پاکستان میں نوجوانوں کے لیے روزگار کا بحران، ڈگریاں حاصل کرنے کے باوجود لاکھوں نوجوان بے روزگار
پاکستان میں نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ایک بڑا معاشی اور سماجی چیلنج بن گیا ہے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بڑی تعداد میں نوجوان ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام ہیں، جبکہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت تک محدود رسائی ان کے لیے روزگار کی تلاش مزید مشکل بنا رہی ہے عالمی بینک کے مطابق، پاکستان کے نوجوانوں میں صرف 7 فیصد کو باقاعدہ فنی اور پیشہ ورانہ تربیت تک رسائی حاصل ہے، جبکہ خطے میں یہ اوسط 22 فیصد ہے
عالمی بینک کے اندازے کے مطابق، ہنر کی کمی کے باعث پاکستان کو ہر سال تقریباً 31.5 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے اس نقصان میں کم پیداواری صلاحیت اور برآمدات کی وہ ممکنہ آمدنی بھی شامل ہے جو مناسب تربیت یافتہ افرادی قوت نہ ہونے کی وجہ سے حاصل نہیں ہوپاتی یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ نوجوانوں کو صرف تعلیمی اسناد فراہم کرنا کافی نہیں، بلکہ انہیں ایسی مہارتیں دینا بھی ضروری ہے جن کی صنعتوں اور کاروباری اداروں کو حقیقی ضرورت ہے
پاکستان میں 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً ایک تہائی نوجوان ایسے ہیں جو نہ تعلیم حاصل کررہے ہیں، نہ ملازمت کررہے ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام میں شامل ہیں۔ خواتین میں یہ شرح نصف سے بھی زیادہ ہے اس کا مطلب ہے کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم، روزگار اور پیشہ ورانہ تربیت کے نظام سے باہر ہے، جس سے ان کی معاشی خودمختاری اور مستقبل کے امکانات متاثر ہوتے ہیں
پاکستان میں گریجویٹ نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح مجموعی بے روزگاری سے زیادہ ہے پاکستان کے محنت سے متعلق 2024 اور 2025 کے سروے کے تجزیے کے مطابق، تمام تعلیمی سطحوں کو شامل کرنے پر بے روزگاری کی شرح 14.7 فیصد بتائی گئی، جبکہ گریجویٹس میں یہ شرح 18.3 فیصد تھی۔ 20 سے 24 سال کی عمر کے نوجوان گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح 32.8 فیصد تک پہنچ گئی اس کا مطلب ہے کہ اس عمر کے تقریباً ہر 3 میں سے 1 گریجویٹ کو ملازمت نہیں مل رہی
اس صورت حال کی ایک وجہ تعلیم اور روزگار کی منڈی کے درمیان بڑھتا ہوا فرق ہے۔ بہت سے نوجوان یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرلیتے ہیں، لیکن انہیں عملی کام کا تجربہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال، پیشہ ورانہ رابطے اور ملازمت کے لیے درکار خصوصی مہارتیں حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملتے دوسری طرف، کاروباری ادارے ایسے امیدوار تلاش کرتے ہیں جو ملازمت شروع کرتے ہی عملی ذمہ داریاں سنبھال سکیں
مسئلہ صرف نوجوانوں کی صلاحیتوں کا نہیں، بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے، کیریئر کی رہنمائی فراہم کرنے اور تعلیم کو صنعتوں کی ضروریات سے جوڑنے کے نظام کا بھی ہے اگر تعلیمی ادارے مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق نصاب تیار نہ کریں اور طلبہ کو دوران تعلیم عملی تربیت نہ ملے تو ڈگری مکمل کرنے کے بعد ملازمت حاصل
کرنا مشکل ہوجاتا ہے
مصنوعی ذہانت اور خودکار نظاموں کے پھیلاؤ نے روزگار کی منڈی کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کردیا ہے مستقبل میں ایسے نوجوانوں کے لیے مواقع بڑھ سکتے ہیں جو کمپیوٹر پروگرامنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ڈیٹا کے تجزیے، مشینوں کی دیکھ بھال، جدید زراعت اور صنعتی ٹیکنالوجی میں مہارت رکھتے ہوں اس کے برعکس، صرف روایتی تعلیم پر انحصار کرنے والے نوجوانوں کو بدلتی ہوئی منڈی کے مطابق خود کو تیار کرنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ مصنوعی ذہانت کو صرف ملازمتیں ختم کرنے والی ٹیکنالوجی کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ نوجوانوں کو اس کے استعمال کی تربیت بھی دی جائے اسکولوں، کالجوں، جامعات اور فنی تربیت کے اداروں میں ایسے پروگرام متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو نوجوانوں کو عملی کام کے لیے تیار کریں اس کے ساتھ چھوٹے کاروباروں کو جدید ٹیکنالوجی اپنانے میں مدد دینا بھی ضروری ہے تاکہ نئے کاروبار اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں
