Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

میکسیکو اور امریکہ کا ممکنہ تجارتی معاہدہ کینیڈا کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے

میکسیکو اور امریکہ کا ممکنہ تجارتی معاہدہ کینیڈا کے لیے نئی مشکلات پیدا کر سکتا ہے

شمالی امریکہ میں تجارت کے مستقبل کے حوالے سے امریکہ اور میکسیکو کے درمیان جاری مذاکرات کینیڈا کے لیے خاص اہمیت اختیار کر گئے ہیں دونوں ملکوں کے درمیان ممکنہ عبوری تجارتی معاہدہ نہ صرف میکسیکو پر امریکی محصولات میں کمی کا راستہ کھول سکتا ہے بلکہ کینیڈا کے ساتھ آئندہ مذاکرات کی شرائط بھی طے کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تجارتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ میکسیکو اگر امریکی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے کچھ رعایتیں دیتا ہے تو واشنگٹن بعد میں کینیڈا سے بھی اسی نوعیت کی شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے
امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان موجودہ آزاد تجارتی معاہدے کا مستقبل اس وقت غیر یقینی صورت حال سے گزر رہا ہے اس معاہدے کو عموماً کُسما یا یو ایس ایم سی اے کہا جاتا ہے یہ معاہدہ 2020 میں نافذ ہوا تھا اور اس کے تحت تینوں ملکوں کی معیشتیں صنعت، زراعت، گاڑیوں کی تیاری اور مختلف تجارتی شعبوں میں ایک دوسرے سے گہری وابستہ ہیں 2026 میں اس معاہدے کا مشترکہ جائزہ شروع ہونا تھا، لیکن امریکی حکومت نے اسے مزید 16 سال کے لیے خودکار طور پر توسیع دینے سے انکار کر دیا اس فیصلے کا مطلب یہ نہیں کہ معاہدہ فوراً ختم ہو گیا ہے، بلکہ اس کے مستقبل پر مذاکرات اور جائزے کا مرحلہ شروع ہو گیا ہے
امریکہ اور میکسیکو کے حکام کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہو چکے ہیں میکسیکو کے وزیر معیشت مارسیلو ایبرارڈ نے حال ہی میں کہا کہ دونوں ملک متعدد معاملات پر پیش رفت کر رہے ہیں اور نئے سمجھوتوں کے قریب پہنچ رہے ہیں اس کے برعکس امریکہ اور کینیڈا کے درمیان باضابطہ مذاکرات اگست میں تعطل کا شکار ہونے کے بعد سے دوبارہ شروع نہیں ہو سکے۔ امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا ہے کہ وہ کینیڈا کے تجارتی امور کے وزیر ڈومینک لی بلانک سے رابطے میں ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان رسمی مذاکرات آگے نہیں بڑھے
میکسیکو اور امریکہ کے درمیان زیر غور سمجھوتے کو ماہرین ایک محدود یا عبوری معاہدہ قرار دے رہے ہیں اس کا مقصد پورے شمالی امریکی تجارتی معاہدے کو فوری طور پر ازسرنو تحریر کرنا نہیں، بلکہ چند فوری تنازعات حل کرنا، بعض امریکی محصولات میں کمی حاصل کرنا اور مزید مذاکرات کے لیے راستہ بنانا ہے اس کے بدلے میکسیکو کو اپنی بعض تجارتی اور داخلی پالیسیوں میں تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں ان معاملات میں توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری، مزدوروں کے حقوق اور ان پر عمل درآمد، زرعی تجارت اور غیر بازاری معیشتوں سے متعلق امریکی خدشات شامل ہو سکتے ہیں
کینیڈا کے لیے سب سے بڑا خدشہ گاڑیوں اور گاڑیوں کے پرزوں پر امریکی محصولات سے متعلق ہے اگر میکسیکو مذاکرات کے نتیجے میں ان محصولات کو کم کرانے میں کامیاب ہو جاتا ہے، لیکن اس کے بدلے کچھ نئی شرائط قبول کرتا ہے، تو امریکہ کینیڈا کے ساتھ بات چیت میں اسی رعایت کو معیار بنا سکتا ہے مثال کے طور پر، اگر میکسیکو گاڑیوں یا پرزوں پر 25 فیصد محصول کو کم کروا کر 15 فیصد یا اس سے بھی کم سطح پر لاتا ہے، تو امریکی حکام کینیڈا سے بھی اسی نوعیت کی شرائط قبول کرنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں یہ فی الحال ایک ممکنہ صورت حال ہے، کوئی طے شدہ فیصلہ نہیں
تجارتی ماہرین کے مطابق، میکسیکو کے ساتھ کسی سمجھوتے سے امریکہ کو کینیڈا کے لیے اپنی شرائط طے کرنے میں اضافی فائدہ مل سکتا ہے اگر میکسیکو امریکی مطالبات پر رعایت دیتا ہے تو کینیڈا کے لیے اس سے بہتر شرائط حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے تاہم ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ دونوں ملکوں کی معیشتیں اور امریکہ کے ساتھ ان کے تجارتی مسائل ایک جیسے نہیں ہیں، اس لیے میکسیکو کے ساتھ ہونے والا ہر فیصلہ لازماً کینیڈا پر اسی شکل میں لاگو نہیں ہوگ
کینیڈا کو اس صورت حال میں میکسیکو کے ساتھ قریبی رابطے بڑھانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے دونوں ملک ایک دوسرے کو امریکی مذاکرات میں سامنے آنے والے مطالبات اور ممکنہ رعایتوں سے آگاہ رکھ سکتے ہیں اس طرح انہیں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ واشنگٹن کن شرائط پر زور دے رہا ہے اور کن معاملات میں سمجھوتے کی گنجائش موجود ہے تاہم صرف باہمی رابطے سے امریکی دباؤ ختم ہونے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی
اس تنازع کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کا موجودہ تجارتی معاہدہ تینوں ملکوں کے درمیان مشترکہ سمجھوتہ ہے اس میں بنیادی تبدیلیوں کے لیے تینوں فریقوں کی رضامندی ضروری ہوگی امریکہ اور میکسیکو کے درمیان الگ سے ہونے والا عبوری معاہدہ خود بخود کُسما کی تمام شرائط تبدیل نہیں کر سکتا، البتہ اس سے مستقبل کے مذاکرات کا ماحول اور دوسرے ملکوں پر دباؤ ضرور متاثر ہو سکتا ہے
کینیڈا کے لیے اس وقت اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ امریکی محصولات اور تجارتی دباؤ سے بچنے کے ساتھ اپنی معاشی پالیسیوں اور قومی مفادات کا تحفظ بھی کرے میکسیکو اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا اشارہ دے سکتی ہے کہ آئندہ کینیڈا کو کن شرائط کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم حتمی صورت حال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تینوں ممالک اپنے اختلافات کو کس حد تک حل کرتے ہیں اور موجودہ تجارتی معاہدے کو برقرار رکھنے کے لیے کیا سمجھوتے کرتے ہیں

قومی خبریں سے مزید