Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

زوہران ممدانی:نیو یارک میں خصوصی تعلیم کا ایک ارب ڈالر سے بڑا بحران،بجٹ بچانے اور دوسری مدت کی تیاری کا امتحان

زوہران ممدانی:نیو یارک میں خصوصی تعلیم کا ایک ارب ڈالر سے بڑا بحران،بجٹ بچانے اور دوسری مدت کی تیاری کا امتحان

نیو یارک کے میئر زوہران ممدانی کو عہدہ سنبھالے ابھی ایک سال بھی مکمل نہیں ہوا، لیکن وہ اپنی دوسری مدت کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کا آغاز کر چکے ہیں،سوشل میڈیا پر اپنی اپیل میں ممدانی نے کہا ہے کہ ان کے مخالفین انہیں صرف ایک مدت تک محدود رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے اپنے حامیوں سے آئندہ انتخاب کے لیے ابھی سے مالی مدد مانگی ہے،ان کی اپیل میں پانچ یا دس ڈالر جیسے چھوٹے عطیات دینے کی درخواست بھی شامل ہے،لیکن دوسری مدت کے سیاسی دعووں کے ساتھ ہی میئر کو نیو یارک کے ایک ایسے تعلیمی بحران کا سامنا ہے جس پر شہر ہر سال ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کر رہا ہے، اور جس کا حل نکالنا ان کے لیے مالیاتی نظم و نسق اور انتخابی وعدوں دونوں کا امتحان بن سکتا ہے
امریکی جریدے پولیٹیکو کی رپورٹ کے مطابق، نیو یارک سٹی خصوصی تعلیمی ضروریات رکھنے والے بچوں کے لیے نجی اسکولوں کی فیس، متعلقہ خدمات اور قانونی مقدمات کے اخراجات کی مد میں سالانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ ادا کر رہا ہے،یہ اخراجات ایسے وقت بڑھ رہے ہیں جب شہر کو بجٹ کے بڑے خسارے کا سامنا ہے اور ممدانی انتظامیہ کو اپنے مہنگے سماجی اور تعلیمی منصوبوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے ہیں،اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ سرکاری اسکول بہت سے بچوں کو قانون کے تحت درکار خصوصی تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہیں، جس کے بعد خاندان نجی اداروں کا رخ کرتے اور فیس کی واپسی کے لیے قانونی کارروائی کرتے ہیں
پولیٹیکو کے مطابق، ان مقدمات کو عموماً ’’کارٹر کیسز‘‘ کہا جاتا ہے،ان کا تعلق ایسے خاندانوں سے ہے جو یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ سرکاری اسکول ان کے معذور بچوں کو مطلوبہ تعلیم اور سہولتیں فراہم نہیں کر سکے، اس لیے انہیں نجی اسکول میں داخلہ دلانا پڑا اور اس کے اخراجات شہر کو ادا کرنے چاہییں،ایسے معاملات میں والدین قانونی طریقہ کار کے ذریعے فیس کی واپسی کا مطالبہ کر سکتے ہیں،امریکی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے نے مخصوص حالات میں نجی خصوصی تعلیم کے اخراجات کی واپسی کے اس حق کو تسلیم کیا تھا
اعدادوشمار اس مسئلے کی شدت واضح کرتے ہیں،پولیٹیکو کے مطابق، ان قانونی دعوؤں پر شہر کے اخراجات 2005 میں 47 ملین ڈالر تھے، جو مالی سال 2016 میں بڑھ کر 312 ملین ڈالر ہو گئے، جبکہ گزشتہ سال یہ رقم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی،شہر کے بجٹ میں ان اخراجات کا بڑھنا محض مالیاتی مسئلہ نہیں بلکہ سرکاری تعلیمی نظام کی کارکردگی پر بھی سوال ہے،اگر سرکاری اسکول بچوں کی ضروریات پوری کر سکیں تو بعض خاندانوں کو نجی اداروں اور طویل قانونی کارروائیوں کا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے
