روس کے وزیر داخلہ 4 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، سکیورٹی تعاون پر بات چیت ہوگی
اسلام آباد میں روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف کا استقبال وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کیا یہ کسی بھی روسی وزیر داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے وہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر 4 روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچے ہیں
دورے کے دوران روسی وزیر داخلہ کی پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں، جن میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوگی اگرچہ حکام نے ملاقاتوں کے مکمل ایجنڈے کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم اس دورے کو پاکستان اور روس کے درمیان سکیورٹی اور سفارتی رابطوں کے فروغ کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے
پاکستان اور روس کے درمیان حالیہ برسوں میں معاشی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھا ہے روس پر یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے باعث ماسکو نے نئی منڈیوں اور تجارتی شراکت داروں کی طرف توجہ دی، جبکہ پاکستان نے توانائی کی ضروریات پوری کرنے اور درآمدی اخراجات کم کرنے کے لیے روسی خام تیل کی خریداری شروع کی۔ 2023 میں روسی خام تیل پاکستان کے توانائی کے ذرائع میں شامل ہوا
دونوں ملکوں کے درمیان داخلی سلامتی کے شعبے میں بھی تعاون پہلے سے جاری ہے جون 2026 میں پاکستان اور روس نے غیر قانونی امیگریشن کی روک تھام، غیر قانونی طور پر دوسرے ملک میں مقیم شہریوں کی واپسی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف تعاون بڑھانے کے لیے معاہدوں پر دستخط کیے تھے یہ معاہدے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی اور روسی وزیر داخلہ ولادیمیر کولاکولتسیف کے درمیان ملاقات کے دوران طے پائے تھے
موجودہ دورے میں دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان ہونے والی بات چیت سے یہ اندازہ ہوگا کہ پہلے سے طے شدہ تعاون کو عملی طور پر آگے بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کیے جاتے ہیں خاص طور پر غیر قانونی امیگریشن، منشیات کی اسمگلنگ اور سکیورٹی سے متعلق معاملات میں رابطوں کو مؤثر بنانا دونوں ملکوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے تاہم دورے کے اختتام تک کسی نئے معاہدے یا فیصلے کا اعلان ہوتا ہے یا نہیں، اس بارے میں فی الحال سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں





