Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

مولانا فضل الرحمان کا زرداری حکومت ،جمہوریت پر شب خون مارنے کا الزام،دہشت گردی کی آڑ میں خیبر پختونخوا حکومت ختم کی گئی، مذاکرات میں شہباز شریف کے اختیار پر بھی سوال اٹھا دیا

مولانا فضل الرحمان کا زرداری حکومت ،جمہوریت پر شب خون مارنے کا الزام،دہشت گردی کی آڑ میں خیبر پختونخوا حکومت ختم کی گئی، مذاکرات میں شہباز شریف کے اختیار پر بھی سوال اٹھا دیا

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو جمہوری حق پر شب خون قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اس فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ، عدالت اور عوامی سطح پر مزاحمت کرے گی،انہوں نے الزام لگایا کہ وفاقی حکومت نے تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور لانگ مارچ ختم کرانے کی کوششوں کے باوجود اپنا مؤقف بدل لیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صوبائی حکومت ختم کرنے کے جواز کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے
11 اکتوبر 2026 کو پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی اور آصف علی زرداری کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، انکا کہنا تھا، یہ بڑی عجیب بات ہے تیسری یا چوتھی مرتبہ ہے صوبوں کے اختیارات پر جب بھی “ انہوں “ نے شب خون مارا گیا آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کی حکومت موجود ہوتی ہے ان کے بیان کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ جو سیاسی جماعتیں خود کو جمہوریت کی علمبردار قرار دیتی ہیں، ان کے دور میں بھی صوبائی حکومتوں کے اختیارات ختم کرنے جیسے اقدامات سامنے آتے رہے ہیں،انہوں نے اس طرز عمل کو جمہوری اصولوں کے منافی قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گی
مولانا کے مطابق، انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے ملاقات میں حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تعطل ختم کرانے کی تجویز پیش کی تھی؟ان کا کہنا تھا کہ حکومت چاہتی تھی کہ پہلے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ ختم کیا جائے، جبکہ تحریک انصاف کا مطالبہ تھا کہ عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور ان کی ہسپتال منتقلی سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کیا جائے،دونوں جانب سے پہلے قدم اٹھانے کے مطالبے کے باعث مذاکرات میں رکاوٹ تھی
مولانا فضل الرحمان نے بتایا کہ انہوں نے دونوں فریقوں سے بات کرکے معاملہ آگے بڑھانے کی کوشش کی،ان کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت تحریک انصاف کی قیادت سے کانفرنس کال پر رابطہ کیا گیا،انہوں نے سہیل آفریدی سے پوچھا کہ اگر عمران خان سے ملاقات اور علاج کی سہولت کے مطالبات تسلیم کرلیے جائیں تو کیا لانگ مارچ ختم کردیا جائے گا؟ مولانا کے مطابق، سہیل آفریدی نے اس پر آمادگی ظاہر کی
مولانا کا کہنا تھا کہ وہ اتوار کی صبح وزیرِ اعظم ہاؤس گئے اور شہباز شریف کو بتایا کہ تحریک انصاف مطالبات تسلیم ہونے کی صورت میں لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے،ان کے مطابق، وزیرِ اعظم نے اس معاملے کو کابینہ کے اجلاس میں زیرِ بحث لانے کی بات کی، لیکن اسی دوران انہیں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی طرف سے اطلاع ملی کہ حکومت دہشت گردی کی صورت حال کے پیش نظر خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے،مولانا نے اسے مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے مؤقف تبدیل کرنے کے مترادف قرار دیا
مولانا فضل الرحمان نے اسحاق ڈار سے اپنے مبینہ مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر ایمرجنسی کا بنیادی سبب دہشت گردی ہے تو بلوچستان میں بھی امن و امان کی صورت حال سنگین ہونے کے باوجود وہاں اسی نوعیت کا اقدام کیوں نہیں کیا گیا؟ ان کے بقول، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنا دو الگ معاملات ہیں، جنہیں ایک دوسرے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے،انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد شروع ہونے والی امریکی جنگ کی بھی مخالفت کی تھی اور وہ ایسے اقدامات قبول نہیں کریں گے جنہیں وہ امتیازی یا جابرانہ سمجھتے ہیں
مولانا نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مذاکراتی اختیار پر بھی سوال اٹھایا،انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم سے پوچھا جانا چاہیے کہ وہ مذاکرات میں کس حد تک بااختیار تھے،ان کے بیان میں نامعلوم فیصلہ سازوں کا حوالہ بھی شامل تھا، جس کے ذریعے انہوں نے یہ تاثر دیا کہ اہم فیصلے کرنے والے تمام کردار عوام کے سامنے نہیں ہیں،
وفاقی حکومت نے دوسری جانب ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملوں، امن و امان کی صورت حال اور صوبائی حکومت کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے معاملات پر اختلافات کو اس فیصلے کی وجوہات قرار دیا ہے۔ وفاقی وزرا کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر تعاون کرنا چاہیے تھا،وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے بھی صوبے کی صورت حال کو سنگین قرار دیا،دوسری جانب تحریک انصاف ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور وفاقی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کرتی ہے
یہ تنازعہ صرف گورنر راج تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے پیچھے صوبائی خودمختاری، انسدادِ دہشت گردی کی حکمت عملی اور وفاق و صوبے کے درمیان سیاسی اختیار کی کشمکش بھی نمایاں ہوگئی ہے،مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت اس فیصلے کے خلاف عوامی رابطہ مہم چلائے گی، پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرے گی اور عدالت سے بھی رجوع کرے گی،یوں ان کی پریس کانفرنس نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان تعطل ختم کرانے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کے فیصلے کی آئینی اور سیاسی حیثیت پر بھی ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے

قومی خبریں سے مزید