گورنر راج کے خلاف تحریک انصاف اور اتحادیوں کا احتجاج، ’’دہشت گردی کا بیانیہ لانگ مارچ روکنے کے لیے بنایا گیا‘‘، مذاکرات کی 15 ملاقاتوں اور دو روزہ مذاکرات کی تفصیلات سامنے رکھ دیں
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف اور اس کے اتحادی رہنماؤں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو آئین، قانون، جمہوری حقوق اور صوبائی خودمختاری کے منافی قرار دیا ہے،مشترکہ پریس کانفرنس میں بیرسٹر گوہر علی خان، سلمان اکرم راجہ ، علامہ عباس اور دیگر رہنماؤں نے دعویٰ کیا کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ لانگ مارچ کے معاملے پر مذاکرات کے دوران دہشت گردی کے خلاف تعاون کا سوال اچانک اٹھایا، حالانکہ ان کے مطابق 2 اکتوبر سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں میں یہ معاملہ مذاکرات کی بنیاد نہیں تھا،رہنماؤں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اور یکساں پالیسی کی حمایت کی جاتی ہے، لیکن اس مسئلے کو منتخب صوبائی حکومت ختم کرنے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا
پریس کانفرنس میں مقررین نے کہا کہ پاکستان کی صوبائی خودمختاری کی تاریخ میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی صوبائی حکومت کے خلاف اس نوعیت کا اقدام غیر معمولی ہے،ان کے بقول، ایمرجنسی کی آڑ میں گورنر راج نافذ کرنا جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے؟تحریک انصاف کے رہنماؤں نے وفاقی حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والے اس تاثر کو مسترد کیا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون نہیں کر رہی،ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری جماعت ہے اور اس نے ہمیشہ دہشت گردی کے خلاف آواز اٹھائی ہے
رہنماؤں نے وفاقی حکومت سے سوال کیا کہ اگر گرفتاریوں اور سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد دہشت گردی روکنا ہے تو پھر تحریک انصاف کے رہنماؤں، کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کی کیا وضاحت ہے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پارٹی کے چیئرمین عمران خان کی بہنوں اور ایک کزن کو گرفتار کیا گیا، جبکہ ان کے مطابق بعض افراد کو کوٹ لکھپت اور اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے،انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف کے تقریباً 1,500 کارکن پنجاب کی جیلوں میں ہیں اور ایک ماہ کے دوران بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئیں،ان کا سوال تھا کہ ان گرفتاریوں کا دہشت گردی کی روک تھام سے کیا تعلق ہے؟
پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ تحریک انصاف کے 10 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، جن میں تین وزرا بھی شامل بتائے گئے، کو فائرنگ کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ آٹھ ارکان قومی اسمبلی کی گرفتاریوں کا بھی ذکر کیا گیا،مقررین نے ان واقعات کو ریاستی طاقت کے استعمال کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک نے ایک ریاستی دستور کے عملی مظاہرے کا مشاہدہ کیا ہے،
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کہا کہ ان کی جماعت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر اور مشترکہ لائحہ عمل کی حامی ہے، لیکن اس مقصد کے لیے تمام صوبوں کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے،ان کے مطابق، اگر دہشت گردی کے باعث صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کی ضرورت تھی تو پھر پورے صوبے میں گورنر راج کیوں نافذ کیا گیا؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ ایمرجنسی کے نفاذ اور منتخب کابینہ کی تحلیل کو ایک ہی اقدام کے طور پر کیوں پیش کیا گیا، جبکہ ان کے بقول ایمرجنسی نافذ ہونے سے کابینہ خودبخود تحلیل نہیں ہوتی،ان کا کہنا تھا کہ دو تہائی اکثریت رکھنے والی منتخب صوبائی حکومت کو ختم کرنے کے فیصلے کی آئینی بنیاد واضح کی جانی چاہیے
لانگ مارچ کے اعلان کی وجوہات بیان کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ تحریک انصاف نے یہ قدم اس وقت اٹھایا جب عمران خان سے ملاقات، ان کی صحت اور علاج کے حوالے سے مطالبات پر کوئی قابلِ قبول پیش رفت نہیں ہوئی،ان کے مطابق، عمران خان کو ہسپتال منتقل کرنے اور ان کے حالاتِ زندگی سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا،رہنماؤں نے کہا کہ ان مطالبات کو صرف اس بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ عمران خان سابق وزیرِاعظم اور ایک بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں،ان کا مؤقف تھا کہ سابق وزیرِاعظم ہونے یا سیاسی حیثیت سے قطع نظر، عمران خان کو عام قیدی کے طور پر قانون میں دیے گئے حقوق تو کم از کم ملنے چاہییں
پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ تحریک انصاف کے مطابق اس معاملے پر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے متعدد مرتبہ رجوع کیا گیا، لیکن مطلوبہ ریلیف نہیں ملا،بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں 19 مرتبہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا ذکر کیا، جبکہ بعد میں 25 مرتبہ ہائی کورٹ جانے کی بات بھی کی،ان کے بقول، پارلیمنٹ میں بھی بار بار آواز اٹھائی گئی، مگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث لانگ مارچ کا اعلان کرنا پڑا،انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو لانگ مارچ کی کال دینا کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے آسان فیصلہ نہیں تھا، لیکن ان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی مؤثر راستہ باقی نہیں رہا تھا
