؤنڈ اور سی بی ڈی گراؤنڈ بھی مظاہروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں پولیس کا مؤقف ہے کہ احتجاج کے لیے متبادل مقامات کی نشاندہی سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کی گئی ہے، جس میں مظاہرین کے لیے مناسب جگہیں مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا
تاہم احتجاجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مضافات میں منتقل ہونے سے مظاہروں میں شرکت مشکل ہوسکتی ہے دور دراز ریاستوں سے آنے والے افراد کو زیادہ سفر اور اخراجات برداشت کرنا پڑیں گے، جبکہ ذرائع ابلاغ اور حکومتی اداروں سے دوری کے باعث ان کے مطالبات کو پہلے جیسی توجہ ملنا بھی مشکل ہوسکتا ہے
جنتر منتر کے آس پاس رہنے والے بعض شہریوں نے پولیس کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران سڑکیں بند ہونے، شور شرابے اور کوڑا کرکٹ کے باعث روزمرہ زندگی متاثر ہوتی تھی اس طرح ایک ہی فیصلے پر شہری سہولت اور جمہوری آزادی کے حوالے سے مختلف آرا سامنے آئی ہیں
منگل کے روز جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے باوجود وہاں دوبارہ جمع ہونے کی کوشش بھی کی گئی پولیس کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے 2 اہم رہنماؤں کو رکاوٹیں عبور کرکے مقام پر پہنچنے کی کوشش کے بعد حراست میں لیا گیا اور بدھ کے روز انہیں مبینہ غیر قانونی داخلے کے الزام میں 5 دن کے لیے جیل بھیج دیا گیا
یہ معاملہ بھارت میں احتجاج کے حق، شہری آزادیوں اور عوامی مقامات کے استعمال سے متعلق ایک وسیع بحث کا حصہ بن گیا ہے ایک طرف حکام امن و امان، ٹریفک اور رہائشیوں کی مشکلات کو اہم قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف کارکنوں کا کہنا ہے کہ جمہوریت میں عوام کے لیے ایسی جگہیں موجود رہنی چاہییں جہاں وہ حکمرانوں کے سامنے اپنے مطالبات براہ راست پیش کرسکیں جنتر منتر کی حیثیت ختم ہونے کے بعد اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ متبادل مقامات عوامی احتجاج کی ضرورت پوری کرپاتے ہیں یا نہیں

قومی خبریں سے مزید