پاکستان میں نوجوان خواتین کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہونے کی ایک بڑی وجہ تربیت اور ملازمتوں تک رسائی میں رکاوٹیں ہیں بہت سی خواتین کو سماجی پابندیوں، محفوظ سفری سہولتوں کی کمی، بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں اور بعض شعبوں میں ملازمت کے محدود مواقع کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسی لیے خواتین کی بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی طور پر روزگار کی منڈی میں شامل نہیں ہوپاتی
اگر خواتین کو گھر کے قریب تربیتی مراکز، آن لائن کام کے مواقع، مناسب سفری سہولتیں اور محفوظ کام کا ماحول فراہم کیا جائے تو وہ ملکی معیشت میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتی ہیں خواتین کی معاشی شرکت بڑھانے سے خاندانوں کی آمدنی بہتر ہونے کے ساتھ کاروبار اور ملکی پیداوار کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے
پاکستان میں نوجوانوں کے روزگار کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے قومی نوجوان روزگار پالیسی پر بھی کام کیا جارہا ہے اگست 2026 میں وزیر اعظم کے نوجوانوں کے پروگرام کے تحت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں نوجوانوں کی مہارتوں کو روزگار کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے پر زور دیا گیا حکومت نے 2030 تک افرادی قوت میں شامل ہونے والے نئے افراد کے لیے روزگار کے مواقع کی فراہمی بہتر بنانے اور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت بڑھانے کے اہداف بھی پیش کیے ہیں تاہم، ان اہداف کی کامیابی کا انحصار عملی اقدامات، دستیاب وسائل اور نئی ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت پر ہوگا
پاکستان میں روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، برآمدات میں اضافہ اور چھوٹے کاروباروں کی معاونت بھی اہم ہے صرف سرکاری ملازمتوں پر انحصار کرکے نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو روزگار فراہم کرنا ممکن نہیں ہوگا حکومت کو کاروبار شروع کرنے کے مراحل آسان بنانے، غیر ضروری رکاوٹیں کم کرنے اور ایسے معاشی حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن میں صنعتیں اور کاروبار زیادہ افراد کو ملازمت دے سکیں
بے روزگاری کے اثرات صرف نوجوان کی ذاتی آمدنی تک محدود نہیں رہتے جب تعلیم یافتہ نوجوان برسوں ملازمت کی تلاش میں رہتے ہیں تو ان کے خاندانوں پر مالی دباؤ بڑھتا ہے، شادی اور گھر بسانے کے منصوبے متاثر ہوتے ہیں اور مستقبل کے بارے میں غیر یقینی پیدا ہوتی ہے بعض نوجوان بیرون ملک روزگار تلاش کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی تعلیم اور صلاحیتوں سے کم درجے کے کام کرنے لگتے ہیں
مسلسل بے روزگاری سے نوجوانوں کی صلاحیتیں ضائع ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے اگر ملک اپنے نوجوانوں کو مناسب تربیت اور روزگار فراہم نہ کرسکے تو آبادی میں نوجوانوں کا بڑا تناسب معاشی فائدے کے بجائے ایک بڑا سماجی چیلنج بن سکتا ہے
پاکستان کے لیے اصل امتحان یہ ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم کو عملی مہارتوں، تربیت اور روزگار کے مواقع سے جوڑا جائے فنی تربیت تک رسائی بڑھانے، صنعتوں کے ساتھ تعلیمی اداروں کے روابط مضبوط کرنے، خواتین کی ملازمتوں میں شرکت بڑھانے اور نئے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کے بغیر بے روزگاری کا مسئلہ حل کرنا مشکل ہوگا نوجوانوں کو محض ڈگریاں نہیں بلکہ ایسے مواقع درکار ہیں جن کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو آمدنی، خودمختاری اور ملکی ترقی میں تبدیل کرسکیں





