Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

پاکستان میں خواتین کی مالیاتی سہولتوں تک رسائی میں فرق کم، بینک کھاتوں اور قرضوں کے نئے مواقع

پاکستان میں خواتین کی مالیاتی سہولتوں تک رسائی میں فرق کم، بینک کھاتوں اور قرضوں کے نئے مواقع

پاکستان میں خواتین اور مردوں کے درمیان بینکاری اور مالیاتی سہولتوں تک رسائی کا فرق کم ہوکر 2025 میں 29 فیصد رہ گیا ہے، جو 2021 میں 39 فیصد تھا اس پیش رفت کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے خواتین کو مالیاتی نظام میں مزید شامل کرنے، کاروبار کے لیے قرضوں کی فراہمی بڑھانے اور ڈیجیٹل بینکاری تک رسائی آسان بنانے کے لیے اپنی پالیسی کا دوسرا مرحلہ شروع کردیا ہے
اسٹیٹ بینک نے 2021 میں ’’بینکاری میں مساوات‘‘ کے نام سے پالیسی متعارف کرائی تھی، جس کا مقصد خواتین کے لیے بینکوں کی خدمات کو زیادہ قابل رسائی بنانا اور مالیاتی اداروں میں ان کی نمائندگی بڑھانا تھا۔ مرکزی بینک کے مطابق، اس پالیسی کے تحت 17,500 سے زیادہ خواتین کو بینکوں میں ملازمتیں دی گئیں، جس کے نتیجے میں بینکاری کے شعبے میں خواتین ملازمین کا تناسب 13 فیصد سے بڑھ کر 17 فیصد ہوگیا
نئی پالیسی کے تحت بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خواتین کے لیے کھاتے کھولنے کے طریقہ کار کو آسان بنائیں، ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دیں اور خواتین کی ملکیت یا زیر انتظام کاروباروں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے خصوصی سہولتیں متعارف کرائیں اس میں چھوٹے کاروبار کرنے والی خواتین، گھریلو سطح پر کام کرنے والی خواتین اور غیر رسمی شعبے میں روزگار حاصل کرنے والوں کو بھی مالیاتی نظام میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے
پاکستان میں بہت سی خواتین سلائی کڑھائی، گھریلو کھانے تیار کرنے، آن لائن مصنوعات فروخت کرنے، زراعت اور چھوٹے تجارتی کاموں کے ذریعے اپنے خاندانوں کی آمدنی میں حصہ ڈالتی ہیں تاہم، ان میں سے متعدد خواتین کے پاس باقاعدہ بینک کھاتہ، آمدنی کا تحریری ریکارڈ یا کاروبار کے لیے ضمانت کے طور پر پیش کرنے کے قابل اثاثے موجود نہیں ہوتے اس وجہ سے انہیں بینکوں سے قرض حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں اور کاروبار کو وسعت دینے کے مواقع محدود رہ جاتے ہیں
نئی پالیسی کے تحت بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خواتین کاروباری افراد کے لیے آسان شرائط پر مخصوص ڈیجیٹل کھاتے متعارف کرائیں اور قرضوں کی درخواستوں کا جائزہ لیتے وقت صرف روایتی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے متبادل طریقے بھی اختیار کریں ڈیجیٹل مالیاتی ریکارڈ اور کاروبار کی حقیقی سرگرمیوں کو بھی قرض دینے کے فیصلوں میں اہمیت دی جاسکتی ہے اس سے ان خواتین کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے جو کاروبار چلانے کی صلاحیت رکھتی ہیں لیکن روایتی بینکاری کے تقاضے پورے نہیں کرسکتیں
اسٹیٹ بینک نے مالیاتی اداروں میں خواتین کی نمائندگی بڑھانے کے لیے بھی اہداف مقرر کیے ہیں دسمبر 2028 تک بینکوں اور متعلقہ مالیاتی اداروں میں خواتین ملازمین کا تناسب 17 فیصد سے بڑھا کر 22 فیصد کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے اس کے علاوہ خواتین کو انتظامی عہدوں تک پہنچانے، ملازمت برقرار رکھنے اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ کام کرنے والی ماؤں کی سہولت کے لیے بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز یا مالی معاونت فراہم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے
نئی پالیسی میں برانچ کے بغیر بینکاری خدمات فراہم کرنے والے نمائندوں کے ذریعے خواتین تک رسائی بڑھانے کا ہدف بھی شامل ہے دسمبر 2028 تک ایسے خواتین نمائندوں کی تعداد 35,000 تک پہنچانے کی ہدایت دی گئی ہے اس اقدام سے ان علاقوں میں خواتین کو کھاتے کھلوانے اور رقم کی منتقلی جیسی خدمات حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جہاں بینک کی شاخیں دور واقع ہیں یا خواتین کے لیے وہاں جانا مشکل ہوتا ہے
اسٹیٹ بینک کی قومی مالیاتی شمولیت کی حکمت عملی کے تحت 2028 تک خواتین اور مردوں کے درمیان مالیاتی سہولتوں تک رسائی کے فرق کو مزید کم کرکے 25 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اس مقصد کے لیے بینکوں کو خواتین کے کھاتوں، قرضوں اور ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق معلومات الگ ریکارڈ کرنے اور ہر 3 ماہ بعد پیش رفت کی رپورٹ دینے کی ہدایت بھی کی گئی ہے
تاہم، مالیاتی سہولتوں تک رسائی میں فرق کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خواتین کو معاشی خودمختاری حاصل ہوگئی ہے یا تمام خواتین کو قرضوں اور بینکاری خدمات تک برابر رسائی مل چکی ہے بینک کھاتہ کھل جانا ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اصل فائدہ اس وقت ہوگا جب خواتین اپنے کھاتے باقاعدگی سے استعمال کرسکیں، مناسب شرائط پر قرض حاصل کریں، اپنے کاروبار کو بڑھائیں اور آمدنی کے فیصلوں میں زیادہ خودمختاری حاصل کریں
پاکستان میں خواتین کی مالیاتی شمولیت کے راستے میں سماجی پابندیاں، مالیاتی معلومات کی کمی، ڈیجیٹل سہولتوں تک محدود رسائی اور ضمانتوں کی شرائط جیسی رکاوٹیں موجود ہیں بعض خواتین کے پاس موبائل فون یا انٹرنیٹ تک آزادانہ رسائی نہیں ہوتی، جبکہ کچھ خواتین کو کاروبار کے لیے قرض لینے یا مالی فیصلے کرنے میں خاندانی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے صرف پالیسی بنانا کافی نہیں، بلکہ اس پر مؤثر عمل درآمد اور خواتین کو عملی مدد فراہم کرنا بھی ضروری ہے
اگر بینک آسان شرائط پر قرض فراہم کریں، مالیاتی معلومات عام کریں اور خواتین کاروباری افراد کی ضروریات کے مطابق خدمات متعارف کرائیں تو اس سے نہ صرف خواتین کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں اس کے برعکس، اگر قرضوں کی شرائط پیچیدہ رہیں اور خواتین کے لیے خدمات تک رسائی مشکل ہو تو پالیسی کے مقررہ اہداف حاصل کرنا دشوار ہوگا
اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی پاکستان میں خواتین کی مالیاتی شمولیت بڑھانے کی ایک اہم کوشش ہے اب اس کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ کتنی خواتین کو عملی طور پر بینک کھاتوں، قرضوں اور کاروباری سہولتوں سے فائدہ پہنچتا ہے اور یہ سہولتیں شہری علاقوں سے نکل کر دیہی اور کم آمدنی والے خاندانوں تک کس حد تک پہنچتی ہیں

قومی خبریں سے مزید