سوتیلی بیٹی کی موت پر سوگوار جرمن وزیر کو سیاسی حملوں کا سامنا، نازک مخلوط حکومت کو ایک اور دھچکا
جرمنی کی وزیر محنت اور سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی شریک سربراہ باربل باس نے اپنی سوتیلی بیٹی کی موت کے بعد ہونے والی سیاسی تنقید اور ذاتی صدمے کے باعث دونوں عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کی علیحدگی سے چانسلر فریڈرک مرز کی نازک مخلوط حکومت کو ایک اور دھچکا لگا ہے، جسے پہلے ہی معاشی اصلاحات اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق، باس نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ سوتیلی بیٹی کی موت کے بعد انہیں احساس ہوا کہ غم سے سنبھلنے کے لیے وقت درکار ہے۔ انہوں نے اپنے سیاسی کردار سے علیحدگی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ خاندان کے اس سانحے کے دوران ان پر عوامی سطح پر تنقید اور حملوں میں اضافہ ہوتا رہا، جن میں بدقسمتی سے مخلوط حکومت میں شامل اتحادی جماعت کے بعض افراد بھی شامل تھے۔
باس کا کہنا تھا کہ ان کی ذاتی زندگی کے اس مشکل دور میں یہ حملے مسلسل شدت اختیار کرتے گئے۔ ان کے مطابق، ایسے حالات میں سیاسی محاذ پر سرگرم رہنا ان کے لیے مزید مشکل ہو گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، قدامت پسند کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے بعض ارکان نے باس کی غیر حاضری پر تنقید کی تھی۔ یہ ایسے وقت ہوا جب حکومت معاشی اصلاحات کے ایک اہم مرحلے سے گزر رہی تھی اور ان اصلاحات کو مخلوط حکومت کے مستقبل کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا۔ باس کے قریبی خاندان میں موت کا واقعہ معلوم ہونے کے باوجود ان کی غیر حاضری کو سیاسی تنقید کا موضوع بنایا گیا۔
باس کا استعفیٰ جرمنی کی مخلوط حکومت کے لیے ایسے وقت سامنے آیا ہے جب معاشی اصلاحات، حکومتی کارکردگی اور اتحادی جماعتوں کے درمیان اعتماد پہلے ہی اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ ان کی علیحدگی سے سوشل ڈیموکریٹک پارٹی اور کرسچن ڈیموکریٹک یونین کے تعلقات پر بھی دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
یہ واقعہ جرمن سیاست میں سیاسی اختلافات اور ذاتی صدمے کے درمیان حد بندی کے سوال کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ باس نے اپنی علیحدگی کی وجہ صرف خاندانی غم نہیں بلکہ اس دوران جاری سیاسی حملوں کو بھی قرار دیا ہے۔ ان کی رخصتی اب حکومت کے لیے ایک نئے امتحان کی حیثیت رکھتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب معاشی اصلاحات پر اتفاق رائے برقرار رکھنا اس کی بقا کے لیے اہم ہے