مذاکرات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ لانگ مارچ کے اعلان کے بعد حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان مجموعی طور پر 15 ملاقاتیں ہوئیں اور دو روز تک باقاعدہ مذاکرات بھی جاری رہے،انہوں نے کہا کہ ان ملاقاتوں میں ہونے والی گفتگو کا تحریری ریکارڈ ان کے پاس موجود ہے اور وہ ان افراد کو چیلنج کرتے ہیں جو مذاکرات میں شریک تھے کہ اگر ان کے بیان سے اختلاف ہے تو سامنے آکر حقائق بیان کریں،ان کے مطابق، 2 اکتوبر سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں میں دہشت گردی کے معاملے کو اس انداز میں نہیں اٹھایا گیا تھا جس انداز میں بعد میں اسے صوبائی حکومت کے خلاف مؤقف کا حصہ بنایا گیا
مقرر نے کہا کہ مذاکرات کے ابتدائی مرحلے میں ہی حکومتی نمائندوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشت گردی کے خلاف تعاون نہیں کر رہی،اس پر انہوں نے ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ تحریک انصاف حکومت کے ساتھ غیر مشروط طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھی تھی تاکہ لانگ مارچ کے مطالبات کا حل نکالا جا سکے، لیکن اچانک گفتگو کو صوبائی حکومت اور دہشت گردی کے معاملے کی طرف موڑ دیا گیا،ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو پہلے اپنا ایجنڈا واضح کرنا چاہیے تھا، کیونکہ تحریک انصاف کی توقع یہ تھی کہ مذاکرات میں لانگ مارچ اور عمران خان سے ملاقات سمیت دیگر مطالبات پر بات ہوگی
خیبر پختونخوا حکومت کے دفاع میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی حکومت نے پولیس کے وسائل اور استعداد بڑھائی ہے اور وفاق کے ساتھ متعلقہ اجلاسوں میں شرکت کی ہے،انہوں نے سوال کیا کہ وفاقی یا صوبائی ایپکس کمیٹی کا کون سا اجلاس ایسا تھا جس میں وزیرِ اعلیٰ نے شرکت نہ کی ہو؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ایسی مثال سامنے لائی جائے جب صوبائی حکومت سے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے فنڈز مانگے گئے ہوں اور اس نے انکار کیا ہو،انہوں نے وفاقی حکومت کے اس الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض سیاسی مقاصد کے لیے بیانیہ بنانے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے
پریس کانفرنس میں رہنماؤں نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ دہشت گردی کو لانگ مارچ روکنے اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا گیا،ان کے مطابق، اگر واقعی بنیادی مسئلہ دہشت گردی تھا تو اس کے حل کے لیے صوبائی حکومت کے ساتھ تعاون، وسائل کی فراہمی اور مشترکہ حکمت عملی پر توجہ دی جانی چاہیے تھی، نہ کہ منتخب حکومت کے اختیارات ختم کیے جاتے،انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واضح کرے کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلے کے لیے کون سے مخصوص حالات اور آئینی وجوہات بنیاد بنے
پریس کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے مؤقف کا بھی حوالہ دیا گیا،مولانا فضل الرحمان نے اس معاملے پر حکومت کے طرزِعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صوبے میں گورنر راج کے نفاذ سے جوڑنے پر سوالات اٹھائے تھے،تحریک انصاف کے رہنماؤں نے بھی مذاکرات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے یہ مؤقف اپنایا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون اور سیاسی مطالبات پر مذاکرات دو الگ معاملات تھے، جنہیں بعد میں ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا گیا
مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں، خصوصاً پشاور اور مردان، میں احتجاج، ہنگامہ آرائی اور سڑکوں پر آگ لگانے کے واقعات سے متعلق اطلاعات اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے لگیں،ان ویڈیوز کے ساتھ مختلف مقامات پر احتجاج اور سڑکوں کی بندش کے دعوے بھی کیے گئے۔ تاہم، ان واقعات کے مقام، وقت، شدت اور پس منظر کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ، مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے ان واقعات کی مکمل تفصیلات اور نقصانات کے بارے میں مستند معلومات سامنے آنے کے بعد ہی صورت حال کی واضح تصویر بن سکے گی
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے نے وفاق اور صوبے کے تعلقات، آئینی اختیارات، دہشت گردی کے خلاف پالیسی اور سیاسی مذاکرات کے مستقبل پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے،تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اس اقدام کو سیاسی اور آئینی حقوق پر حملہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ وفاقی حکومت کا مؤقف دہشت گردی اور امن و امان سے متعلق خدشات پر مبنی ہے،اس تنازعہ کا فیصلہ کن پہلو یہ ہوگا کہ گورنر راج کے لیے پیش کی جانے والی آئینی وجوہات، مذاکرات میں ہونے والی گفتگو اور دہشت گردی کے خلاف صوبائی تعاون سے متعلق دعووں کو کس حد تک قابلِ تصدیق شواہد سے ثابت کیا جاتا ہے