ممدانی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا پائیدار حل سرکاری اسکولوں میں خصوصی تعلیم کی صلاحیت بڑھانا ہے،حکومت خصوصی تعلیمی پروگراموں کو وسعت دے رہی ہے، بچوں کی تعلیمی ضروریات کے جائزے میں تاخیر کم کرنے کے لیے عملہ بڑھا رہی ہے اور پری اسکول کی سطح پر خصوصی تعلیم میں سرمایہ کاری کر رہی ہے،انتظامیہ کو توقع ہے کہ ان اقدامات اور مقدمات کے انتظام میں تبدیلیوں کے ذریعے سالانہ 149 ملین ڈالر کی بچت کی جا سکے گی
ممدانی کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ نئی سرمایہ کاری کے نتائج کتنی جلد سامنے آتے ہیں،اگر سرکاری نظام بچوں کو مطلوبہ سہولتیں فراہم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو خاندانوں کو بہتر تعلیمی مواقع مل سکتے ہیں اور شہر کے اخراجات میں بھی کمی آ سکتی ہے،لیکن اگر نئی خدمات کی فراہمی میں تاخیر جاری رہی تو قانونی دعوؤں اور نجی تعلیم کے اخراجات میں اضافے کو روکنا مشکل ہوگا،اس لیے اس پالیسی کی کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ بجٹ میں کتنی بچت دکھائی گئی، بلکہ یہ بھی ہوگا کہ کتنے بچوں کو بروقت اور معیاری خصوصی تعلیم میسر آئی
اس مسئلے کا ایک دوسرا پہلو سماجی عدم مساوات ہے،تعلیمی حقوق کے لیے قانونی کارروائی کرنا ہر خاندان کے لیے یکساں آسان نہیں،بعض والدین وکیل کرنے، نجی اسکول کی فیس پہلے ادا کرنے اور طویل مقدمہ لڑنے کی مالی استطاعت رکھتے ہیں، جبکہ کم آمدنی والے خاندان ان مراحل سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں،یوں ایسا نظام، جس کا مقصد معذور بچوں کے حقوق کا تحفظ ہے، عملی طور پر ان خاندانوں کے لیے زیادہ قابل رسائی ہو سکتا ہے جن کے پاس زیادہ مالی وسائل اور قانونی معاونت موجود ہے
شہر کے لیے سوال یہ بھی ہے کہ کیا خصوصی تعلیم کی خدمات کو بہتر بناتے ہوئے اخراجات میں کمی لائی جا سکتی ہے، بغیر اس کے کہ بچوں کے قانونی حقوق یا تعلیمی معیار متاثر ہوں،اس کا جواب انتظامیہ کی کارکردگی، خدمات کی دستیابی، بچوں کی ضروریات کے درست جائزے اور شفاف نگرانی سے جڑا ہوا ہے،محض مقدمات کی تعداد کم کرنے کا ہدف کافی نہیں ہوگا، اگر اس کے نتیجے میں خاندانوں کو مطلوبہ تعلیم حاصل کرنے میں مزید مشکلات پیش آئیں
ممدانی کی دوسری مدت کے لیے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوششیں اسی بڑے پس منظر میں اہم ہو جاتی ہیں،ان کے حامی ان کے وعدوں اور اصلاحاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے وقت اور وسائل دینے کے حق میں ہو سکتے ہیں، جبکہ ناقدین یہ سوال اٹھا سکتے ہیں کہ کیا انتظامیہ موجودہ مالی مشکلات کے باوجود اپنے منصوبوں پر مؤثر عمل درآمد کر سکے گی،لیکن اس بحث کا فیصلہ صرف سیاسی بیانات یا انتخابی عطیات سے نہیں ہوگا،نیو یارک کے شہریوں کے لیے زیادہ اہم یہ ہوگا کہ سرکاری اسکولوں کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے یا نہیں، خصوصی ضروریات رکھنے والے بچوں کو بروقت سہولتیں ملتی ہیں یا نہیں، اور ایک ارب ڈالر سے زیادہ کے سالانہ اخراجات میں قابلِ پیمائش بہتری آتی ہے یا نہیں
ممدانی کے لیے یہ بحران ایک ہی وقت میں تعلیمی اصلاحات، بجٹ کی بچت اور عوامی اعتماد کا امتحان ہے،اگر ان کی انتظامیہ سرکاری تعلیمی نظام کو بہتر بنا کر خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو اس سے بچوں کو فائدہ پہنچنے کے ساتھ شہر کے مالی دباؤ کو کم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے،لیکن اگر وعدوں اور عملی نتائج کے درمیان فاصلہ برقرار رہا تو یہی مسئلہ ان کی حکمرانی اور آئندہ انتخابی دعوؤں پر سوالات اٹھاتا رہے گا

قومی خبریں سے مزید